جموں //گزشتہ روز ہی متعارف کروائی گئی سابق آئی اے ایس افسر ڈاکٹر شاہ فیصل کی پارٹی کو گلی کی کرکٹ ٹیم قرار دیتے ہوئے بھارتیہ جنتاپارٹی کے ریاستی صدر رویندررینہ نے کہاکہ ایسی جماعتیں ان لوگوں کی طرف سے روزانہ کی بنیادپر متعارف کروائی جاتی ہیں جواپنے محلے میں گلی کرکٹ کھیلتے ہیں ۔گوا کے وزیر اعلیٰ و سابق وزیر دفاع منوہرپاریکر کی وفات کے سلسلے میں منعقدہ تعزیتی اجلاس کے حاشئے میں ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے رینہ نے کہاکہ کشمیر کے لیڈران کی مشکل یہ ہے کہ وہ سہولیات تو ہندوستان کی استعمال کرتے ہیں لیکن ان کے دل پاکستان کیلئے دھڑکتے ہیں ۔رینہ کاکہناتھا’’کشمیر میں ایس پی او خوشبو جان کی ہلاکت کی کسی نے مذمت نہیں کی لیکن اگر کوئی دوسرا واقعہ ہوتو سیاستدان شوپیاں بند اور پلوامہ چلو کی کال دیتے ہیں ، پی ڈی پی ، این سی اور شاہ فیصل خاموش ہیں اور انہوں نے کشمیر کے وطن پرست لوگوں کیلئے ایک لفظ تک نہیں کہا جو ملک کیلئے جانوں کا نذرانہ پیش کررہے ہیں ‘‘۔پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کے حقیقی مجاہدین کے ریمارکس پر بی جے پی لیڈر نے کہا’’ہر ایک اس لیڈر کی اعتباریت سے واقف ہے، اقتدارسے باہر ہونے کے ساتھ ہی ان کا لہجہ بدل گیا ،ان کی حالت بناپانی کے مچھلی کی مانند ہے جو دوبارہ اقتدا رمیں آنے کیلئے کوشاں ہیں ‘‘۔اس موقعہ پر مرکزی وزیرمملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہاکہ کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایئر سٹرائیک کی سب سے زیادہ چوٹ کشمیر مرکزیت والی سیاسی جماعتوں کے لیڈران کو لگی۔نیشنل کانفرنس صدرفاروق عبداللہ کے گزشتہ روز کے بیان کے رد عمل میں انہوںنے کہاکہ وزیر اعظم مودی نہیں بلکہ فاروق عبداللہ خود اپنے آپ کو خطرے میں محسوس کررہے ہیں۔ڈاکٹر جتیندر نے کہاکہ پارلیمانی انتخابات میں نوجوانوں کا رول اہم ہے اور ملک کی 60فیصد سے زائد آبادی 40سال سے کم عمر کی ہے ۔ان کاکہناتھاکہ بی جے پی عوام کے پاس ترقی کے مسائل لیکر ووٹ مانگنے جائے گی ۔پارٹی کے باغی لیڈر لعل سنگھ کی طرف سے انتخابات لڑنے کے فیصلے پر انہوں نے کہاکہ یہ جمہوریت کا جشن ہے جہاں ہر ایک الیکشن لڑ سکتاہے اور ہر ایک کسی کا خیر مقدم ہے ۔قبل ازیں پارٹی کی ایک میٹنگ منعقد ہوئی جس دوران لوک سبھا انتخابات کے حوالے سے تبادلہ خیال کیاگیا۔ میٹنگ میں رینہ کے علاوہ جتندر سنگھ، جگل کشور، کویندر گپتا، اشوک کول ، اشوک کھجوریہ ، ست شرما ، ضلع صدور اور دیگر سینئر لیڈران بھی موجود تھے ۔اس موقعہ پر کچھ کارکنان نے پارٹی میں شمولیت بھی کی ۔