کیٹ بووی
سائنسدان خبردار کر رہے ہیں کہ ’سنیل فیور‘ یا گھونگھے کا بخار، جو ایک نظرانداز شدہ پیراسیٹک بیماری ہے، ایسے طریقوں سے بڑھ رہی ہے جس سے اسے کنٹرول کرنا اور بھی مشکل ہو جائے گا۔ہر سال 25 کروڑ افراد اس بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں، ان میں سے اکثریت افریقہ میں رہتی ہے، جہاں مخصوص قسم کے پیراسائٹ رکھنے والے گھونگھے پائے جاتے ہیں۔لیکن چین، وینزویلا اور انڈونیشیا سمیت دنیا بھر کے 78 ممالک میں پیراسائٹ کی منتقلی کی اطلاع ملی ہے۔عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اسے ’عالمی تشویش‘ قرار دیا ہے کیونکہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اس پیراسائٹ میں تبدیلی آئی ہے جس کا مطلب ہے کہ یہ نئے علاقوں میں پھیل سکتا ہے۔یہ وارننگ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی ادارہ صحت گرم مرطوب علاقوں میں نظر انداز شدہ بیماریوں کا دن منا رہا ہے۔ اس کا مقصد وائرس، بیکٹیریا، پیراسائٹس اور فنگس کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل کی نشاندہی کرنا ہے جو غریب علاقوں میں رہنے والے ایک ارب سے زائد افراد کو متاثر کرتے ہیں۔
سنیل فیور اس وقت ہوتا ہے جب انسان یا جانور ایسا پانی استعمال کرتے ہیں جو گھونگھوں کے چھوڑے ہوئے لاروا سے متاثر ہوتا ہے۔ یہ لاروا ایسے انزائمز خارج کرتے ہیں جو جلد سے ہوتے ہوئے جسم میں داخل ہو جاتے ہیں۔جسم میں داخل ہونے کے بعد یہ لاروا پھلتا پھولتا ہے اور ایک بالغ کیڑا بن جاتا ہے۔ یہاں یہ خون کی نالیوں میں رہتے ہیں۔ مادہ لاروا انڈے بھی خارج کرتی ہے۔یہ انڈے کبھی کبھار تو فضلے یا پیشاب کی صورت جسم سے خارج ہو جاتے ہیں، تاہم یہ ٹشوز میں پھنس بھی سکتے ہیں۔ان انڈوں کے خلاف جسم کا مدافعتی ردعمل بالآخر اردگرد کے صحت مند ٹشوز کو تباہ کر دیتا ہے اور اس سے اعضا کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔یہ بیماری پیٹ میں درد، کینسر اور شدید صورتوں میں موت کا سبب بھی بن سکتی ہے۔سنیل فیور کا علاج ایک اینٹی پیراسائٹک دوا سے کیا جا سکتا ہے۔ ڈبلیو ایچ او تجویز کرتا ہے کہ خطرے کا شکار گروہ جیسے کہ چھوٹے بچے یا زراعت اور ماہی گیری کے کارکن، کئی سال تک یہ دوا باقاعدگی سے استعمال کریں۔
سائنس دانوں کے مطابق موجودہ علاج کے طریقے پیراسائٹ کی نئی اقسام کے خلاف مؤثر ثابت نہیں ہوں گے۔ مالاوی لیورپول ویلکم کلینیکل ریسرچ پروگرام کی ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر پروفیسر جینیلیسا موسایا کا کہنا ہے کہ یہ تشویش کی بات ہے۔تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ انسانی اور جانوروں کے پیراسائٹس کے ورژن ملاپ کر رہے ہیں جس کی وجہ سے نئے ’ہائبرڈ‘ ورژنز سامنے آتے ہیں۔یہ ہائبرڈز اقسام انسانوں اور جانوروں دونوں کو متاثر کر سکتی ہیں جس سے منتقلی کو کنٹرول کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔سائنسدان پہلے ہی جانتے تھے کہ مختلف جانوروں اور انسانی اقسام کے پیراسائٹ ایک دوسرے کے ساتھ افزائش نسل کر رہے ہیں، لیکن وہ یقین سے نہیں کہہ سکتے تھے کہ یہ ہائبرڈ انڈے کامیابی سے نکل رہے ہیں اور اپنے میزبان جسم سے باہر زندہ رہ رہے ہیں۔
