بغداد// امریکی صدر غیراعلانیہ طورعراق پہنچ گئے اور اعلان کیا کہ امریکا کا عراق سے فوج نکالنے کا ہرگز کوئی ارادہ نہیں۔ حال ہی میں شام سے فوج کے انخلا کا عندیہ دینے والے ٹرمپ کا بحیثیت صدر یہ کسی جنگ زدہ علاقے کا پہلا دورہ ہے۔ امریکی صدر اہلیہ ملینیا ٹرمپ کے ہمراہ واشنگٹن سے عراق پہنچ گئے اور 15سال سے عراق میں موجود امریکی فوجیوں سے ملاقات کی۔ ترجمان نے ٹوئٹر پر تصویر شیئر کی جس میں انہیں اور اہلیہ ملینیا کو یونیفارم میں موجود فوجیوں کے ساتھ کرسمس مناتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ ٹرمپ امریکی صدور کی جانب سے افغانستان، عراق اور شام میں فوج کشی کو بھیانک غلطی قرار دیتے ہوئے افغانستان اور شام سے فوج کے انخلا کا عندیہ دے چکے ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں افغانستان سے 14ہزار فوجیوں کے ساتھ ساتھ شام میں موجود 2ہزار فوجیوں کے انخلا کا حکم دیا ہے البتہ انہوں نے عراق میں موجود تقریباً 5ہزار فوجیوں کی ملک واپسی کے امکان کو رد کردیا۔ خبر رساں ایجنسی کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ میں شام سے امریکی فوجیوں کو واپس بلانا چاہتا ہوں اور اگر ضرورت پڑی تو داعش پر حملے کے لیے عراق کو فوجی اڈے کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ٹرمپ نے اپنے ہمراہ سفر کرنے والے صحافیوں کو بتایا کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکا داعش پر اتنی تیز اور جارحانہ انداز میں حملہ کرے گا کہ انہیں پتہ بھی نہیں چلے گا کہ ان کے ساتھ ہوا کیا ہے۔ شام سے امریکی فوج واپس بلانے کے فیصلے نے امریکی سیکیورٹی مشیروں کے ساتھ ساتھ عراق سمیت اتحادیوں کو بھی دنگ کردیا تھا اور اس کے بعد سیکریٹری دفاع جم میٹس نے استعفیٰ دے دیا تھا۔
ٹرمپ-عبدالمہدی کے درمیان میٹنگ منسوخ
قاہرہ//عراق کے وزیر اعظم عادل عبدالمہدی اور امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ہونے والی میٹنگ منسوخ ہو گئی ہے ۔اس سلسلہ میں عراقی حکومت نے مذاکرات کے رد ہونے کی وجہ اختلاف بتائی ہے اور اس نے فون کرکے اجلاس میں شامل ہونے سے انکار کر دیا۔ عراق کے سرکاری میڈیا نے ایک بیان میں کہا کہ کابینہ، وزیر اعظم مہدی اور مسٹر ٹرمپ کے درمیان ہونے والی بات چیت طے تھی۔ لیکن، مذاکرات پر اختلاف کی وجہ سے اسے فون کر کے منسوخ کر دیا گیا۔یو این آئی