امریکہ //امریکہ نے کیمیائی حملہ کا بہانہ بنا کر اپنے اتحادی ممالک برطانیہ اور فرانس کے ساتھ مل کر ہفتہ کی صبح شام پر حملہ کر دیا۔ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ اس نے شام میں کیمیکل ہتھیاروں کو تباہ کر دیا ہے۔ امریکہ کی زیر قیادت اس حملہ میں شام کے مخصوص اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ شام پر حملوں کا یہ تسلسل برقرار رہے گا۔ امریکی حملہ پرعالمی میڈیا نے اپنے اپنے انداز میں کچھ اس طرح سے تبصرہ کیا ہے۔الجزیرہ ڈاٹ کام نے سعودی عرب میں منعقد عرب لیگ کے اجلاس میں شام پر امریکی حملہ کی مذمت نہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ اس اجلاس میں امریکی حملہ پر چپی سادھی گئی اور اس کے خلاف ایک لفظ بھی زبان سے نہیں بولا گیا۔ خبر میں کہا گیا ہے کہ عرب لیگ کے رہنماوں نے شام تنازعہ پر تبادلہ خیال تو ضرور کیا لیکن شام پر ہوئے امریکی حملہ پر انہوں نے کچھ بھی نہیں بولا۔ اس بات پر بھی اظہار افسوس کیا گیا کہ شام پر حالیہ حملہ عرب لیگ کے ایجنڈہ میں شامل ہی نہیں تھا۔وہیں، ڈی ڈبلیو ڈاٹ کام نے کیا شام کا مسئلہ ایک اقتصادی جنگ ہے؟ کی سرخی کے ساتھ لکھا ہے کہ ہر جنگ کے کچھ اقتصادی اثرات ہوتے ہیں۔ شام کی جنگ ایک ایسی پراکسی جنگ ہے جس میں وقت کے ساتھ ساتھ مزید علاقائی اور بین الاقوامی طاقتیں شامل ہوتی جا رہی ہیں اور اس کے اقتصادی اثرات بھی وسیع ہوں گے۔ ڈی ڈبلیو ڈاٹ کام نے مزید لکھا ہے کہ امریکہ ہر صورت میں شامی حکومت کے حامی روس اور ایران کی معیشت کو عالمی منڈیوں سے الگ کرتے ہوئے انہیں کمزور بنانا چاہتا ہے۔وہیں، ڈان نیوز ڈاٹ ٹی وی نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کی اس وارننگ کو کافی نمایاں انداز میں شائع کیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ شام پر مزید حملے عالمی امور میں کشیدگی کا سبب بنیں گے۔ ڈان نے اسی کے ساتھ یہ بھی لکھا ہے کہ روس اور امریکہ اپنے تعلقات میں برسوں سے جاری بدترین بحران کو دور کرنا چاہتے ہیں۔دوسری طرف، بی بی سی، اردو نے شام پر حملے کا قانونی جواز کیا ہے؟ کی سرخی کے ساتھ ایک تفصیلی مضمون شائع کیا ہے جس میں لکھا گیا ہے کہ امریکہ، برطانیہ اور فرانس کا دعویٰ ہے کہ وہ سلامتی کونسل کے بجائے خود انتہائی اہم بین الاقوامی قانون کی پاسداری کے لئے عمل کر رہے ہیں۔ تاہم اس دعویٰ کو مزاحمت کا سامنا ہے۔ روس پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ یہ حملے سراسر غیر قانونی ہیں۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے بھی کہا ہے کہ سلامتی کونسل کی اولیت کا احترام کیا جائے۔ مضمون میں کہا گیا ہے کہ سلامتی کونسل کا کام خود اپنے ہاتھ میں لے کر دعویٰ کرنا کہ یہ عوامی مفاد میں کیا گیا ہے، اس سے روس اور امریکہ کے درمیان سرد جنگ کی عکاسی ہوتی ہے۔