سرینگر // وادی کشمیر میں برسوں سے زیر التوا پڑے 119پلوں کی تعمیرکو اگلے 2برسوں کے دوران مکمل کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے حکام نے کہا کہ ہے کہ 73پلوں کو سٹیٹ سیکٹر کی سکیموں سے باہر نکال کر انہیں لنگویشینگ پروجیکٹ سکیم کے دائرے میں لایا گیا ہے جس پر کام شروع کر دیا گیاہے ۔100 سے زائد چھوٹے بڑے پلوں کی تعمیر کا کا م برسوں سے کھٹائی میںہے، کئی ایک پل نامکمل ہیں، کئی کی سروے مکمل ہونے کے باوجود بھی ان پر کام شروع نہیں ہو سکا ہے اور بہت سارے ایسے ہیں جن کے لئے فنڈز واگزار نہیں کئے گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق بیسوں ایسے پل ہیں، جن پر تخمینہ کی آدھی رقم خرچ ہو چکی ہے اور آدھی رقم کا کام رکا پڑا ہے۔ان پلوں کا کام یا تو محکمہ آر اینڈ بی کے ذمہ تھایا پھر دیگر تعمیراتی ایجنسیوں کو سونپ دیا گیا تھا۔ کئی نالوں ،جہاں پلوں کی اشد ضرورت ہے، پر لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت عارضی پل تعمیر کئے ہیں جو خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔ محکمہ آر اینڈ بی کا کہنا ہے کہ وادی میں نبارڈ،سی آر آئی ایف ، سٹیٹ بریج پروگرام سکیم کے تحت کل 119پل در دست لئے گئے تھے جن میں سے 10کو مکمل کر دیا گیا ، 10پر کام ہونا باقی ہے اور 100پر کام چل رہا ہے ۔تعمیرات عامہ محکمہ کے فائنا نس ونگ کے ایک اعلیٰ افسر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ پہلے سٹیٹ سیکٹر میں پلوں کی تعمیر مکمل کرنے کے حوالے سے حکام کو فنڈس کی کمی کاسامنا ہوتاتھا تاہم یوٹی حکام نے برسوں سے زیر التوا پڑے 73پلوں کو لنگویشنگ پروجیکٹ سکیم کے دائرے میں لایا اور متعلقہ محکمہ او ر ایجنسیوں سے کہا گیا کہ ان پلوں کی تعمیر کا کام 2022کے آخر تک مکمل کیا جائے۔ اس سکیم کے تحت تمام فنڈس دستیاب رکھے گئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ نباڑ سکیم کے تحت بھی پلوں کا کام چل رہا ہے۔ سی آر ایف سکیم کے تحت بھی شروع کئے گئے پلوں میں سے3کو لنگویشنگ پروجیکٹ سکیم کے دائرے میں لایا گیا ہے ۔سرکاری اعدادوشمار کے مطابق بڈگام میں متعدد پلوں کی تعمیر لوگوں کیلئے ایک خواب بنا ہوا ہے اور وہاںبرسوں سے نالہ سکھ ناگ پر پیروہ کنی گنڈ پل مکمل ہونے کا منتظر ہے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے 1996میں اس پل کا سنگ بنیاد رکھا گیا ،لیکن پل کی تعمیر برسوں سے تشنہ تکمیل ہے۔ اس 360 فٹ لمبے پل کے 8 ستونوں کی تعمیر کے بعد رورل انجینئرنگ ونگ (RW) نے اس کی تعمیر بند کردی۔ کپوارہ کے رامحال اور کرالہ پورہ چوکی بل علاقوں کے درمیان زیر تعمیر 2 پل گزشتہ کئی برسوں سے زیر تعمیر ہیں۔ رامحال ، چوکی بل ،کرالہ پورہ اور ترہگام کے لوگو ں کا کہنا ہے کہ سابق سرکاروںنے اس نالہ پر نصف درجن پلوں پر کام شروع کیا لیکن بعد میں نا معلوم وجوہات کی بنا پر کام روک دیا گیا اورکہیں سست رفتاری سے جاری ہے۔بابا پورہ ،آلوسہ، سلامت واری ،کلمونہ ،شہر کو ٹ ،پچ کوٹ اور تارت پورہ کے لوگو ں کے مطابق 2009میں اس وقت کے وزیراعلیٰ عمر عبد اللہ نے شہر کو ٹ اور آلوسہ کے درمیان نالہ کہمل پر پل کا سنگ بنیاد رکھا اور لوگو ں کو یقین دلایا کہ اس پل کو مقررہ وقت کے اندر مکمل کیا جائے گا لیکن 9سال گزر نے کے با وجود اس پل کا 5فیصد کام بھی مکمل نہیں ہو سکا۔چک درمولہ میں نالہ پہرو پر 15سال سے ایک پل تشنہ تکمیل ہے جبکہ کنن پوش پورہ میں 12سال سے ایک پل کا کام مکمل نہیں ہو سکا ہے ،یہی نہیں بلکہ نالہ ہد کرالپورہ پر تین پلوں کی ضرورت ہے، اس نالے کے آس پاس رہنے والے لوگوں نے آواجاہی کیلئے وہاں عارضی پل تعمیر کئے ہیں جو کسی بھی وقت کسی بڑے حادثہ کا سبب بن سکتے ہیں۔کرناہ کے مڈیاں گبراہ میں 2002 میں ایک پل کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔پل پر اگرچہ لاکھوں روپے خرچ کئے گئے لیکن پل کی تعمیر مکمل ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے ۔ ٹیٹوال بلاک کے گھنڈ شاٹھ میں ایک پل کی تعمیر کا کام بھی محکمہ آر اینڈ بی نے ہاتھ میں لیا لیکن کام ادھورا چھوڑا گیا ،جبکہ بدرکوٹ کو ٹیٹوال بلاک کے ساتھ ملانے والا واحد سکھ بریج بھی تعمیر کا منتظر ہے ۔کیرن میںکئی سال قبل سیلاب کی وجہ سے ڈھہ گئے پل کی تعمیر ہوئی لیکن کام ادھورا چھوڑ کر ٹھیکیدار رفو چکر ہو گیا ۔ بانڈی پورہ کے ارن علاقے کو پالہ پورہ سے ملانے والے پل کی تعمیر مکمل کر لی گئی ہے، البتہ سڑک کی مکمل تعمیر نہ ہونے کی وجہ سے یہ پل بھی مقامی لوگوں کیلئے شجر ممنوع ہو کر رہ گیا ہے۔جٹی خواجہ باغ بارہمولہ علاقے میں سرکار نے16سال قبل ایک پْل کا کام شروع کیا تاہم ابھی تک وہ نامکمل ہے جبکہ پل کی تعمیر پر کروڑوں روپے خرچ کئے گئے ہیں۔ مہاراج پورہ سوپور علاقے کو سیر کالونی سے جوڑ نے کیلئے 6سال قبل ایک پْل کی تعمیر شروع کی گئی،تاہم لاکھوںروپے خرچ کئے جانے کے باوجود بھی یہ پْل مکمل نہیں ہو سکا۔ضلع بارہمولہ کے شالکوٹ رفیع آباد علاقے میں پْل کی عدم دستیابی کی وجہ سے مقامی لوگوں کے ساتھ ساتھ طلاب کو بھی سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ قصبہ پٹن کے دارگام علاقے میں پل کی عدم دستیابی کی وجہ سے مقامی لوگوں کے ساتھ ساتھ طلاب کو بھی سخت مشکلات درپیش ہیںدارگام سے پٹن کے درمیان ایک لکڑی کا پل مقامی آبادی نے خود بنایا تھا لیکن یہ پل اب خطرے کا باعث بن چکا ہے۔ اننت ناگ میں بھی متعدد پلوں کی تعمیر کھٹائی میں ہے ۔ذرائع نے بتایا کہ نجگنڈ اترسو سے سڈورہ کامڑ ، اچھہ بل میں کھندروں سے تیلونی، قاضی گنڈ میں شنکر پورہ سے پانزتھ ، ڈورومیں گوس سے بکرپورہ ، کھاڈار سے بٹہ پورہ ، زلنگام سے بنہ گنڈ پلوں کی تعمیر برسوں سے نہیں ہو پائی ہے ۔ضلع کولگام کے کیموہ علاقے میں پل نہ ہونے کے سبب علاقے کی آبادی کو مشکلات سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق 2008 میں علاقے کا سروے کیا گیا، تاہم ایک دہائی سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود بھی پل کی تعمیرکیلئے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔پلوامہ رہمو کے درمیان نالہ رومشی پر برسوں سے پل کی تعمیر نہیں ہورہی ہے۔ یہاں پہلے پل کے بجائے ڈرائیورشن تھا، جسے کئی سال قبل سیلاب نے اپنے ساتھ لیا۔ ضلع گاندربل میں بھی5 ایسے پل ہیں جو برسوں سے تعمیر نہیں ہورہے ہیںان میں بمہ لورہ نونر واتل باغ پل بھی شامل ہے جس کا کام 70فیصد مکمل ہے اور 30فیصد کام پچھلے 2برسوں سے نہیں ہو رہا ہے۔ اسی طرح اکہال کنگن کا پل 8برسوں سے زیر تعمیر ہے۔یچھہ ہامہ میں پل کی تعمیر کھٹائی میں ہے ۔سربل سونہ مرگ میں بھی ایک پل کی تعمیر برسوں سے مکمل نہیں ہو رہی ہے ۔
۔20سال بعد 250پلوں کا سیفٹی آڈٹ شروع
اشفاق سعید
سرینگر //20برسوں میں پہلی مرتبہ جموں وکشمیر حکام نے کشمیر کے250 پلوں کا سیفٹی آڈٹ شروع کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جہاں کہیں بھی پلوں کی مرمت اور دیگر ضروری کام ہوں گے اس کیلئے فنڈس دستیاب رکھے جائیں گے اور آنے والے دنوں میں ان کی مرمت کا کام بھی شروع کر دیا جائے گا ۔محکمہ تعمیرات عامہ کے ڈائریکٹر فائنانس مزاج خان نے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ جموں وکشمیر میں گذشتہ 20برسوں سے پلوں کا کوئی بھی سفیٹی آڈٹ نہیں ہوا ہے اور حکام نے اب ان پلوں کا سیفی آڈٹ شروع کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر وادی کے اڑھائی سو پل اس دائرے میں لائے گئے ہیں اور ان کی مرمت کیلئے پلان بھی مرتب کیا گیا ہے اور اسی سال ان کی مرمت کا کام بھی شروع ہو گا ۔معلوم رہے کہ کشمیر وادی میں برسوں قبل تعمیر کئے گے پلوں کی معیاد اب ختم ہو چکی ہے اور ان پلوں کو آمد ورفت کیلئے بھی خطرناک قرار دیا جارہاہے جبکہ کئی ایک پل ایسے ہیں جو خستہ ہو چکے ہیں۔