سرینگر /زوجیلا اور زیڈ موڈ ٹنل کی تعمیر کے دوران محکمہ جنگلات نے 10ہزار کے قریب دیودار ،کائرو اور دیگر چھوٹے پودوں کوکاٹنے کیلئے درختوں کی مارکنگ کر رکھی ہے۔تاہم محکمہ کا کہنا ہے کہ انہیں اُمید ہے کہ پروجیکٹ کی تعمیر کے دوران ضرورت کے مطابق ہی درخت کاٹے جائیں گے ۔محکمہ جنگلات نے ان اطلاعات کی نفی کردی ہے کہ ابھی تک ٹنل کی تعمیر کے سلسلے میں 300درخت کاٹے گئے ہیں۔ نیشنل ہائی ویز اینڈ انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ کارپوریشن (این ایچ آئی ڈی سی ایل) نے زوجیلہ سرنگ کے قریب سڑک کی تعمیر کے لئے 52 ہیکٹر جنگلاتی اراضی حاصل کرنے کیلئے جموں و کشمیر کی حکومت سے منظوری طلب کی ہے۔زوجیلا سرنگ مکمل ہونے کے بعد NH.1 شاہراہ پر سرینگراور لداخ کے درمیان سفر آسان بن جائے گا ۔اس پروجیکٹ کو پچھلے سال میگھا انجینئرنگ اینڈ انفراسٹرکچر لمیٹڈ (ایم ای ایل) کو سونپا گیا اور اس نے4509.5 کروڑ روپے کی سب سے کم بولی دی تھی۔کشمیر وادی میں کسی بھی بڑے پروجیکٹ کی تعمیر شروع ہونے سے یہاں کے ماحولیات کو کافی نقصان پہنچتا ہے ، سانبہ امر گڑ ھ ٹرانسمیشن لائن بچھانے کے دوران جنگلاتی اراضی پر موجود دیودار ، کائرو اور بدھل اقسام کے 14686درختوں کو کاٹنے کیلئے مارک کیا گیا تھا تاہم بعد میں 11449درخت کاٹے گئے۔ وادی بنگس درنگیاڑی سڑک ، یا پھر دیگر پروجیکٹوں کی تعمیر کے دوران بھی ہزاروں کی تعداد میں درختوں کا صفایا کیا گیا اور اب محکمہ جنگلات کا کہنا ہے کہ زوجیلہ اور زیڈ موڑ سرنگوں کی تعمیر مکمل کرنے کیلئے 8سے 10ہزار کے قریب درختوں کو مارک کر کے رکھا گیا ہے ۔معلوم رہے کہ زیڈ موڑ ٹنل کی تعمیر کو سال 2013میں سرکار نے ہری جھنڈی دکھائی ہے ،جبکہ زوجیلا ٹنل کو 2017میں منظور کیا گیا تھا ۔محکمہ جنگلات کا کہنا ہے کہ پروجیکٹوں کی تعمیر کی زد میں آنے والی جنگلاتی اراضی کا جو تخمینہ ٹنل تعمیر کرنے والی کمپنی نیشنل ہائی وے اینڈ انفراسٹریکچر ڈیولپمنٹ کارپورٹ کو پیش کیا ہے ،اس کا معاوضہ حاصل کیا گیا ہے اوراس کیلئے 8سے 10ہزار درختوں اور چھوٹے بڑے پودوں کو بھی پروجیکٹ میں لایا گیا ہے ۔ڈی ایف او گاندربل میر اویس احمد نے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تک کمپنی کی طرف سے کوئی بھی درخت نہیں کاٹا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ تعمیراتی کمپنی پر، جو محکمہ جنگلات کی اجازت کے بغیر نلہ گراٹھ اور بالہ تل میں کمپارٹمنٹ نمبر 63Aسے 300 کے قریب چھوٹے بڑے درخت کاٹنے کا الزم تھا ،وہ سرسر بے بنیاد ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پروجیکٹ کیلئے درکار بڑی مشینری کے چلنے سے جنگلات کی زمین میں جو چھوٹے درخت ہوتے ہیں ان کو نقصان پہنچ سکتا ہے جس کیلئے ہم نے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جبکہ محکمہ کی ایک ٹیم نے بھی وہاں از خود دورہ کیا ،جہاں سے بڑے پیمانے پردرختوں کے کٹنے کا احتمال رہتا ہے۔اویس نے کہا کہ جنگلاتی اراضی اور درختوں کی کٹائی کیلئے کمپنی نے پہلے ہی سپریم کورٹ کے آڈر کے مطابق پیسہ ادا کر نا شروع کر دیا ہے ۔اویس نے مزید بتایا کہ محکمہ نے کم سے کم دس ہزار درختوں کو مارک کیا ہے اور اُمید ہے کہ سب ہی اس کی زد میں نہیں آئیں گے ،کیونکہ سرنگ پہاڑ کے اندر سے گزرے گی ،لیکن ہم پہاڑ کے اوپر جو ہریالی اور چھوٹے چھوٹے پودے ہیں، ان کو بھی اسی گنتی میں لاتے ہیں ۔اویس نے کہا کہ جب کسی پروجیکٹ میں 6ہزار درخت کاٹنے کیلئے مارک کئے جاتے ہیں تو ضروری نہیں کہ سب کٹ جائیں ۔ انہوں نے کہا ہماری یہ کوشش ہوتی ہے کہ صرف اتنے ہی درخت کاٹیں جن کی ضرورت ہو ۔