بلال فرقانی
سرینگر//جموں و کشمیر میں حالیہ بارشوں اور سیلاب نے جہاں انسانی جانوں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا ،وہیں وادی کے سب سے اہم اقتصادی ستون باغبانی صنعت کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ اس وقت وادی کے باغ مالکان ، کاشتکار اور تاجر شدید مالی نقصان کے خدشے سے دوچار ہیں۔سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ سرینگرجموں قومی شاہراہ ہے، جو وادی کو ملک کے باقی حصوں سے جوڑنے والا واحد راستہ ہے۔ مسلسل کئی دنوں سے یہ شاہراہ چٹانیں کھسکنے اور ملبہ گرنے کی وجہ سے بند پڑی ہے، جس کے باعث سینکڑوں پھلوں سے لدی مال بردارگاڑیاں جن میں ناشپاتی(ببہ گوش)، گالا،شینیکا گالا اور ریڈ گالا سیب جیسے نازک پھل سڑکوں پر پھنسے ہوئے ہیں۔ کشمیر ویلی فروٹ گرورز کم ڈیلرز یونین کے چیئرمین بشیر احمد بشیر کا کہنا ہے’’ہمارے ٹرک کئی دنوں سے رکے ہوئے ہیں، یہ پھل نازک ہوتے ہیں، سڑک پر سڑ جاتے ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا’’ہر گزرتی گھڑی ان کے لاکھوں روپئے ضائع ہورہے ہیں۔منڈیوں میں تیار پھلوں کی بھرمار ہے لیکن انہیں بیرون وادی روانہ کرنے کا کوئی راستہ نہیں‘‘۔انہوں نے مزید بتایا’’نقصان صرف وہ نہیں جو پھل راستے میں خراب ہو رہے ہیں بلکہ اصل بحران یہ ہے کہ جو پھل ابھی درختوں پر ہیں،انہیںاتارنا بیکار ہے‘‘۔انتظامیہ نے بظاہر حل کے طور پر 6 پہیوں والی گاڑیوں کو مغل روڈ پر چلنے کی اجازت دی ہے جو سرینگرجموں قومی شاہراہ کی بندش کے بعد واحد متبادل راستہ بچا ہے لیکن باغبانی سے وابستہ افراد اسے ناکافی سمجھتے ہیں۔ میوہ تاجروں کا کہنا ہے کہ یہ بھاری پھلوں کی ترسیل کیلئے ناکافی ہے۔ انہیں 6 سے 10ٹائروں والے بڑے ٹرکوں کی ضرورت ہے، وہ بھی چوبیس گھنٹے چلنے کی اجازت کے ساتھ تاکہ معاملہ کچھ حد تک حل ہوسکے۔ انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے براہ راست مداخلت کی اپیل کی ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ انہیںہمدردی نہیں، فوری عملی اقدام چاہیے۔ ان کا کہنا ہے’’شاہراہ میں پھنسے ہوئے ٹرکوں کو فوری طور پر نکالا جائے اور مغل روڈ پر بھاری گاڑیوں کی نقل و حرکت کویقینی بنایا جائے‘‘۔جموں و کشمیر کی باغبانی صنعت سے 7 لاکھ سے زائد خاندانوں کی روزی روٹی جڑی ہے اور اسے وادی کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے۔ بشیر احمد بشیر نے جذباتی لہجے میں کہا’’ہم اپنی آنکھوں کے سامنے اپنی روزگار کو ختم ہوتے نہیںدیکھ سکتے ،یہ صرف وادی کا بحران نہیں بلکہ قومی سطح کی آفت بن چکی ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ اگر بروقت اقدامات نہیں کئے گئے تو وادی کو اپنی حالیہ تاریخ کی بدترین اقتصادی تباہی کا سامنا ہو سکتا ہے۔