عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// جموں و کشمیر حکومت نے صنعتی شعبے کو فروغ دینے اور کاروباری ماحول کو مزید سازگار بنانے کیلئے اصلاحاتی اقدامات میں تیزی لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی سلسلے میں حکومت ایک خصوصی’ایز آف ڈوئنگ بزنس ایکٹ‘ متعارف کرانے پر غور کر رہی ہے، جس کا مقصد صنعتی منصوبوں کیلئے منظوریوں کے عمل کو آسان بنانا اور مختلف محکموں سے اجازت نامے حاصل کرنے میں پیش آنے والی تاخیر کو ختم کرنا ہے۔اس حوالے سے ایز آف ڈوئنگ بزنس اور صنعتی پالیسی میں نظرثانی سے متعلق کمیٹی کا دوسرا اجلاس ’ادھیوگ بھون، جموں‘ میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت ایڈیشنل چیف سیکریٹری محکمہ خزانہ شیلندر کمار نے کی، جبکہ کمشنر سیکریٹری صنعت و تجارت وکرم جیت سنگھ ، جموں و کشمیر بینک کے زونل ہیڈ اشوک گپتا ، ڈائریکٹر صنعت و تجارت جموں ڈاکٹر ارون منہاس ، کمشنر اسٹیٹ ٹیکسز پی کے بھٹ اور دیگر سینئر افسران بھی موجود تھے۔اجلاس میں جموں خطے کی مختلف صنعتی اور تجارتی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی اور مجوزہ صنعتی پالیسی سے متعلق اپنی تجاویز اور سفارشات پیش کیں۔
اس موقع پر شیلندر کمار نے کہا کہ جموں و کشمیر میں صنعتی ترقی کے لیے طویل مدتی اور پائیدار حکمت عملی اپنانا ضروری ہے۔ انہوں نے ماحول دوست توانائی کے فروغ اور کاربن اخراج میں کمی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کاروباری سہولتوں میں اضافہ عوامی مفاد اور پائیدار ترقی کے تقاضوں کے مطابق ہونا چاہیے۔انہوں نے بتایا کہ موجودہ سنگل ونڈو سسٹم کے علاوہ حکومت ایک جامع ایز آف ڈوئنگ بزنس ایکٹ لانے پر کام کر رہی ہے، جس سے صنعتی یونٹوں کو مختلف سرکاری محکموں سے منظوری حاصل کرنے میں درپیش رکاوٹیں کم ہوں گی اور سرمایہ کاری کے عمل کو مزید آسان بنایا جا سکے گا۔اجلاس میں گزشتہ مشاورتی نشست کے دوران موصول ہونے والی تجاویز پر تفصیلی غور کیا گیا اور مجوزہ صنعتی پالیسی میں عملی اور مؤثر اصلاحات شامل کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں فیڈریشن آف انڈسٹریز جموں، پی ایچ ڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ، ایسوچیم جموں و کشمیر کونسل، لگھو ادیوگ بھارتی، بڑی برہمنہ انڈسٹریل ایسوسی ایشن، انڈین چیمبر آف کامرس ، فکی فلَو (FICCI-FLO)، فیڈریشن آف آٹوموبائل ڈیلرز ایسوسی ایشن (FADA) سمیت کئی اہم صنعتی اور تجارتی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔شرکاء نے حکومت کی جانب سے کاروباری ماحول بہتر بنانے کے اقدامات کا خیرمقدم کرتے ہوئے صنعتکاروں کو درپیش عملی مسائل کے حل اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے مزید اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