سرینگر//کشمیراور بیرونی دنیا کے درمیان واحدزمینی رابطہ سڑک 300 کلو میٹر سرینگرجموں شاہراہ پرتقریباًایک ماہ بعد دوطرفہ ٹریفک بحال کیا گیا۔محکمہ ٹریفک کے ترجمان نے بتایا کہ منگلوار کو شاہراہ پر دوطرفہ گاڑیوں کے چلنے کی اجازت دی گئی۔اس قبل اس سڑک پر صرف یکطرفہ گاڑیوں کی آمدورفت کی اجازت تھی۔انہوں نے کہا کہ مسافراورچھوٹی گاڑیوں کو اب اس شاہراہ پر دوطرفہ چلنے کی اجازت ہوگی جبکہ مال بردار گاڑیان بدستور یکطرفہ چلیں گی۔انہوں نے کہا کہ شاہراہ پر پسیاں اور پتھر گرآنے کی وجہ سے تنگ ہوئی جگہوں کوکشادہ کیاگیا جس کی وجہ سے22روز بعداس سڑک پر دوطرفہ گاڑیوں کو چلنے کی اجازت دی گئی۔ چاروں اطراف محصورکشمیروادی کیلئے اشیائے ضروریہ کی پوری سپلائی اسی سڑک سے پہنچتی ہے اوربرف باری اور پسیاں گر آنے کی وجہ سے یہ شاہراہ اکثر بندرہتی ہے جس کی وجہ سے وادی میں اشیائے خوردنی کی قلت پیدا ہوجاتی ہے۔اس دوران سرینگر بانہال ریل سروس بھی منگلوار کو بحال کی گئی جودوروزتک متواتر بند تھی۔یہ سروس منگلوار کو پھر شروع ہوئی۔اس سے قبل اس ٹرین سروس کواتوار31دسمبر کو لتہ پورہ میں سی آر پی ایف کے کمانڈوزٹرینگ سینٹر پر فدائین حملے جس میں5اہلکار ہلاک اور3زخمی ہوگئے تھے،کے بعدبند کیا گیا تھا۔