نئی دہلی// بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) نے سماجوادی پارٹی کے ساتھ آج گٹھ بندھن ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ سماج وادی پارٹی کے لوگوں نے اندرونی دھوکہ کیا ہے اس لئے بی ایس پی اتر پردیش میں آئندہ ضمنی اسمبلی انتخابات اکیلے لڑے گی۔ محترمہ مایاوتی نے یہاں نامہ نگاروں سے کہا کہ لوک سبھا انتخابات میں سماج وادی پارٹی کے بنیادی ووٹ یعنی یادو سماج اپنی یادو-اکثریتی سیٹوں پر بھی سماجوادی پارٹی کے ساتھ مکمل مضبوطی کے ساتھ برقرار نہیں رہ سکے ہیں، اور اندرونی سازش کی ہے ۔ اس کی وجہ سے یادو اکثریتی سیٹوں پر بھی سماجوادی پارٹی کے مضبوط امیدوار ہار گئے ۔ قنوج میں محترمہ ڈمپل یادو، بدایوں میں دھرمیندر یادو اور فیروز آباد میں مسٹر رام گوپال یادو کے بیٹے کو بھی شکست کا سامنا کرنا جو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتا ہے ۔ محترمہ مایاوتی نے کہا کہ سماج وادی پارٹی کا یادو ووٹ بی ایس پی کے امیدواروں کو منتقل نہیں ہوا ہے ۔ سماج وادی پارٹی کے لیڈروں کو اپنا ووٹ بینک بی ایس پی کے حق میں کرنے کے لئے زمینی سطح پر کام کرنا پڑے گا۔ اس کے لئے ایس پی کے رہنماؤں کو کافی وقت لگے گا، اس لئے بی ایس پی نے اتر پردیش کے آئندہ ضمنی اسمبلی انتخابات میں اکیلے اترنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ بی ایس پی لیڈر نے سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو اور ان کی بیوی ڈمپل یادو کے ساتھ بہتر تعلقات ہونے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سماج وادی پارٹی کے ساتھ مستقبل میں اتحاد کے راستے بند نہیں ہوئے ہیں، اگر اکھلیش یادو بہتر کام کرتے ہیں تو ان کے ساتھ پھر مل کر چلا جائے گا۔ محترمہ مایاوتی نے کہا کہ مسٹر اکھلیش یادو اور محترمہ ڈمپل یادو کے ساتھ تعلقات صرف اپنے سیاسی مفاد کے لئے ہی نہیں بنے ہیں بلکہ یہ رشتے آگے بھی ہر دکھ – درد کی گھڑی میں ہمیشہ ایسے ہی رہیں گے ۔ لیکن سیاسی مجبوریاں الگ ہوتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اترپردیش میں توقع کے برعکس آنے والے انتخابی نتائج میں ای وی ایم کا کردار بھی کافی کچھ خراب رہا ہے ۔ ایس پی کے بنیادی ووٹ چھٹک گیے ہیں، تو پھر یہ لوگ بی ایس پی کو ووٹ نہیں دے سکتے ۔ اس لئے اترپردیش کی پارٹی تنظیم کے تمام سینئر عہدیداروں اور عوامی نمائندوں کے خصوصی اجلاس میں ان انتخابات کے نتائج کا بغور جائزہ لیا گیا اور پتہ چلا ہے کہ گٹھ بندھن سے بی ایس پی کو کوئی خاص کامیابی نہیں مل پائی ہے ۔ سماج وادی پارٹی کے بہت لوگوں میں بھی کافی زیادہ سدھار لانے کی ضرورت ہے ۔ بی ایس پی لیڈر نے کہا کہ "اگر مستقبل میں ایس پی سپریمو اپنے سیاسی کام کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے لوگوں کو 'مشنری' بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، تو پھر ہم لوگ ضرور آگے بھی ساتھ مل کر چلیں گے "۔ انہوں نے کہا کہ بی ایس پی کے لئے اکیلے چلنا ہی بہتر ہے ۔ اسی لیے موجودہ حالت میں بی ایس پی نے اترپردیش میں کچھ سیٹوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات میں فی الحال تنہا ہی الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیاہے ۔