اس بات کو ثابت کرنے کے لیے انھوں نے ملاوی کمیونٹیز کے منتخب لوگوں اور جانوروں سے نمونے لئے،نتائج ان کی توقعات سے کہیں زیادہ تھے۔ انھیں معلوم ہوا کہ جن پیراسائٹس کا تجربہ کیا گیا، ان میں سے سات فیصد میوٹینٹ ہائبرڈز تھے۔اس کا مطلب ہے کہ میوٹنٹ پیراسائٹس کامیابی سے بڑھ رہے ہیں اور آخرکار پھیل جائیں گے۔موسایا خبردار کرتی ہیں کہ مستقبل میں، وہ بالآخر پیراسائٹ کے اصل ورژنز کو پیچھے چھوڑ سکتے ہیں۔وہ کہتی ہیں ’یہ ایک بڑا مسئلہ ہو سکتا ہے کیونکہ معالجین ابھی تک نہیں جانتے کہ ہائبرڈز کی میزبانی کرنے والے مریضوں کو کیسے سنبھالا جائے۔‘انھوں نے کہا: ’یہ ہماری طرف سے پالیسی سازوں کی طرف سے ایک کال ہے کہ ’جاگو!کیا ہم جلدی کچھ کر سکتے ہیں اس سے پہلے کہ وہ بڑا مسئلہ بن جائیں؟‘
حقائق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ہائبرڈز انسانی جنسی اعضا کو متاثر کر رہے ہیں۔اگرچہ ہائبرڈ سنیل فیور کے کیسز کی تشخیص مشکل ہے کیونکہ ان کے انڈے خوردبین کے نیچے عام پیراسائٹ انڈوں کی طرح نہیں لگتے۔طبی کارکن سنیل فیور کی علامات کو جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماری سمجھنے کی غلطی بھی کر سکتے ہیں۔اگر علاج نہ کیا جائے تو یوروجینیٹل شیسٹوسومیاسس جنسی اعضا، بانجھ پن اور ایچ آئی وی کے بڑھتے ہوئے خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔خواتین کے لیے اس کے کلینیکل، سماجی اور تولیدی نتائج کو عام طور پر زیادہ سنگین سمجھا جاتا ہے۔سائنسدانوں کو معلوم ہوا ہے کہ ہائبرڈ پیراسائٹس بیماری کو نئے علاقوں تک پھیلانے میں مدد دے سکتے ہیں۔موسمیاتی تبدیلی، مسافر اور نقل مکانی سب سنیل فیور کو پھیلانے کا سبب بن سکتے ہیں اور ہائبرڈز اس پر قابو پانا مشکل بنا دیتے ہیں۔
جنوبی یورپ کے کچھ حصوں میں پہلے ہی ہائبرڈ وبا کی اطلاع دی جا چکی ہے۔ڈاکٹر امادو گربا جرمے، جو ڈبلیو ایچ او کے شیسٹوسومیاسس کنٹرول پروگرام کی سربراہ ہیں وہ کہتی ہیں ’یہ ایک عالمی مسئلہ ہے‘۔بین الاقوامی صحت کے ادارے کو خدشہ ہے کہ یہ بیماری کے خاتمے کے اہداف کو متاثر کر سکتا ہے۔وہ کہتی ہیں ’ایسے ممالک بھی ہیں جہاں انسانوں میں وائرس کی منتقلی نہیں ہوتی، لیکن یہ پیراسائٹ جانوروں میں موجود ہے اور یہ انسانوں کے لیے خطرہ ہو سکتا ہے۔‘ڈبلیو ایچ او نئے خطرے کو نشانہ بنانے کے لیے اپنا طریقہ کار بدل رہا ہے۔اس سال یہ جانوروں میں بیماری کو کنٹرول کرنے کے لیے نئی رہنمائی جاری کرے گا اور اس نے پہلے ہی بین الاقوامی الرٹس بھیجے ہیں جن میں ممالک کو ہائبرڈز کے بارے میں خبردار کیا گیا ہے۔ گرم مرطوب علاقوں کی نظر انداز شدہ بیماریوں پر قابو پانے کے لیے جو امداد دی جاتی تھی، 2018 سے 2023 کے درمیان یہ 41 فیصد کم ہوئی۔ادارے کا کہنا ہے کہ ’ہم اس بیماری کو مکمل ختم کر سکتے ہیں لیکن یہ ایک شخص کا کام نہیں۔(بی بی سی )