دنیا کی تاریخ اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہے ہر قوم کو منزل تک پہنچانے میں سیاسی، سماجی شخصیات کے ساتھ مفکرین ور ماہرین کے ساتھ ساتھ نوجوان نسل کا بھرپور تعاون حاصل ہوتا ہے۔ جو اپنے اندر کی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر اپنے ملک کی خدمت کرسکتے ہیں اور ترقی کی نئی راہیں ہموار کرنے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔ اس سلسلے میں ہماری نوجوان نسل عرصۂ درازسے آنے والی حکومتوں سے یہ امید لگائے رہی کہ ایسے جامع قوانین اور تعلیمی پالیسیاں نوجوانوں کے لحاظ سے مرتب کی جائیں گی جن سے دوررس اور خوش آئند نتائج سامنے آئیں گے۔
ہمارے معاشرے میں مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی ایک بڑی کثیر تعداد موجود ہے، جن کے اندر عدم مساوات، وسائل کی ناقص منصوبہ بندی اور معاشرتی ناہمواری کی تقسیم نے ایک ہیجان کی سی کیفیت میں مبتلا کیا ہے۔دیہی اور شہری معاشرتی نظام نے نوجوانوں کے اندر مختلف طرح کی احساس کمتری پیدا کردی ہے۔ معاشرےمیں نوجوان نسل کی کثیر تعداد دیہی علاقوں میں رہتی ہے۔ وہاں کے نوجوانوں کی ایک خاصی تعداد تعلیم سے نابلد ہیں لیکن وہاں کے باشعور نوجوانوں کی خواہش ہے کہ ان کے گائوں میں معیاری سرکاری اسکول، کالج، اسپتال اور ڈسپنسری وغیرہ قائم ہوں ، بجلی اور صاف پانی عوام الناس کو میسر آئے، تاکہ مقامی باشندے بنیادی سہولیات اور ضروریات زندگی سے استفادہ حاصل کرسکیں لیکن ایسا ہر گائوں میں ممکن نہیں ہے ،اس کی وجہ وہاں کا روایتی اور قدیم نظام ہے جو بااثر خاندانوں اور افراد کے بنائے ہوئے اصولوں اور قانون پر مبنی ہے۔ان خاندانوں کے نوجوان اپنے اثر و وثوق کے ساتھ آگے بڑھ جاتے ہیں، جبکہ غریب اور مفلس حال نوجوان اُسی تنگ دستی کے حالات میں اپنی زندگی بسر کرنے پر مجبورہیں۔
المیہ یہ ہے کہ جس طرح ایشیائی ممالک کے دیہی علاقے اور دیہات ہیں ،جہاں نوجوانوں کو دیہی زندگی کے فروغ کے لئے مختلف طرح کے مراکز قائم کئے جاتے ہیں انہیں وہ ابتدائی معلومات اور ان کی مقامی زبان میں ہی بتائی جاتی ہیں اورسکھانے کے لئے تربیتی مراکز قائم کئے جاتے ہیں۔ ہمارے یہاں ایسا کوئی باقاعدہ منظم طریقہ کار نہیں ہے، چنانچہ دیہی علاقوں سے وابستہ نوجوان جب شہروں سے پڑھ کر واپس گائوں آتے ہیں تو وہ چاہتے ہیں کہ ان کے گائوں اور دیہات میں بھی ترقی کا پہیہ چلے اور پرانے فرسودہ نظام کی جگہ نت نئی مشینری کے ذریعے زراعت کے شعبہ میں تبدیلی واقع ہو، یہیں سے طبقاتی نظام میں شعوری تبدیلی کی ہوا نمودار ہوتی ہے۔
