امتیاز خان
سراج القلوب ایک نعتیہ مجموعہ ہے جسے سینئر صحافی اشفاق گوہر نے اپنی اولین شعری کاوش کے طور پر پیش کیا ہے۔ یہ کتاب ان کے اس روحانی ذوق کی مظہر ہے جو صحافت جیسے حقیقت پسند اور عملی میدان سے وابستگی کے باوجود ان کے اندر موجود رہا اور بالآخر شعری اظہار کی صورت میں سامنے آیا۔130صفحات پر مشتمل اس کتاب کی قیمت 250/- روپےہے،جس کی طباعت الحسین پرنٹرس واتھورہ نے انجام دی ہے جبکہ اس کا دیدہ زیب سرورق محمد حسین واتھورہ کی فنی صلاحیتوںکا آئینہ دار ہے۔
کتاب کی ابتدا’’سلام بحضور خیر الانام ؐ‘‘سے کی گئی ہے، جو مجموعے کے مجموعی مزاج اور فکری سمت کو ابتدا ہی سے واضح کر دیتا ہے۔ اس کے بعد کتاب میں تقریباً 59نعتیں شامل ہیں جن میں حضور ؐ کی مدح و ثنا کو نہایت عقیدت، محبت اور والہانہ جذبے کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ان نعتوں میں عقیدت کے اظہار میں کسی قسم کی کنجوسی محسوس نہیں ہوتی بلکہ ہر نعت میں محبتِ رسولؐ کی حرارت اور جذبے کی سچائی نمایاں طور پر محسوس ہوتی ہے۔ الفاظ اگرچہ سادہ ہیں لیکن ان کے اندر ایک داخلی کیفیت اور عقیدت کی روشنی قاری کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔مجموعے کے آخر میں حضرت شیخ حمزہ مخدوم کے بارے میں ایک منقبت بعنوان’ منقبت سلطان العارفینؒ ‘ بھی شامل ہے، جو کتاب کے روحانی دائرہ کار کو مزید وسعت دیتی ہے اور تصوف و عقیدت کے رنگ کو گہرا کرتی ہے۔
کتاب کا ’حرفِ اول‘جموں و کشمیر کے مفتی اعظم مفتی ناصر الاسلام نے تحریر کیا ہے،جن کے مطابق مصنف کے نعتیہ کلام کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ ہر شعر میں الگ الگ مفہوم اور جذباتی رنگ موجود ہے، جو قاری کو مختلف روحانی کیفیات سے ہمکنار کرتا ہے۔ اسی طرح معروف شاعر اور قلم کار مجید مسرور کے مطابق اس مجموعے میں عقیدت کی تازگی اور محبت کی سچائی نمایاں طور پر محسوس کی جا سکتی ہے۔یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ مصنف نے اس کتاب کو اپنے والد مرحوم عبدالرشید زرگر کے نام معنون کیا ہے، جس سے اس مجموعے میں ایک گہرا ذاتی اور جذباتی رنگ پیدا ہو جاتا ہے اور ہر شعر میں ایک داخلی وابستگی کی جھلک محسوس ہوتی ہے۔
صحافت اور شعر و شاعری اپنی فطرت اور مزاج کے اعتبار سے دو مختلف جہتیں ہیں۔ صحافت جہاں واقع نگاری، مشاہدے اور حقیقت کی ترجمانی سے عبارت ہے، وہیں شاعری احساس، تخیل اور باطنی کیفیات کی لطیف تعبیر کا نام ہے۔ اسلئے یہ ضروری نہیں کہ صحافت کے میدان میں مہارت رکھنے والا ہر شخص شعری فن کی باریکیوں پر بھی کامل دسترس رکھتا ہو۔ شاعری محض لفظوں کی ترتیب نہیں بلکہ جذبے کی تہہ داری، تخیل کی پرواز اور اظہار کی لطافت و نرمی کا ایک مسلسل سفر ہے۔تاہم اس کے باوجود جب کوئی صحافی اپنے مصروف اور حقیقت شناس پیشے سے نکل کر شعری اظہار کی طرف قدم بڑھاتا ہے تو یہ امر اپنی جگہ قابلِ تحسین بن جاتا ہے۔ بعض اوقات فنی پختگی کی کمی محسوس ہو سکتی ہے مگر جذبے کی سچائی اور عقیدت کی حرارت اس کمی کی تلافی اس انداز سے کرتی ہے کہ قاری محض الفاظ نہیں پڑھتا بلکہ ایک داخلی کیفیت سے ہمکنار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں تخلیق اپنی سادگی کے باوجود تاثیر کے دروازے کھول دیتی ہے اور دل کو زبان سے زیادہ محسوس ہونے لگتا ہے۔
میں یہاں یہ بات عرض کرنا مناسب سمجھتا ہوں کہ میں کوئی شاعر نہیں ہوں، اسلئے شاعری کے اسلوب اور فنی پہلوئوں پر گفتگو کی جسارت نہیں کر سکتا۔ تاہم اس بات کا اعتراف ضروری ہے کہ مصنف کا الیکٹرانک میڈیا میں ایک طویل عرصے سے مصروف رہنے اور اہم ذمہ داریاں نبھانے کے باوجود اس نوعیت کی تصنیف یقینا ایک قابلِ سراہنا اور حوصلہ افزا عمل ہے۔
مجموعی طور پر ’سراج القلوب‘ایک ایسی دلنشین نعتیہ کاوش ہے جو فنی پختگی سے زیادہ جذبے کی سچائی اور عقیدت کی حرارت پر قائم ہے۔ اس میں سادگی، خلوص اور روحانی وابستگی کا خوبصورت امتزاج پایا جاتا ہے۔ یہ کتاب اس بات کی دلیل ہے کہ مصنف نے صحافت کے میدان سے آگے بڑھ کر تخلیقی اظہار کا ایک نیا باب کھولا ہے اور امید کی جا سکتی ہے کہ یہ سفر مستقبل میں مزید ادبی نکھار کے ساتھ اردو نعتیہ ادب میں ایک قابلِ قدر اضافہ ثابت ہوگا۔