سمت بھارگو
جموں//جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ بحال کرنے کے مطالبے کو مزید مؤثر انداز میں اٹھانے اور 20 جولائی کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر مجوزہ دھرنے کے لیے عوامی حمایت حاصل کرنے کی غرض سے نیشنل کانفرنس 12 جولائی کو جموں میں ایک بڑی عوامی ریلی منعقد کرے گی۔ ریلی میں جموں صوبے کے تمام دس اضلاع سے بڑی تعداد میں کارکنان اور عوام کی شرکت متوقع ہے۔یہ اعلان جموں و کشمیر کے نائب وزیر اعلیٰ سریندرچوہدری نے کٹرہ میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی درجہ کی بحالی صرف نیشنل کانفرنس کا نہیں بلکہ جموں و کشمیر کے ہر شہری کا بنیادی مطالبہ ہے، کیونکہ عوام اپنے آئینی حقوق کی مکمل بحالی چاہتے ہیں۔
سریندر چوہدری نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے اسمبلی انتخابات کے بعد جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ واپس دلانے کا وعدہ کیا تھا، تاہم ابھی تک اس وعدے پر کوئی ٹھوس پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی، جس کی وجہ سے عوام خود کو دھوکہ کھایا ہوا محسوس کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کی جانب سے کشمیر میں بھی ایک عوامی ریلی منعقد کی جا رہی ہے، جبکہ 12 جولائی کو جموں کے ہری سنگھ پارک میں ہونے والی ریلی سے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ خطاب کریں گے۔ ان کے مطابق اس اجتماع میں جموں صوبے کے تمام اضلاع سے عوام کی بڑی تعداد شریک ہوگی اور ریاستی درجہ کی بحالی کے مطالبے کے حق میں اپنی آواز بلند کرے گی۔نائب وزیر اعلیٰ نے امید ظاہر کی کہ جموں کے عوام اس ریلی کو بھرپور حمایت دیں گے کیونکہ ریاستی درجہ کی بحالی کا مطالبہ پورے جموں و کشمیر کے عوام کا مشترکہ مطالبہ بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی دباؤ کے ذریعے مرکزی حکومت کو اپنے وعدے پورے کرنے پر آمادہ کیا جائے گا۔اس موقع پر سریندر چوہدری نے کٹرہ شہر سے شری ماتا ویشنو دیوی بھون تک مجوزہ نئے روپ وے منصوبے کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے پر مقامی لوگوں کے تحفظات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے اور اگر اسے موجودہ شکل میں نافذ کیا گیا تو ہزاروں مزدور اور روزانہ روزگار سے وابستہ افراد بے روزگار ہو جائیں گے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت عوام کے جذبات اور مقامی لوگوں کے معاشی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے منصوبوں پر نظرثانی کرے اور تمام متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے بعد ہی کوئی فیصلہ کیا جائے۔نیشنل کانفرنس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ 12 جولائی کی ریلی میں بھرپور شرکت کرکے ریاستی درجہ کی بحالی کے مطالبے کو مضبوط بنائیں اور 20 جولائی کو جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج کی کامیابی میں اپنا کردار ادا کریں۔