وادی کشمیر میں گزشتہ چند دہائیوں کے دوران کئی ایسے سماجی مسائل ابھر کر سامنے آگئے ہیں، جن کی وجہ سے یہاں کے لوگوں کی مجموعی معاشرتی زندگی کا تانا بانا بکھر تا جارہا ہے۔لڑکوں اور لڑکیوں کی شادیوں میں تاخیر بھی ایک ایسا ہی سماجی مسئلہ ہے، جس کے منفی اثرات اب کشمیری معاشرے میں صاف طور سے دیکھنے کو مل رہے ہیں۔
اگرچہ اس ضمن میں سرکاری سطح پریا کسی منظم ادارے کی جانب سے ایسی کوئی تحقیق نہیں ہوئی ہے، جس سے شادی کی مناسب عمر کھوچکے غیر شادی شدہ لوگوں کی صیح تعداد پتہ چل جاتی ، تاہم کچھ عرصہ قبل ’’تحریکِ فلاح المسلمین ‘‘نامی ایک رضاکار انجمن نے اپنے ایک سرسری تحقیق کے بعد انکشاف کیا تھا کہ فی الوقت وادی میں ایسی پچاس ہزار دوشیزائیں موجود ہیں، جو شادی کی مناسب عمر کھوچکی ہیں اورہنوز غیر شادی شدہ ہیں۔ انجمن کے عہدیداروں کے مطابق ان میں سے دس ہزار خواتین کا تعلق صرف سرینگر ضلع سے ہے۔
سال 2007ء میں کشمیر یونیورسٹی میں شعبہ سماجیات کے پروفیسر بشیر احمد ڈابلا نے اپنی ایک وسیع تحقیق میں پایا تھا کہ وادی میں پہلے لڑکیوں کے لئے 21سال اور لڑکوں کے لئے 24سال کی عمر شادی کی مناسب عمر سمجھی جاتی تھی ، جو اب (سال 2007ء میں) لڑکیوں کیلئے 28اور لڑکوں کے لئے 32ہوگئی ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ چودہ سال کے دوران شادی کی عمومی عمر کا پیمانہ مزید بدل گیا ہے۔ یعنی اب لڑکوں کی اس’ مناسب ‘عمر کا تصور مزید تبدیل ہوگیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عمومی طور پر اب لڑکوں اور لڑکیوں کی شادیاں تاخیر سے ہوجاتی ہیں۔ لیکن یہ معاملہ صرف اسی بات تک محدود نہیں ہے کہ شادی کیلئے کون سی عمرسماج میں مقبول عام ہے۔ در اصل شادیوں میں تاخیر کے کئی اسباب ہیں، جو ہر گزرنے والے دن کے ساتھ پیچیدہ ہوتے جارہے ہیں۔
ماہرین اور متعلقین کا کہنا ہے کہ غربت، بے روزگاری، جہیزکا رواج اور شادیوں پربے جا اصراف کی روایات چند ایسے مسائل ہیں، جن کی وجہ سے بیشتر لوگ مناسب عمر میں اپنے بچوں کی شادیاں کرانے سے خود کو قاصر پاتے ہیں۔ اس کے علاوہ اعلیٰ تعلیم کے حصول اور پھر تلاشِ روزگار کی جستجو میں بھی بعض لڑکوں اور لڑکیوں کا کافی وقت صرف ہوجاتا ہے اور اس دوران وہ شادی کی اپنی مناسب عمر کھو بیٹھتے ہیں۔وادی میں گزشتہ تین دہائیوں سے جاری پر تشدد حالات نے بھی اُن سماجی مسائل کو پروان چڑھایا ہے، جو بالآخر شادیوں میں تاخیر کا باعث بنتے ہیں۔
شادیوں میں تاخیر کی وجہ سے نہ صرف متعلقہ مرد و زن کی انفرادی زندگیوں پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں بلکہ اس کے نتیجے میں کشمیر کی اجتماعی معاشرتی زندگی پر بھی منفی اثرات صاف طور سے دیکھنے کو مل رہے ہیںاور المیہ یہ ہے کہ یہ سماجی مسئلہ ہر گزرنے والے دن کے ساتھ سنگین ہوتا جارہا ہے۔واقف کار حلقوں کا کہنا ہے کہ وادی میں فی الوقت ایسے لاتعداد لڑکیاں اور لڑکیاں موجود ہیں، جو شادی کی مناسب عمر کھو چکے ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ غیر شادی شدہ ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شادیاں نہ ہوجانے یا بروقت شادیاں نہ ہوجانے کی وجہ سے متعلقہ مرد و زن کو نفسیاتی اور حیاتیاتی مسائل سے بھی جھوجھنا پڑ رہا ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ صیح وقت پر لڑکوں اور لڑکیوں کی شادیاں نہ ہونے کی وجہ سے سماجی میں بے راہ روی بھی پھیل رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ وادی میں شادیوں میں تاخیر کا صرف ایک غربت ہی سبب نہیں ہے۔ غلام رسول نامی ایک درمیانہ دار نے کہا، ’’میں طویل عرصے سے لوگوںکے لئے شادی کے رشتے جوڑنے کا کام کررہا ہوں۔ پہلے لوگ مناسب عمر میں اپنے بچوں کی شادیاں کرتے تھے لیکن اب زیادہ تر لوگ تاخیر سے شادیاں کرتے ہیں۔ یہ تبدیلی پچھلی دو دہائیوں کے دوران دیکھنے کو ملی ہے۔ میرے خیال سے اعلیٰ تعلیم کا حصول بھی لڑکوں اور لڑکیوں کی شادیوں میں تاخیر کا ایک سبب ہے۔ کیونکہ اولاً تو تعلیم حاصل کرنے میں اْن کا کافی وقت نکل جاتا ہے اور ثانیاً اعلیٰ تعلیم کے حصول کے بعد اْنہیں مناسب روزگار کی تلاش میں بھی بسا اوقات اچھا خاصا وقت ضائع ہوجاتا ہے۔ یہ سب کچھ ہوجانے کے بعد اْنہیں اپنے معیار کے مطابق رشتہ بھی چاہیے ہوتا ہے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور بر سر روزگار لڑکے اور لڑکیاں شادی کیلئے بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ اور بہتر روزگار کا حامل فرد کی جستجو میں ہوتے ہیں۔ اس سب کچھ میں کبھی کبھی سالہاسال بھی لگ جاتے ہیں۔ غلام رسول کا کہنا ہے کہ سماج میں اصراف کی روایت بھی شادیوں میں تاخیر کا ایک اورسبب ہے۔ اْنہوں نے کہا، ’’اپنی بیٹیوں کیلئے جہیز جمع کرنے اور پھر وازوان کا اہتمام کرنے کیلئے پیسہ جمع کرنے میں بیشتر والدین کی کمر دوہری ہوجاتی ہے اور جب تک یہ ساری تیاری مکمل نہیں ہوتی ہے، ان کے بچے شادی کی مناسب عمر پار کرچکے ہوتے ہیں۔‘‘ غلام رسول کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ اْفتاد بے روزگاریا معمولی ذریع معاش کے حامل نوجوان لڑکوں پر نازل ہوتی ہے، وہ چاہ کر بھی شادی نہیں کرپاتے ہیں کیونکہ اُن کے لئے مناسب رشتے میسر نہیں ہوتے ہیں۔‘‘غلام رسول نے شادیوں کی تاخیر کے کئی حیران کن وجوہات بھی بیان کئے۔ اُن کا کہنا ہے کہ پہلے زمانے میں لوگ اپنے بچوں کیلئے جوڑے دیکھنے کے عمل میں صرف سیر ت کا پہلو ملحوظ نظر رکھتے تھے۔ اکثر والدین کا کہنا ہوتا تھا کہ اُن کی بیٹیوں یا بیٹوں کو بالترتیب نیک سیرت لڑکے یا لڑکیاں ہونی چاہیں۔ اب شرائط کی فہرست طویل ہوتی ہے اور اکثر اوقات مخصوص مذہبی مسالک ان شرائط میں شامل ہوتے ہیں۔لوگ صرف اسی گھر میں اپنے بچوں کی شادیاں کرانا چاہتے ہیں، جن میں اسی مسلک کی پیری ہوتی ہو ، جس کی وہ خود کرتے ہوتے ہیں۔حد یہ ہے کہ بعض لوگ اپنی لڑکیوں کو گنجان بستیوں میں رہنے والے لڑکوں سے بیاہنے سے انکار کرتے ہیں۔ بلکہ اُن کی شرط یہ بھی ہوتی ہے، لڑکے کے گھر کے افراد خانہ کی تعداد بھی زیادہ نہ ہو۔
مسلم پرسنل بورڈ کے سربراہ اور جموں کشمیر کے مفتی عظم ،مفتی اعظم مفتی ناصر الاسلام نے اس موضوع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ دراصل شادیوں کے معاملے میں دین کے اصولوں اور ہدایات کی عدم پیروی نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنادیا ہے۔ اُنہوں نے کہاکہ اسلام نے جلد شادیوں کی تاکید کی ہے۔ ہمارے پیغمبر نے ہمیں بتا دیا ہے کہ ’’جس شخص نے میری سنت کو راہِ زندگی بنالیا پس وہ مجھ سے ہے اور میری سنت نکاح ہے۔‘‘ لیکن لوگ نبی کے ان ہدیات پر دھیان نہیں دینے ہیں۔ اپنے مشاہدے کے تناظر میں مفتی ناصر الاسلام نے کہا، ’’ میرے مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ تاخیرسے ہونے والی شادیاں عمومی طور پر کامیاب نہیں ہوتی ہیں۔ بلکہ بڑی عمر میں ہونے والی بعض شادیاں طلاق پر منتج ہوجاتی ہیں۔‘‘اُن کا کہنا ہے کہ وادی میں تاخیر سے شادیاں کرنے کے نقصان دہ رجحان کو بدلنے کا واحد راستہ یہی ہےکہ لوگ اس معاملے میں دین کی ہدایات اور احکامات پر عمل پیرا ہوں۔ برعکس صورت میں یہ مسئلہ ہر گزرنے والے دن کے ساتھ سنگین ہوتا جائے گااور پھر اس کے منفی اثرات سے معاشرے کو بچانا محال ہوگا۔
سرینگر میں متحرک ایک رضاکار انجمن’’ آش ‘‘کی چیئر پرسن قرۃ العین مسعودی نے اس موضوع پر بات کرتے ہوئے کہا، ’’صرف لڑکیاںہی نہیں ، بلکہ لڑکے بھی وقت پر شادی نہ ہونے کی وجہ سے مصیبتوں اور مصائب کا سامنا کررہے ہیں۔ قرۃ کی تنظیم سال2018ء سے اُ ن جوڑوں کی اجتماعی شادیاں کروارہی ہے، جن کی شادیوں میں مالی دُشواریاں حائل ہیں۔ قرۃ کا کہنا ہے کہ وادی میں شادیوں میں تاخیر کا ایک کلیدی سبب غربت ہے۔اُن کا کہنا ہے ، ’’مجھے اکثر غریب گھروں کی ان لڑکیوں سے واسطہ پڑ تا ہے ، جو شادی کی عمر کو پہنچنے کے باوجود شادی کرے سے قاصر رہی ہیں۔ ‘‘ تاہم اُنہوں نے کئی دیگر وجواہات کی نشاندہی بھی کی۔ اُنہوں نے کہا، ’’اپنی نسائی پسندی کی وجہ سے بعض لڑکیاں شادی سے پہلے ہی خود کفیل بننا چاہتی ہیں۔ وہ شادی سے پہلے ہی اعلیٰ تعلیم حاصل کرتی ہیں پھر جب تک اُنہیںمناسب نوکریاں نہیں ملتی ہیں، وہ شادی کا سوچتی بھی نہیں ہیں۔ کتنا اچھا ہوتااگر ہمارے معاشرے میں لڑکیوں کو شادی کے بعد بھی تعلیم جاری رکھنے اور بہتر روزگار حاصل کرنے کی روایت ہوتی ۔‘‘
بعض ماہرین تاخیر سے شادی کے چلن کو اصل مسئلہ نہیں سمجھتے ہیں۔بلکہ اُن کا کہنا ہے کہ اصل مسائل وہ ہیں، جن کی وجہ سے عمومی طور پر لوگوں کی شادیوں میں تاخیر ہوجاتی ہے۔ گورنمنٹ ڈگری کالج بارہمولہ میں شعبہ سماجیات کی اسسٹنٹ پروفیسر شائستہ قیوم کا کہنا ہے کہ تاخیر سے شادی کرنا اصل مسئلہ نہیں ہے۔ بلکہ وہ مسائل جو شادی میں تاخیر کا باعث بنتے ہیں، اصل مسائل ہیں ، جن سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔ تاخیر سے شادی کوئی مسئلہ قرار نہ دینے کے پس پردہ ان کا استدلال ہے کہ ہر شخص کو کسی بھی عمر میں شادی کرنے کی اختیار ہے۔ یہ فیصلہ متعلقہ فرد کا ہونا چاہیے کہ وہ کس عمر میں شادی کرنا چاہے۔ انفرادی فیصلوں کی عزت کی جانی چاہیے۔ شائستہ نے کہا، ’’کبھی کبھی وہ باتیں متعلقہ فرد کیلئے اچھی ہوتی ہیں، جو سماج میں بُری سمجھی جاتی ہیں۔‘ اُنہوں نے مزید کہا، ’’میرے مشاہدے میں آیا ہے کہ ہمارے سماج میں موجود کاسٹ اور گریڈ سسٹم شادیوں میں تاخیر کا ایک بہت بڑا سبب ہے۔ہم نے اپنے سماج اور معاشرے کو کئی خانوں میں تقسیم در تقسیم کررکھا ہے۔‘‘
صاف ظاہر ہے کہ شادیاں کرنے میں تاخیر کے نئے رجحان کو کشمیر سماج کو درپیش اہم مسائل میں شامل رکھا جاسکتا ہے ۔ کیونکہ اس رجحان خواہ یہ کسی بھی وجہ سے پیدا ہوچکا ہو اور پروان چڑھ رہا ہو، کے منفی اثرات سے نہ صرف متعلقین کی انفرادی زندیاں متاثر ہورہی ہیں بلکہ اس کے اثرت اجتماعی معاشرے پر بھی مرتب ہورہے ہیں۔
(قلمکار لاڈلی میڈیا فیلو 2021ہیں ۔آرااُن کی خالصتاً ذاتی ہیں اور لاڈلی و یو این ایف پی اے کا ان سے متفق ہونا لازمی نہیں ہے)
������