راجوری //راجوری او ر پونچھ اضلاع میں حالیہ انکائونٹر و دیگر ملی ٹینسی سے متعلقہ کارروائیوں کے بعد جہاں سیکورٹی اور انٹیلی جنس ایجنسیاں تحقیقات میں مصروف ہیں وہائیں ان کو ابھی تک عسکریت پسندوں کیساتھ کسی مقامی شخص کی وابستگی کا کوئی ثبوت نہیں ملا ۔اس تحقیقات کے دوران انٹیلی جنس اور تحقیقاتی ایجنسیوں کو مبینہ طور پر ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے جس سے عسکریت پسند گروپ کے ساتھ کسی مقامی کے سرگرم ملوث ہونے کا اشارہ ملتا ہو جس سے توقع کی جاتی ہو کہ کچھ لوگ رسد فراہم کرتے ہیں۔یہ نتائج ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب جڑواں اضلاع کے مختلف پولیس سٹیشنوں میں درج مقدمات کی پولیس تفتیش کے علاوہ مختلف انٹیلی جنس ایجنسیوں کی کثیر سطحی تحقیقات جاری ہیں،جہاں ایک طرف پولیس جڑواں اضلاع کے مختلف تھانوں میں درج مختلف مقدمات کی تفتیش کر رہی ہے وہیں مختلف انٹیلی جنس ایجنسیاں بھی اپنے اپنے سیٹ اپ کے ذریعے تحقیقات کر رہی ہیں جس میں ایجنسیوں کو اہم لیڈز موصول ہوئے ہیں۔سرکاری ذرائع نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ان معاملات کی تفتیش مختلف خطوط پر جاری ہے جس میں خاص طور پر اب تک جڑواں اضلاع میں عسکریت پسندوں کو ملنے والی مقامی حمایت شامل ہے۔انہوں نے بتایا کہ جنگجوؤں کو لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے کے الزام میں اب تک دونوں اضلاع کے کچھ لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے اور ان گرفتاریوں میں سے چار پونچھ ضلع کے مینڈھر سب ڈویژن میں اور دو راجوری کے تھنہ منڈی سے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کو ایسے شواہد ملے ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ راجوری اور پونچھ میں عسکریت پسندوں کو حاصل ہونے والی واحد مقامی حمایت رسد کے حوالے سے ہے۔لاجسٹک سپورٹ کو بھی دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا ہے جس میں رضاکارانہ اور ڈر کی وجہ سے بھی حمایت حاصل کی جاسکتی ہے ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ابھی تک راجوری اور پونچھ کا کوئی بھی مقامی عسکریت پسندی کی صفوں میں براہ راست ملوث نہیں پایا گیا ہے۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ سیکورٹی سیٹ اپ کیلئے بنیادی تشویش مقامی لوگوں کی عسکریت پسندی کی صفوں میں براہ راست شمولیت ہے لیکن خطہ پیر پنچال میں ایسا کوئی کیس نہیں ملا۔اگرچہ پہلے، یہ اندیشے تھے کہ کوئی بھی مقامی عسکریت پسندی میں براہ راست ملوث ہو سکتا ہے اور ہو سکتا ہے کہ اس نے ہتھیار اٹھالئے ہوں لیکن خدشات منفی ہو گئے اور ایسے کوئی ثبوت موجود نہیں ہیں۔جاری تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے، سرکاری ذرائع نے بتایا کہ عسکریت پسندی میں کسی مقامی کی براہ راست شمولیت نہیں پائی گئی ہے اور اب تک صرف لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے کے حوالے سے اطلاعات ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ’’آپ کہہ سکتے ہیں کہ راجوری اور پونچھ کا کوئی بھی مقامی سرگرم عسکریت پسند نہیں ہے‘‘۔ایک سینئر پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پرکشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ اعلیٰ سطحی تحقیقات پیشہ ورانہ خطوط پر کی جا ری ہے ۔انہوں نے بتایا کہ اہم پیش رفت کے بارے میں ذرائع ابلاغ کو بتایا جائے گا۔