بلال فرقانی
سرینگر//جموں و کشمیر کی شادی معاونت سکیم( ’’سٹیٹ میریج اسسٹنس سکیم‘‘) اس وقت شدید بحران کا شکار ہے، جہاں محکمہ خوراک کی ویب سائٹ بند ہونے کے سبب ای راشن ٹکٹوں کی اجرائی ممکن نہیں رہی، جب کہ سکیم میں تعلیمی قابلیت کی غیر ضروری شرط اور ہزاروں کیسوں کی زیر التواء فہرست نے اس فلاحی پروگرام کو تقریباً ناکارہ بنا دیا ہے۔ نتیجتاً، مالی طور پر کمزور گھرانوں کے والدین جنہوں نے اس سکیم کو اپنی بچیوں کی شادیوں کا واحد سہارا مانا تھا، مایوسی اور بے بسی کی کیفیت میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ مالی طور پر کمزور خاندانوں کی غریب بچیوں کی شادی میں مدد کیلئے 2015 میں شروع کی گئی ’سٹیٹ میریج اسسٹنس سکیم‘ اس وقت ہزاروں والدین کے لیے ایک ادھورا خواب بن کر رہ گئی ہے۔ محکمہ خوراک و شہری رسدات کی ویب سائٹ میں جاری تکنیکی خرابی نے ای راشن ٹکٹوں کی اجرائی کو مکمل طور پر بند کر دیا ہے، جو اس اسکیم کے تحت مالی امداد حاصل کرنے کیلئے بنیادی شرط ہے۔ یہ تکنیکی تعطل محض ایک ڈیجیٹل مسئلہ نہیں بلکہ ہزاروں لڑکیوں کے مستقبل سے جڑا سنگین انسانی بحران بن چکا ہے، جہاں کئی والدین بیٹیوں کی شادی ملتوی یا منسوخ کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔بٹوارہ کے ثناء اللہ، نوہٹہ کے طارق احمد اور بیوہ خالد ہ بانو جیسے کئی والدین کی روداد یہی بتاتی ہے کہ وہ کئی ماہ سے وارڈ دفاتر اور محکمہ خوراک کے چکر لگا رہے ہیں، مگر ای راشن ٹکٹ نہ بننے کے باعث انہیں ’میریج اسسٹنس سکیم‘ کے تحت امداد نہیں مل رہی۔اگرچہ سوشل ویلفیئر کی وزیر سکینہ ایتو نے بارہا اس اسکیم کے لیے تعلیمی قابلیت کی شرط کو غیر ضروری قرار دیا ہے، لیکن زمینی سطح پر متعلقہ دفاتر کے افسران اب بھی تعلیمی اسناد طلب کر رہے ہیں، اور ان کا کہنا ہے کہ جب تک اس حوالے سے کوئی باضابطہ سرکاری حکم نامہ جاری نہیں ہوتا، وہ وزیر کے بیان کو عمل درآمد کا جواز نہیں مانتے۔ سرکاری اعداد و شمار بھی اس بدانتظامی اور عدم رسائی کی تصدیق کرتے ہیں۔کئی والدین نے ’’اسٹیٹ میریج اسسٹنس سکیم‘ سے مالی امداد کی امید پر اپنی بیٹیوں کی شادی کیلئے ضروری اشیاء جیسے کپڑے، زیور، برتن اور دیگر سامان ادھار یا قرض پر خرید لیے، اس امید کے ساتھ کہ سکیم سے ملنے والی رقم سے وہ اخراجات پورے کر سکیں گے۔ تاہم، ای راشن ٹکٹوں کی اجرائی میں رکاوٹ، سکیم میں مبہم قواعد، اور ہزاروں کیسوں کے زیر التوا رہنے کے باعث نہ صرف ان کی مالی منصوبہ بندی درہم برہم ہو گئی بلکہ ان کے سر پر قرض کا بوجھ بھی بڑھ گیا ہے۔ اب یہ والدین شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں، کیونکہ اسکیم کی ناکامی نے ان کے خوابوں کو چکناچور کر دیا ہے۔ مالی سال 2023-24میں 17,815 کیسوں کو منظوری دی گئی اور مجموعی طور پر 89 کروڑ روپے کی امداد فراہم کی گئی، جبکہ 2024-25میں 22,162 خواتین نے درخواستیں دیں لیکن محض 7,203 خواتین کو 37 کروڑ روپے کی امداد ملی۔ سول سیکریٹریٹ کے فائنانس ڈائریکٹر کے پاس 9,690 کیس زیر التوا ہیں۔ مزید 4,127 کیس یا تو نامکمل دستاویزات یا نااہلیت کی بنیاد پر مسترد یا واپس بھیجے گئے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف اسکیم کے مقصد کو متاثر کر رہی ہے بلکہ حکومت کی فلاحی پالیسیوں پر عوامی اعتماد کو بھی متزلزل کر رہی ہے۔