الطاف بابا
بارہمولہ// سرینگربارہمولہ شاہراہ پر واقع کانسپورہ سڑک کا حصہ سرکاری غفلت کی واضح مثال بن چکا ہے، جہاں طویل عرصے سے مرمت نہ ہونے کے باعث مسافروں اور مقامی رہائشیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔اس اہم سڑک پر جگہ جگہ گہرے گڑھے، ٹوٹ پھوٹ اور ناہموار سطح نے روزمرہ سفر کو ہزاروں مسافروں کے لیے دشوار بنا دیا ہے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سڑک کی ابتر حالت نے نہ صرف سفر کو خطرناک بنا دیا ہے بلکہ علاقے کے رہائشیوں کی روزمرہ زندگی بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔بارش کے دوران سڑک پر موجود گڑھوں میں پانی جمع ہو جاتا ہے، جس سے پوری سڑک زیرِ آب آ جاتی ہے اور پیدل چلنے والوں کے لیے گزرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔خشک موسم میں یہی ٹوٹی پھوٹی سڑک گرد و غبار کے بادل اڑاتی ہے، جس سے نہ صرف آمدورفت متاثر ہوتی ہے بلکہ مقامی لوگوں میں صحت سے متعلق خدشات بھی بڑھ رہے ہیں۔رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اگر سڑک کی مرمت بھی کر دی جائے تو اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ مسئلہ دوبارہ پیدا نہیں ہوگا، کیونکہ علاقے میں نکاسی آب کا مناسب نظام موجود ہی نہیں ہے۔کانسپورہ کے رہائشی سردار راجندر سنگھ نے کہا،’’سڑک کی فوری مرمت ناگزیر ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ نکاسی آب کی تعمیر بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ انتظامیہ اس سنگین مسئلے کی طرف کوئی توجہ نہیں دے رہی، جس کے باعث مقامی لوگوں میں شدید ناراضگی پائی جاتی ہے۔‘‘کانسپورہ سرینگر-بارہمولہ شاہراہ کے دونوں جانب واقع ہے، جہاں ایک حصہ نسبتاً بلند سطح پر جبکہ دوسرا نچلی سطح پر آباد ہے۔مقامی افراد کے مطابق شاہراہ کے کنارے نکاسی آب کا مناسب انتظام نہ ہونے کی وجہ سے بارش کا پانی جمع ہو کر اکثر رہائشی مکانات میں داخل ہو جاتا ہے، جس سے لوگوں کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔رہائشیوں کا الزام ہے کہ سڑک کی دیکھ بھال کا معاملہ مختلف محکموں کے درمیان الجھ کر رہ گیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اس سڑک کی دیکھ بھال بیکن کے دائرہ اختیار میں آتی ہے، لیکن متعلقہ محکمہ بائی پاس کی تعمیر میں مصروف ہونے کے باعث اس اہم سڑک کی مرمت پر توجہ نہیں دے رہا۔مقامی تاجر مشتاق احمد نے کہا کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس سڑک کی دیکھ بھال کی ذمہ داری لینے کے لیے کوئی تیار نہیں۔انہوں نے کہا، ’’اگرچہ اس سڑک کی دیکھ بھال بیکن کے ذمہ ہے، لیکن وہ بائی پاس کی تعمیر میں مصروف ہیں۔ آر اینڈ بی محکمہ اس میں مداخلت نہیں کر سکتا کیونکہ یہ سڑک اس کے دائرہ اختیار میں نہیں آتی۔ بائی پاس مکمل ہونے کے بعد یہ سڑک آر اینڈ بی کے حوالے کی جائے گی، مگر سوال یہ ہے کہ اس وقت تک اس کی دیکھ بھال کون کرے گا؟‘‘انہوں نے مزید کہا کہ انتظامیہ متعلقہ اداروں کو جوابدہ بنانے میں ناکام رہی ہے، جس کا خمیازہ مقامی آبادی کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔کانسپورہ بارہمولہ شہر کے تیزی سے ترقی کرنے والے علاقوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں متعدد رہائشی کالونیاں اور نجی شعبے کے بڑے طبی مراکز قائم ہیں۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس اہم سڑک کی خستہ حالی اب نہ صرف رہائشیوں بلکہ روزانہ سفر کرنے والے مسافروں اور علاقے میں آنے والے دیگر افراد کے لیے بھی ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