رمضان المبارک کی آمد آمد ہے، ہر طرف مومنین کے اندر صیام کے تئیں اظہار مسرت ہورہا ہے۔ یہ وہ مبارک مہینہ ہے جس کا انتظار صاحبانِ ایمان کو سال بھر رہتاہے کیونکہ یہ نیکی،برکت، بخشش،عنایت،توفیق،عبادت،زہد،تقویٰ،مروت،خاکساری،مساوات، صدقہ وخیرات،رضائے مولیٰ،جنت کی بشارت،جہنم سے گلوخلاصی کا مہینہ ہے۔ اس ماہ مقدس میں مومن کے اندرفکرآخرت کے ذریعہ رب سے کامرانی والی ملاقات کی خواہش بیدار ہوتی ہے۔سبحان اللہ! اس قدر پاکیزہ و محترم مہینہ۔یہ رب کی طرف سے اس پر ایمان لانے والوں کے لئے عظیم تحفہ ثابت ہے کہ ان کی زندگیوں کامعمول ہی نہیں بدلتا پوری زندگی کی کایا پلٹ ہوجاتی ہے۔ اب ہمارا یہ فرض بنتا ہے کہ اس ماہ ِعظیم الشان کا کیسے استقبال کریں اور کس عمدگی سے اس مہینے کے فیوض وبرکات سے اپنے دامن کو نیکیوں کے موتی بھرلیں؟
اپنے ذہن میں ذرا تصور کریں کہ جب آپ کے گھر کسی اعلیٰ اور خاص مہمان کی آمد ہوتی ہے تو آپ کیا کیا اہتمامات کرتے ہیں؟ آپ کا جواب ہوگا،ہم بہت ساری تیاریاں کرتے ہیں۔ گھرآنگن کو خوب سجاتے ہیں، خود بھی ان کے لئے زینت اختیار کرتے ہیں، پورے گھر میں خوشی کا ماحول ہوتاہے، بچوں کے لب پہ نغمے،چہرے پہ خوشی کے آثار پوٹھتے ہیں۔ مہمان کی خاطرتواضع کیلئے اَن گنت پرتکلف سامان تیار کئے جاتے ہیں۔ جب ایک مہمان کے لئے اس قدر تیاری تورب الکریم کی طرف سے تمام مہمانوں میں سب سے اعلیٰ وارفع بھیجا ہوا مہمان ہو تو اس کی تیاری کس قدر پرزور وشور ہونی چاہئے؟ آئیے ان تیاری سے ایک مختصر خاکے کا جائزہ لیتے ہیں۔
(1)عظمت کا احساس :رمضان کا مہینہ بے حد عظیم و بابرکت ہے، اس کی عظمت کا احساس اور قدرومنزلت کا لحاظ آمد رمضان سے قبل ہی ذہن ودماغ میں پیوست کرلیاجائے تاکہ جب رمضان میں داخل ہوں تو غفلت،سستی،بے اعتنائی،ناقدری،ناشکری، احسان فراموشی اور صیام وقیام سے بے رغبتی کے اوصاف ِرذیلہ نہ پیدا ہوں۔ یہ اتنی عظمت وقدر والا مہینہ ہے کہ اس کی ایک رات کا نام ہی قدرومنزلت ہے۔ اللہ تعا لیٰ فرماتا ہے :ترجمہ:بے شک ہم نے قرآن کو لیلۃ القدر یعنی باعزت و خیروبرکت والی رات میں نازل کیا ہے۔اورآپ کو کیا معلوم کہ لیلتہ القدرکیا ہے۔لیلتہ القدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔اس رات میں فرشتے اور جبریل روح الامین اپنے رب کے حکم سے ہر حکم لے کر آترتے ہیں۔ وہ رات سلامتی والی ہوتی ہے طلوع فجر تک۔ (سورۃ القدر)
یہ نہ سمجھیں کہ رمضان کی ایک رات ہی قدر کی رات ہے بلکہ اس کا ہردن اور ہررات قدرومنزلت کا حامل ہے۔
