عظمیٰ نیوز سروس
شوپیان//جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان میں متعدد مقامات سے مشتبہ ناقص اور غیر معیاری کیڑے مار ادویات کی برآمدگی کے بعد کسانوں اور سول سوسائٹی میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ کسانوںکا الزام ہے کہ ناقص زرعی کیمیکلز کے استعمال سے باغات اور فصلوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے، جس کے باعث سینکڑوں کاشتکار شدید مالی بحران سے دوچار ہو گئے ہیں۔یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب محکمہ زراعت کے انفورسمنٹ ونگ نے ضلع کے مختلف علاقوں، جن میں میمنڈر اور کچھڈورہ شامل ہیں، میں معائنہ مہم چلائی۔ اس دوران مشتبہ ناقص کیڑے مار ادویات اور فنگس کش ادویات ضبط کی گئیں۔ محکمانہ حکام نے متعدد ڈیلروں کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے جبکہ بعض تاجروں کے لائسنس بھی تحقیقات مکمل ہونے تک معطل یا ضبط کیے گئے ہیں۔محکمہ زراعت کے حکام کا کہنا ہے کہ جعلی یا غیر معیاری زرعی مصنوعات کی فروخت اور تقسیم میں ملوث پائے جانے والے افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اس پیش رفت کے بعد خاص طور پر سگو اور کچھدوارہ علاقوں کے کسانوں میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔
متاثرہ باغبانوں کا کہنا ہے کہ مبینہ طور پر ناقص ادویات کے استعمال سے ان کے باغات اور فصلوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔کئی کسانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ بعض متاثرہ علاقوں میں 95 فیصد تک باغات اور فصلیں متاثر ہوئی ہیں، جس سے باغبانی پر انحصار کرنے والے خاندانوں کو شدید معاشی دھچکا پہنچا ہے۔ایک متاثرہ کسان نے اپنی پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا، یہ ہمارے پیٹ پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ہی طوفانوں، تیز ہواں اور غیر متوقع موسمی حالات کے باعث نقصان اٹھا چکے تھے، اور اب ناقص زرعی ادویات نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔باغبانوں کے مطابق انہوں نے کیڑوں اور بیماریوں سے باغات کو محفوظ رکھنے کے لیے بھاری رقم خرچ کر کے مختلف اسپرے اور حفاظتی اقدامات کیے تھے، تاہم مبینہ طور پر استعمال کی گئی ادویات مثر ثابت نہ ہوئیں، جس کے نتیجے میں فصلوں کا مستقبل غیر یقینی ہو گیا ہے۔یہ بحران ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شوپیان کا باغبانی شعبہ پہلے ہی بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت، زرعی قرضوں اور موسمی نقصانات کے باعث دبا کا شکار ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ معاوضے اور قرضوں میں ریلیف سے متعلق مسائل حل نہ ہونے کے باعث ان پر مالی بوجھ مزید بڑھ گیا ہے۔محکمہ زراعت کے حکام نے یقین دلایا ہے کہ جعلی اور غیر معیاری زرعی ادویات کی فروخت روکنے کے لیے مارکیٹ میں معائنوں، نمونوں کی جانچ اور لیبارٹری ٹیسٹنگ کا عمل مزید تیز کیا جائے گا تاکہ کسانوں کو صرف معیاری مصنوعات ہی دستیاب ہوں۔تاجروں سے وابستہ ذرائع کے مطابق ضلع اور ملحقہ علاقوں میں تقریبا 700 سے زائد کیڑے مار ادویات کے ڈیلر رجسٹرڈ ہیں۔ حالیہ ضبطیوں کے بعد مشتبہ غیر معیاری مصنوعات فروخت کرنے یا ذخیرہ کرنے والے متعدد ڈیلروں کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ مزید کارروائی لیبارٹری رپورٹوں اور محکمانہ تحقیقات کی روشنی میں کی جائے گی۔اس معاملے پر سول سوسائٹی کے ارکان نے بھی شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے جعلی زرعی ادویات کی فروخت کو شوپیان کی باغبانی معیشت کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے ضلع انتظامیہ، بالخصوص ڈپٹی کمشنر شوپیان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ذاتی طور پر معاملے میں مداخلت کریں، شفاف تحقیقات کو یقینی بنائیں اور متاثرہ کسانوں کو فوری امداد اور معاوضہ فراہم کریں۔