کپوارہ// سال کی آمد آمد ہے لیکن گزرا ہوا سال بھی اپنے ایسے زخم چھو ڑ کر رخصت ہو اہے جو شاید کبھی بھرے نہیں جاتے ۔سال2017کے تیسرے مہینے یعنی مارچ سے لیکر سال کے آخری روز تک ضلع کے کپوارہ اور ہندوارہ علاقوں میں فوج اور جنگجوئو ں کے درمیان جھڑپوں کے ساتھ ساتھ سرحدوں پر در اندازی اور فائر بندی کی خلاف ورزی کے دوران 51جنگجوئو ں جا ں بحق جبکہ14فوجی اہلکار بھی ہلاک ہوگئے ۔ہندوارہ کے مختلف علاقوں میں فوج اور جنگجوئو ں کے درمیان جھڑپو ں میں 24جنگجوئو ں اور6فوجی اہلکار جبکہ کپوارہ کے مختلف علاقوں اور سرحدو ں پر 27جنگجوئو ں اور8فوجی اہلکار ہلاک ہوئے اور دیگر متعدد اہلکار زخمی ہوئے ۔علاوہ ازیں سال 2107میں ایک 12سالہ بچی اور 24سالہ شادی شدہ خاتون سمیت 5عام شہری بھی دوران جھڑپ گولیو ں سے جا ں بحق ہوگئے ۔سال 2107کے مارچ مہینے میں بٹہ پورہ ہایہامہ میں فوج اور جنگجوئو ں کے درمیان جھڑپ میں ایک12سالہ کمسن بچی کنیزہ دختر لال الدین چیچی گولی لگنے سے جا ں بحق ہوگئی جبکہ اس جھڑپ میں کنیزہ کا چھو ٹا بھائی بھی زخمی ہوا ۔علاقہ ہایہامہ کے لوگ ابھی اسی معصوم بچی کے جا ں بحق ہونے پر ماتم کناہ تھے کہ اپریل کے مہینے میں جنگجوئو ں نے پنزگام کرالہ پورہ کے فوجی کیمپ پر حملہ کیا جس میں میں کئی اہلکار ہلاک ہوگئے ۔سکورٹی فورسز نے علاقہ کو گھیرے میں لیا جس کے بعد وہا ں پر فورسز اور احتجاجی مظاہرین کے درمیان جھڑپو ں کا سلسلہ شروع ہو ا ۔احتجاجی مظاہرین نے جو ں فوجی کیمپ کی جانب پیش قدمی کی تو فوج نے مظاہرین پر گولی چلا کر 65سالہ محمد یوسف بٹ کو گولی مار کر ہلاک کیا جس کے بعد علاقہ میں حالات کئی روز تک پر تنائو رہے ۔اگست کے آخری ہفتہ میں فوج نے دریل رامحال کے ایک نوجوان شاہد بشیر میر کو وہا ں کے نزدیکی جنگل میں لیکر گولی مار کر جا ں بحق کیا ۔لواحقین نے فوج پر الزام لگایا کہ فوج نے ان کے لخت جگر 21سالہ شاہد کو لاپتہ کرنے کے بعد جنگجو کا الزام لگا کر گولی مار دی ۔شاہد کے ہلاک ہونے کے بعد علاقہ میں اس قدر حالات کشیدہ ہوگئے کہ ضلع مجسٹریٹ کی سرکاری گا ڑی کو مشتعل مظاہرین نے جلا ڈالا ۔شاہد کے جا ں بحق ہونے کے بعد اگرچہ ضلع میں حالات پرامن رہے تاہم 11دسمبر کو یو نسو ہندوارہ میں فوج اور جنگجوئو ں کے درمیان جھڑپ میں ایک شادی شدہ 24سالہ خاتون میسرہ بیگم گولی لگنے سے جا ں بحق ہوگئی اور وہ اپنی2ماہ کی شیر خوار بچی مریم کو چھو ڑ کر چلی گئی ۔معصوم مریم ابھی تک اپنی ماں کی جدائی میں دن رات روتی بلکتی ہے حتیٰ کہ ان کو تسلیاں دی جاتی ہیں لیکن مریم کو اپنی ماں کا پیار کون دے گا ۔ضلع میں ابھی میسرہ کے جا ں بحق ہونے کے زخم تازہ ہی تھے کہ ٹھنڈی پورہ کرالہ پورہ فوج نے ایک ناکہ کے دوران 22سالہ سو مو ڈرائیور آصف اقبال بٹ کو گولی مار کے جاں بحق کیا ۔آصف کے جا ں بحق ہونے کے بعد علاقہ ابھی تک ماتم کناں ہے ۔بٹہ پورہ میں 12سالہ کنیزہ یا پنزگام کے بزرگ شہری محمد یوسف بٹ کی ہلاکت ہو ۔دریل کے21سالہ شاہد بشیر میر ،یونسو ہندوارہ کی 24سالہ خاتون میسرہ بیگم یا ٹھنڈی پورہ کرالہ پورہ کے سو مو ڈرائیور آصف اقبال بٹ کی ہلاکت ہو پولیس نے کیس درج کر کے تحقیقات شروع کر دی جبکہ مجسٹرئل انکوائری کے بھی احکامات صادر کئے ۔سال رفتہ کے اگست مہینے میں دیور لولاب میں فوج نے منظور احمد خان کو گرفتار کر کے لاپتہ کر دیا ۔اعلیٰ حکام کی یقین دہانی کے با وجود بھی ابھی تک منظور کی حراستی گمشدگی کے بارے میں کوئی اتہ پتہ نہیں ہے جبکہ منظور کے دوسرے ساتھی نصراللہ خان کو فوج نے گرفتار کر نے کے بعد شدید مارپیٹ کے بعد نیم مردہ حالت میں چھو ڑ دیا اور اس کے دو نو ں گردے خراب ہوچکے ہیں ۔