اسلام آباد//پاکستان کے سیاسی و سماجی حلقوں نے سعودی عرب میں قید ہزاروں پاکستانیوں کی حالت زار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے ان کی داد رسی کے لیے موثر اقدامات کرنے پر زور دیا ہے۔یہ مطالبہ حال ہی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب میں اس وقت لگ بھگ 2،795 پاکستانی مختلف الزامات کے تحت قید ہیں اور 2014ء کے بعد سے اب تک 66 پاکستانیوں کو سزائے موت دی جا چکی ہے۔یہ رپورٹ قیدیوں کے حقوق کے لیے سرگرم غیر سرکاری تنظیم جسٹس پروجیکٹ پاکستان ' جے پی پی' نے انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم 'ہیومن رائٹس واچ' کے اشتراک سے جاری کی ہے۔جسٹس پروجیکٹ پاکستان کی عہدیدار رمل محی الدین نے سعودی عرب میں مقدمات کا سامنے کرنے والے پاکستانی شہریوں کو درپیش مشکلات کے بارے میں وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ " ہم نے دیکھا ہے کہ ان کو وکیل فراہم نہیں کیے جاتے۔ ان کو ترجمان کی خدمات فراہم نہیں کی جاتی اور ان کا پورا ٹرائل عربی میں ہوتا ہے جو ان کو سمجھ نہیں آتی ہے۔"انہوں نے کہا کہ بعض اوقات انہیں تشدد کے ذریعے اقبال جرم کی دستاویز پر دستخط کرنے پر مجبور کیا جاتا اور اس بنا پر بعد ازاں انہیں سزا ہو جاتی ہے۔رمل نے کہا کہ ان میں زیادہ تر وہ افراد ہیں جنہیں منیشات اسمگل کرنے کے جرم میں موت کی سزا سنائی گئی۔