طبقاتی کشمکش میں تعلیم کا کردار بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ تعلیم ہی وہ واحد ذریعہ ہے، جس سے انسان کے اندر شعور بیدار ہوتا ہے اور وہ معاشرے میں موجود طبقاتی نظام کے خلاف آواز اٹھا سکتا ہے اور ساتھ ساتھ اپنی ذات کے علاوہ ، خاندان اور ملک و قوم کی ترقی میں بھی بھرپور کردار ادا کرسکتا ہے۔ جموں و کشمیر میں آج بھی دور دراز پہاڑی علاقوںمیں تعلیم کے فقدان کی کئی وجوہات ہیں جن میں غربت، بے روزگاری،اور نظامِ تعلیم کی ناقص پالیسیاں اورانتظامیہ کی ناکارہ حکمت عملی بھی ہیں۔ نوجوانوں کی کثیر تعداد تعلیم سے محروم ہے۔
جموں وکشمیر میں تقسیم ہند اور وجودِ پاکستان کے بعد ہی تعلیمی میدان میں تنزلی آنا شروع ہوگئی تھی۔ ابتدا میں جو کوئی بھی نوجوان تعلیم حاصل کرتا تھا اُس کا تعلیمی معیار قابل ستائش ہوتا تھا لیکن بعد میں حکومتوں کی بار بار تبدیلیوں کے باعث تعلیمی پالیسیوں میں بھی ناقص حکمت عملیوں کی وجہ سے تعلیمی نظام بھی معیاری نہ رہا۔ دیہات کے سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کو مختلف جانوروں کی پناہ گاہ بنادیا گیا اور بعض خستگی کے باعث نابود ہوگئیں۔تدریسی عملہ اور اساتذہ ان علاقوں میں جانا ہی نہیں چاہتے، اگر چلے جاتے ہیں تو وہ اس علاقے کے بااثر افراد کے تابع رہتے ہیں۔اگر ہم پرائیویٹ تعلیمی اداروں اور ان سے منسلک دیگر تدریسی شعبہ جات کا مشاہدہ کرتے ہیں تو یہاں پر نوجوان نسل کو تعلیم کے بہتر مواقع حاصل ہیں لیکن اس کا تناسب بھی 30فی صد سے زیادہ نہیں ہے کیونکہ یہاں بھی معیار کا پیمانہ ہے، عام علاقوں میں جو پرائیویٹ سیکٹر سے وابستہ اسکول ہیں، وہاں اساتذہ کا تعلیمی معیار وہاں کے رہائشی گھرانوں کے حساب سے ہے، اسکول پرائیویٹ ضرور ہے لیکن وہ دیگر سہولیات سے محروم ہیں۔
ایک ایسا طبقہ فکر ہے جو تعلیم کو تجارت کا درجہ دیتا ہے، اس کے لئے ایسے پوش علاقے منتخب کرتے ہیں ،جہاں کا معیار زندگی بہت بلند ہے ،جہاں کا بچہ ائیرکنڈیشن گھر، ڈپارٹمنٹ یا بنگلے سے نکل کر ائیرکنڈیشن گاڑی یا پرائیوٹ ٹرانسپورٹ میں بیٹھ کر ائیرکنڈیشن تعلیمی اداروں میں جاتے ہیں جہاں ان کے لباس اور جوتے پر مٹی کا ذرہ بھی نہیں لگ سکتا، وہاں کی تعلیم کا معیار شہر کے دیگر علاقوں کی نسبت بہت زیادہ جدید خطوط پر مبنی ہوتا ہے۔
یہاں کی نوجوان نسل کو معاشی، معاشرتی اور تعلیمی اعتبار سے تقسیم کرنے میں پوش علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد اور یہاں کی طرز زندگی کا بہت ہاتھ ہے، اسی لئے نوجوانوں کے ذہن میں طرح طرح کے منفی اور مثبت خیالات جنم لیتے ہیں اور یہی ہماری طبقاتی کشمکش کا حصہ بنتے چلے جاتے ہیں ،کیونکہ نوجوان نسل کی سوچ کا محور تبدیل ہونے لگتا ہے۔
خواہشات کا ایک سمندر ان کے اندر بھی پروان چڑھنے لگتاہے، جس سے منفی اثرات مرتب ہونا شروع ہوجاتے ہیں،جب دیہی علاقوں کے نوجوان شہر کا رخ کرتے ہیں تو ان کو بھی ابتدا میں بہت زیادہ پریشانی اور مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے،وہ اس طبقاتی کشمکش کے بھنور میں پھنس جاتے ہیںاور کچھ اس سے نکل کر یہیں کی بود وباش اختیار کر لیتے ہیں اور کچھ واپس اپنے گاؤں لوٹ جاتے ہیں۔