گلوں سے شاخ ِصبا بغل گیر ہوگئی تھی
کلی کلی کی زبان شمشیر ہوگئی تھی
قدم قدم پر سیا ستوں کے غلام تھے گُل
چمن چمن تتلیوں کی تقریر ہوگئی تھی
میان میں تھی ہماری تلوار اب سے پہلے
زبان خنجر نہیں تھی، زنجیر ہوگئی تھی
فسانہ پڑھتے ہو کیا میری لوح ِچشم تر سے
ہر اک کہانی کہاںپہ تحریر ہوگئی تھی
کسی کے ہاتھوں یہ اک تحر یر تھی حنائی
حنا حنا سی ہماری تقدیر ہوگئی تھی
صلیب پر آنکھ کی چڑھا تھا جنون سا کچھ
اُداس نسلوں کی کوئی تشہیر ہوگئی تھی
صبا نے چوما تھا ریت پر نام گُل کا عادلؔ
ہو ا کے ہاتھوں سے کوئی تقصیر ہوگئی تھی
اشرف عادلؔ
کشمیر یونیورسٹی،حضرت بل سرینگر
موبائل:9906540315
غـــــزلــــــــیـات
گلشن خنک خنک ہے بیاباں تپاں تپاں
لمحہ بہ لمحہ رنگ بدلتا ہے آسماں
دیر وحرم کے قمقمے روشن کئے دل نے
نامہرباں ہے خود پہ ابھی یارِ مہرباں
دل تک پہنچ گئے جو برہمن کی شیخ ہوں
اِک آبلہ پہ ختم ہوئی سب کی داستان
خانہ نشیں رہوں میں کہ سیر وسفر کروں
کہتے ہیں، آدمی کو ہی جانا ہے رائیگاں
آسن لگاکے بیٹھ گئے شب گزیدہ لوگ
اِس مفلسی میں بھی نہ جلی شمعِ آستاں
اچھا میں آسماں ہوں، زمیں ہوں، زمانہ ہوں؟
لینا ہے کیوں قدم بہ قدم میرا امتحان!
دل بند، خوش پسند، جہاں گرد و درد مند
سب کو زمین بوس کئے مرگِ ناگہاں
گویا عجب معاملہ اہلِ زباں کا ہو!
پاشاجیاؔ خموش، خموشی ہے ایں دآں
پاشاجیؔ
گورنمنٹ ڈگری کالج ہندوارہ
موبائل نمبر9596555312
اپنے دِل پرچوٹ سی ہے کھائی کیوں
بات ایسی اُس نے ہے دُہرائی کیوں
میں نے اُس کوبے وفا کہہ تودیا
یہ شکایت میرے لب پرآئی کیوں
دِل پریشاں ہے یہ کِس کے واسطے
زندگی میں اتنی ہے تنہائی کیوں
تُو نے آخر ایسا کیا جادو کیا
ہوگیایہ دِل ترا شیدائی کیوں
کِس لئے چُپ سا رہااُس کاضمیر
بات اُس نے حق کی ہے جھٹلائی کیوں
کِس لئے رہتاہے گھرمیں انتشار
لڑتے ہیں آپس میں بھائی بھائی کیوں
اُس نے بازی جیتی ہے اکثرہتاشؔ
اسقدر میری ہوئی پسپائی کیوں
پیارے ہتاشؔ
رابطہ نمبر:،جموں:8493853607
برائی کی راہ پر نہ چلنا کبھی
سچائی کی راہ سے نہ ہٹنا کبھی
گِرو جتنی اونچائی سے تم مگر
کسی کی نظر میں نہ گرنا کبھی
آئے کتی بھی راہ میں رکاوٹ مگر
حق پہ چلنے سے ہر گز نہ رکنا کبھی
کھڑے ہو حمائت پہ مظلوم کی
ظالم کے آگے نہ جھکنا کبھی
برائی کا بدلہ اچھائی سے دو
برائی کسی سے نہ کرنا کبھی
زندگی میںکہین پر بھی انسان کے
درد کا کوئی کادن نہ بننا کبھی
تعلق اگر ہو کسی سے تمہیں
تو ترکِ تعلق نہ کرنا کبھی
مشکلیں چاہے جتنی بھی آئیں مگر
لڑو اِن سے ڈٹ کر نہ ڈرنا کبھی
خورشیدؔن ہر گز کسی کے لئے
کڈواہٹ کو دل میں نہ رکھنا کبھی
سید خورشید حسین خورشیدؔ
چھمکوٹ کرناہ، موبائل؛ 9596523223
اہلٍ ثروت کا اگر جرم اجاگر ہوگا
مجھ کو معلوم ہے الزام مرے سر ہوگا
جس طرح مجھ کو رلایا ہے ستمگر تونے
تو بھی روئے گا تو انصاف برابر ہوگا
جانے پہچانے نظر آتے ہیں سارے چہرے
بام و در دیکھ لے شاید یہ ترا گھر ہوگا
آج اسی شخص نے چھینی ہے ہنسی پھولوں کی
وہ جو کہتا تھا کہ آنگن میں صنوبر ہو گا
میں نہ رکھتا ترے قدموں میں کبھی سر اپنا
مجھ کو معلوم اگر ہوتا تو پتھر ہو گا
جو نہیں جانتا مہتابؔ وفا کے معنی
شاذ ہی مہر و مروت کا وہ خوگر ہوگا
بشیر مہتابؔ
رابطہ؛رام بن،موبائل نمبر؛ 9596955023
بوجھ غیروں کا تھا جو سر پہ اُٹھانے والا
اب وہی شہر کو ٹھہرا ہے جلانے والا
کیا خبر تھی مجھے شامل ہے یہی سازش میں
سوئے مقتل مجھے لایا ہے بچانے والا
یہ تو اک لہر تھی جو تجھ کو ڈبو کے نکلی
تو ہی تھا میرے سفینے کو بچانے والا
آگ وہ کیسی لگی تھی یہ میں کس سے پوچھوں
کہ کوئی بھی نہ بچا ہے یہ بتانے والا
راشکؔ اب میری زیارت کو وہی آتا ہے
کل جو تھا شخص مری ہستی کو مٹانے والا
راشکؔ اعظمی
(طالب علم شعبہ ٔ اُردو،کشمیر یونیورسٹی)
رابطہ:9697763697
نظم
اے عرش والے فرش کا یہ حال دیکھ لے
ہم بندے تیرے غم سے ہیں نِڈھال دیکھ لے
ہیں اپنی خطائوں پہ شرم سار ہم سبھی
اے رحم والے رَبِ ذوالجلال دیکھ لے
شرم و حیاّ اُٹھا کے اب رکھے ہیں کس طرح
قدموں تلے یہ وقت کے دَجال دیکھ لے
آرام سے حرام اُترتا ہے گلے سے
ہوتا نہیں ہے ہضم اب حلال دیکھ لے
ہو کے سوار رسموں کے گھوڑے پہ ہم چلے
رو کے ہمیں! یہ کِس کی ہے مجال دیکھ لے
خاتونِ مشرقی کو بھی عُریاں کردیا
مغرب کے فیشنوں کا یہ کمال دیکھ لے
باہر کے اِشاروں پہ ہمارے یہ حکمران
کھینچے ہیں کیسے بے بسوں کی کھال دیکھ لے
اُلجھا نہ ہوتا آج ہمارا یہ مسئلہ
خود غرض ہیں سَب بیچ کے دَلال دیکھ لے
اے مجید وانی
رابطہ؛احمد نگر سرینگر
موبائل نمبر؛9697334305