(2) نعمت کا احساس :رمضان جہاں رب کا مہمان ہے، وہیں اس کی طرف سے ایک عظیم نعمت بھی ہے۔ عام طور سے انسان کو اس نعمت کا احساس کم ہی ہوتا ہے جو حاصل ہوجاتی ہے لیکن جو نہیں مل پاتی اس کے لئے تڑپتا رہتا ہے۔ ایک بینا کو آنکھ کی نعمت کا احساس کم ہوتا ہے، اس لئے اس کا استعمال برائی کے مشاہدے میں کرتاہے۔ اگر اسے یہ احساس ہو کہ یہ رب کی بہت بڑی نعمت ہے اس کی قدرکرنی چاہئے تو کبھی اپنی آنکھ سے برائی کا ادراک نہ کرے۔ بینا کی بہ بسبت اندھے کو آنکھ کی نعمت کا احساس زیادہ ہوتا ہے۔ یہ فرق ایمان میں کمی کا سبب ہے۔ جس کا ایمان مضبوط ہوگا ، وہ ہرنعمت کی قدر کرے گا۔ایمان کا تقاضہ ہے کہ ہم رمضان جیسے مقدس مہینے کی نعمت کا احساس کریں۔ اور اس احساس کا تقاضہ ہے کہ اس نعمت پہ رب کی شکرگذاری ہوجیساکہ اللہ کا فرمان ہے۔ترجمہ: اور جب تمہارے پروردگار نے تمہیں آگاہ کر دیا کہ اگر تم شکر گزاری کرو گے،تو بے شک میں تمہیں زیادہ دوں گا اوراگر تم ناشکری کرو گے تو یقیناً میرا عذاب بہت سخت ہے۔(ابراہیم:۷)
اللہ کا فرمان ہے:ترجمہ: کیا آپ نے انکی طرف نظر نہیں ڈالی جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کے بدلے ناشکری کی اور اپنی قوم کو ہلاکت کے گھر میں لا اُتارا،یعنی جہنم میں جس میں یہ سب جائیں گے جوبدترین ٹھکانہ ہے۔(ابراہیم:۲۸۔۲۹)نعمت میں رمضان جیسا مہینہ نصیب ہونے کی بھی نعمت ہے اور صحت وتندرستی اس پہ مستزاد ہے۔ان نعمتوں کا احساس کیوں نہ کریںکہ ان نعمتوں کے بدلے ہمیں ہرقسم کی نیکی کی توفیق ملتی ہے۔ روزہ،نماز،صدقہ،خیرات،دعا،ذکر،انابت الیٰ اللہ،توبہ،تلاوت، مغفرت،رحمت وغیرہ ان نعمتوں کی دین ہے۔
(3) انابت الی اللہ:جب ہم نے اپنے دل میں مہمان کی عظمت کاملاً بٹھا دی، اس عظیم نعمت کی قدرومنزلت کا بھی احساس کرلیا تو اب ہمارا یہ فریضہ بنتا ہے کہ دنیا سے رُخ موڑ کے اللہ کی طرف لوٹ جائیں۔’’ انابت الی اللہ‘‘ عظمت اور نعمت کے احساس میں مزید قوت پیدا کرے گی۔ اللہ کی طرف لوٹنا صرف رمضان کے لئے نہیں ہے بلکہ مومن کی زندگی ہمیشہ اللہ کے حوالے اور اس کی مرضی کے حساب سے گذرنی چاہئے۔ یہاں صرف بطور تذکیر لکھاجارہاہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ بندہ رب سے دور ہوکر روزہ کے نام پہ صرف بھوک اور پیاس برداشت کرے اور اپنے کردار وبرتاؤ میں تبدیلی نہ لائے۔ اگر ایسا ہے تو روزے کا کوئی فائدہ نہیں۔ پہلے رب کی طرف لوٹیں، اس سے تعلق جوڑیں اور اس کو راضی کریں پھر ہماری ساری نیکی قبول ہوں گی۔انابت الیٰ اللہ سے مراد یہ ہے کہ ہم رب پر صحیح طور ایمان لائیں، ایمان باللہ کو مضبوط کریں، عبادت کو اللہ کے لئے خالص کریں، رب پہ مکمل اعتماد کریں، اللہ کو سارے جہاں کا حاکم مانیں، خود کو اس کا فقیر اور محتاج جانیں، کسی غریب ومسکین کو حقارت کی نظر سے نہ دیکھیں،ناداروں کی اعانت کریں،بیماری، محتاجی اورمصیبت میں صرف اور صرف اسی کی طرف رجوع کریں۔ یہ ساری باتیں انابت الیٰ اللہ میں داخل ہیں۔ بہت سے لوگ ہیں جو نماز بھی پڑھتے ہیں،روزہ بھی رکھتے ہیں، لمبے لمبے قیام اللیل کرتے ہیں مگر غیراللہ کو بھی خدانخواستہ پکارتے ہیں، اللہ کو چھوڑ کو اوروں کو مشکل کشا سمجھتے ہیں،بیماری، محتاجی اور مصیبت میں مردوں سے استغاثہ کرتے ہیں۔ ان لوگوں کا روزہ کیسے قبول ہوگا؟ گویا ایسے عقیدے والوں کا مکمل رمضان اور اس کی نیکیاں ضائع ہوگئیں۔ اللہ تعالی کا فرمان لاریب ہے۔ترجمہ:یقیناً تیری طرف بھی اور تجھ سے پہلے (کے تمام نبیوں) کی طرف بھی وحی کی گئی ہے کہ اگر تو نے شرک کیا تو بلاشبہ تیرا عمل ضائع ہو جائے گا اور بالیقین تو زیاں کاروں میں سے ہو جائے گا۔ (الزمر:65)اس لئے اس بات کو اچھی طرح ذہن نشیں کرلیں۔
(4) پیش قدمی:اس کے دو پہلو ہیں۔ (الف)منکر سے اجتناب (ب) معروف کی رغبت
(الف) منکر سے اجتناب: رمضان کے استقبال میں ایک اہم پہلو یہ ہے کہ ہم پہلے اپنے گذشتہ گناہوں سے سچی توبہ کریں اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا عزم مصمم کرلیں۔ دیکھا جاتا ہے لوگ ایک طرف نیکی کرتے ہیں تو دوسری طرف بدی کرتے ہیں۔ اس طرح اعمال کا ذخیرہ نہیں بن پاتا بلکہ بدی کے سمندر میں ہماری نیکیاں ڈوب جاتی ہیں۔ ویسے بھی ہمارے پاس نیکی کی کمی ہے وہ بھی ضائع ہوجائے تو نیکی کرنے کا فائدہ کیا؟ اس لئے نیکی کو اگر بچانا چاہتے ہیں اور رمضان المبارک کی برکتوں، رحمتوں، نعمتوں، بخششوں اور نیکیوں کو بچانا چاہتے ہیں تو بدی سے مکمل اجتناب کرنا پڑے گا۔
اللہ تعالی کا فرمان ہے: ترجمہ: کہہ دیجئے کہ تم خوشی یا ناخوشی کسی بھی طرح خرچ کروقبول تو ہرگز نہ کیا جائے گا، یقینا تم فاسق لوگ ہو۔(الزمر65)اس آیت سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالی فسق وفجور اور ناپسندیدگی سے خرچ کرنیکی وجہ سے صدقہ کو قبول نہیں کرتا۔اورحدیث میں ہے:ترجمہ: ہم لوگ بریدہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کسی غزوہ میں بارش والے دن تھے تو انہوں نے کہا کہ نماز عصر جلدی پڑھو، اس لیے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا ہے: جو شخص عصر کی نماز چھوڑ دے تو اس کا (نیک) عمل ضائع ہو جاتا ہے۔ ( صحیح البخاری ۵۹۴)۔جو آدمی عبادت بھی کرے اور گناہ کا کام بھی کرے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کا نیک عمل مردود ہے۔ــ اللہ کا فرمان ہے : ترجمہ :اس میں کوئی شک نہیں کہ نماز بے حیائی وبرائی کے کام سے روکتی ہے (العنکبوت: ۴۵) توجونمازیا روزہ بے حیائی سے نہ روکے وہ اللہ کے یہاں قابل رد ہے۔
