ماسٹر طارق ابراہیم سوہل
کم سخن غنچہ کہ در پردۂ دل رازے داشت
در ہجوم گل وریحان غم دمسازے داشت
محرم خواست ز مرغ چمن و باد بہار
تکیہ بر صحبت آں کرد کہ پروازے داشت
یہ علامہ اقبال کی شہرۂ آفاق تصنیف زبور عجم ،جو بزبان فارسی ہے، سے ماخوذ ایک، دو اشعار کی مختصر غزل ہے ۔ غزل مختصر ضرور ہے مگر اس میں جو روح پرور پیغام ہے، اگر کسی کی سمجھ میں آ جائے اور اس پے عمل کو اپنے صالحات کا حصہ بنالے تو اس انسان کو فوق البشر بننے میں کسی دشواری کا سامنا نہیں ہوگا ۔ مضمون زیر عنوان نوائے سروش مرتب ہو کر قارئین کی نذر ہے۔شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات !بد قسمتی سے دور حاضر کا تعلیم یافتہ نوجوان فارسی زبان سے نا بلد ہے، اس لئے میں اس غزل کا اردو ترجمہ پیش کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔
شاعر فرماتے ہیں کہ ایک غنچہ کے دل میں جذبۂ عشق پیدا ہوا اور اس نے ایک غمگسار اور دمساز کی ضرورت محسوس کی تاکہ اس سے اپنا درد دل بیان کرسکے لیکن اس نے غلطی سے بلبل اور باد صبا کو اپنا دمساز بنایا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ کچھ دن کے بعد نہ باد صبا رہی اور نہ بلبل رہا اور غنچہ ان دونوں کی رفاقت سے محروم ہوا۔
سبق!دنیا سرائے فانی ہے اور یہاں جس چیز سے بھی ناطہ جوڑو، وہ کسی نہ کسی دن آغوش فنا میں چلی جائیگی اس لئے ناطہ اس سے جوڑئے جسے فنا نہیں اور وہ رب ذوالجلال کی ذات ہے۔مگر حالت کیا ہے؟
نذرانہ نہیں سود ہے پیران حرم کا
اس خرقہ سالوس میں چھپا ہے مہاجن
میراث میں آئی ہے انہیں مسند ارشاد
زاغوں کے تصرف میں ہیں عقابوں کے نشیمن (علامہ اقبال )
یہاں تو پیر وجواں، پورے عرصہ حیات کو کھیل و کود اور شباب و رباب میں گزارنے پے آمادہ نظر آتا ہے۔سماجی زندگی کا ہرگوشہ اصلاح طلب نظر آ رہا ہے۔نوجوانوں کی زندگی کا وہ زمانہ جس میں وہ ترقی و خوشحالی کے لئے انقلاب بر پا کر سکتے ہیں، معاشرے میں پھیلی بد نظمی اور بے ضابطگی، بے حیائی اور بد قماشی کے در و دیوار کو اکھاڑ سکتے ہیں، منشیات کے بڑھتے مرض مہلک کے سیلاب کو سینہ سپر ہو کر روک سکتے ہیں، قوم وملت کے لئے امن و خوشحالی کا ماحول تیار کر سکتے ہیں اور اپنے والدین کے چہروں پے مسکراہٹ لا سکتے ہیں، غریبوں، یتیموں اور بے کسوں کے درد کو سمجھ سکتے ہیں، اگر یہی نوجوان کھیل و کود کو اپنی زندگی کا مقصد بنالینگے تو پھر ہمارے معاشرے کا کیا ہوگا اور ان نوجوانوں کا؟مستقبل کیسا ہوگا۔
لمحہ فکریہ!اور تو اور ،سن رسیدہ افراد بھی واہ واہ کرتے تھکتے ہی نہیں۔کیا والدین نے اپنے خون پسینے سے اپنے بچوں کی پرورش صرف اس غرض سے کی ہے کہ وہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد گھریلو ذمہ داریوں سے مفر حاصل کریں۔ اسلئے ہمارے مقتدر اور معزز افراد کو ایک تعمیری اور اصلاحی سوچ کے ساتھ آگے آنا ہوگا تاکہ ہماری نئ نسل کھیل و کود کے ساتھ ساتھ اپنی تعلیمی لیاقت پے زیادہ سے زیادہ توجہ مرکوز کریں تاکہ آنے والے کل میں وہ اپنے والدین کی امیدوں پے پورا اتریں اور اپنے خالق اور اپنے والدین کے ساتھ وفاداری کا ثبوت پیش کریں۔ فی الحال ہمارے بچے ہوش سنبھالتے ہی اور تعلیمی اداروں سے دور رہ کر دن رات اور ہر نکڑ پے کھیل و کود میں مشق کرتے نظر آ رہے ہیں اور یہ ہمارے لئے ایک لمحہ فکر ہے۔
رابطہ۔9858018662.