(ب) معروف کی رغبت:رمضان بھلائی کمانے کے واسطے ہے، اللہ تعالیٰ مومنوں کو متعدد طریقے سے اس مہینے میں بھلائی سے نوازتاہے، ہمیں ان بھلائیوں کے حصول کی خاطر رمضان سے پہلے ہی کمربستہ ہوجانا چاہئے اور مواقع حسنات سے مستفید ہونے کے لئے برضا ورغبت ایک خاکہ تیار کرنا چاہئے تاکہ ہرقسم کی بھلائیاں سمیٹ سکیں۔ سمجھ کر قرآن پڑھنے کا اہتمام(کم از کم ایک ختم)، پنچ وقتہ نمازوں کے علاوہ نفلی عبادات، صدقہ وخیرات، ذکرواذکار، دعاومناجات، طلب عفوودرگذر، قیام اللیل کا خاص خیال،روزے کے مسائل کی معرفت بشمول رمضان کے مستحب اعمال، دروس و بیانات میں شرکت، اعمال صالحہ پہ محنت ومشقت اور زہدوتقوی سے مسلح ہونے کا مکمل خاکہ ترتیب دیں اور اس خاکے کے مطابق رمضان المبارک کا روحانی ومقدس مہینہ گزاریں۔رمضان میں ہرچیز کا ثواب دوچندہوجاتا ہے اور روزے کی حالت میں کارثواب کرنا مزید اضافہ حسنات کا باعث ہے، اس لئے اس موسم میں معمولی نیکی بھی گرانقدر ہے خواہ مسواک کی سنت ہی کیوں نہ ہو۔ ہر نماز کے لئے مسواک کرنا، اذان کا انتظار کرنا بلکہ پہلے سے مسجد میں حاضررہنا،تراویح میں پیش پیش رہنا، نیکی کی طرف دوسروں کو دعوت دینا، دروس ومحاضرات کا اہتمام کرنا،منکر ات کے خلاف مہم جوئی کرنا اور صالح معاشرہ کی تشکیل کے لئے جدوجہد کرنا سبھی ہمارے خاکے کا حصہ ہوں۔
(5) بہتر تبدیلی :استقبال رمضان کے لئے خود کو مکمل تیار کریں، نیکی کا جذبہ وافر مقدار میں ہواور اپنے اندر اچھائی کے تئیں ابھی سے ہی بدلاؤ نظر آئے۔ پہلے سے زیادہ سچائی اور نیکی کی راہ اختیار کرے۔ رمضان چونکہ رمضان ہے، اس لئے اس سے قبل ہی بہتری کااظہارشروع ہونے لگ جائے۔ تقویٰ کے اسباب اپنائے اور خود کو متقی انسان بنانے پہ عبادت کے ذریعہ جہد کرنے کا مخلصانہ جذبہ بیدار کرے۔ یہاں یہ بات بھی نہیں بھولنی چاہئے کہ اپنے اندر بہتری پیداکرنے کی خوبی اور خاصہ صرف رمضان کے لئے نہیں بلکہ سال بھر کے لئے پیدا کرے۔ ایسے بہت سے لوگ ہیں جو رمضان کے نمازی ہواکرتے ہیں اور رمضان رخصت ہوتے ہی نماز سے بلکہ یہ کہیں اللہ سے ہی غافل ہوجاتے ہیں۔اس لئے ابھی سے ہی یہ راہ مہیارہے کہ اچھائی کے لئے بدلاؤ مہینہ بھر کے لئے نہیں سال بھر بلکہ زندگی بھر کے لئے ہو۔ اسی طرح کا بدلاؤ رمضان کے سارے اعمال کو اللہ کے حضور شرف قبولیت سے نوازے گا اورآپ کی اخروی زندگی کو بہتر سے بہترکرے گا۔
آخری بات:رمضان کے استقبال کے لئے کوئی خاص دعا، خاص عبادت وروزہ یا کوئی مخصوص ومتعین طریقہ شریعت میں وارد نہیں ہواہے۔ حدیث میں رمضان کے استقبال میں ایک دو دن پہلے کا روزہ رکھنا منع ہے۔ لہٰذا دین میں کسی طرح کی بدعت کے ارتکاب سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان کا بہترین استقبال کرنے، اس مہینے سے ہرطرح کا فائدہ اٹھانے کا موقع فراہم کرے اور رمضان میں بکثرت اعمال صالحہ انجام دینے کی توفیق دے اور ان اعمال کو آخرت میں نجات کا ذریعہ بنائے۔ آمین
رابطہ:اسلامک دعوۃسنٹر۔ طائف(سعودی عرب)