بی جے پی کے تھیلے سے بلی تو پہلے ہی باہر آچکی تھی، لیکن بھوپال میں جس انداز سے اُس نے میاؤ ں میاؤں کرنا شروع کردیا ہے، اُس سے یہ صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ سنگھ پریوار کسی بھی دہشت گرد کو سر آنکھوں پر بٹھانے کے لئے تیار ہے بشرطیکہ وہ دہشت گرد ہندو مذہب سے تعلق رکھتا ہو۔ مالیگا ئوں دھماکے میں ملوث سادھوپرگیہ سنگھ ٹھاکر کو بھوپال میں کانگریس کے ڈگوجے سنگھ کے خلاف کھڑا کرکے بی جے پی نے پارلیمانی انتخاب کے دوسرے مرحلے سے ایک دن قبل اپنے حمایتیوں کو صاف طور سے یہ عندیہ دے دیا ہے کہ پارٹی کا ہندو راشٹر کا نعرہ فقط نعرہ نہیں بلکہ ایک مشن ہے اور اس مشن میں پارٹی دہشت گردوں کے ساتھ ہاتھ ملانے میں ذرا بھی نہیں ہچکچائے گی۔ ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘ نعرہ لگانے والی پارٹی ہر اُس شخص کو گلے لگا رہی ہے جو مسلمانوں کے خلاف زہر اُگلتا ہے، جو مسلمانوں کے خلاف دہشت گردی میں ملوث ہے۔
2014 کے پارلیمانی انتخابات میں ’گجرات ماڈل‘ کی بہت چرچا ہوئی۔ اس ماڈل کی ڈفلی بجانے والے میڈیا نے اسے ترقی، خوشحالی اور بہتر اقتصادی ماحول کا ماڈل گرداننا شروع کردیا لیکن اس ماڈل کا تخلیق کار جانتا تھا کہ اُس کے پٹارے میں کونسا جادو ہے جس کا استعمال صحیح وقت پر کرکے وہ اپنے اقتدار کو دوام بخش سکتا ہے۔ اُس کے پٹارے میں ’گجرات ماڈل‘ ہی تھا لیکن 2002 والا۔ اور جب اقتدار میں آنے کے بعد اُسے لگا کی 56 انچ چھاتی نہ بیروزگاری کو ختم کرسکتی ہے اور نہ رشوت خوری کو، نہ کسانوں کی خود کشیوں پر روک لگا سکتی ہے اور نہ ہی امریکی ڈالر کے مقابلے ہندوستانی روپے کو کسی طور بہتر بناسکتی ہے، تو جادوگر صاحب نے اپنے پٹارے سے دھیرے دھیرے، 2002 والے ’گجرات ماڈل‘ کے نسخے نکالنا شروع کر دئے۔ کہیں کسی اخلاق کو قتل کیا گیا تو کہیں کسی کالو خان کو، کہیں ’بابر کی اولاد‘ کو سمندر میں ڈبونے کی باتیں کی گئیں تو کہیں Love Jihad کے نام پر مسلمانوں کا جینا حرام کر دیا گیا۔مسلمانوں کے ساتھ ساتھ دیگر اقلیتی فرقوں کا بھی نشانہ بنایا جانے لگا۔ کہیں روہت ویمولہ کو خود کشی کرنے پر مجبور کردیا گیا تو کہیں کنہیا کمار کو گرفتار کیا گیا۔ لیکن جب الیکشن سر پر آگیا تو جادوگر صاحب کو احساس ہوا کہ اس کا 2002 والا گجرات ماڈل متوقع نتایج نہیں دے رہا ہے تو اُس نے ہندوستان کے باہر دیکھنا شروع کیا اور قدرت نے اُسے پلوامہ خود کش حملہ تحفے میں دے دیا۔
پھر کیا تھا، ہر سو بالا کوٹ حملے کے چرچے ہونے لگے۔ 56 انچ کی چھاتی پھول کر غبارہ ہونے لگی۔اس نے لوگوں کو یہ پیغام دینا شروع کردیا کہ اُس کا گجرات ماڈل صرف اخلاق اور کالو خان کو ہی نشانہ نہیں بنا سکتا بلکہ اُن کے ہم مذہب ملک کو بھی سبق سکھا سکتا ہے۔لوگوں نے ایک بار پھر اس کے قصیدے گانا شروع کردئے لیکن ان قصیدوں کی عمر بہت ہی مختصر رہی کیونکہ چہار طرف سے پلوامہ اور بالاکوٹ کو لے کر سوال اُٹھنا شروع ہوگئے اور 56 انچ کی چھاتی کی بھی ہوا نکلنے لگی۔پٹارے میں پھر ہاتھ ڈالا گیا، 2002 گجرات ماڈل کا سب سے کامیاب ترین نسخہ نکا لا گیا۔ خوف اور دہشت کا۔
کہیں بجرنگ بلی کو علی سے لڑانے کی بات ہوئی تو کہیں کسی محترمہ نے مسلمانوں کودھمکانا شروع کردیا کہ اگر ووٹ اُن کو نہیں ملا تو وہ الیکشن جیتنے کے بعد اُن کا کوئی کام نہیں کرے گی۔ کسی اور صاحب نے تو یہاں تک اعلان کر دیا کہ جادوگر نے پولنگ بوتھوں میں خفیہ کیمرے نصب کر رکھے ہیں اور اُنہیں پتہ چل جائے گا کہ کون کس کو ووٹ کر رہا ہے اور جو ووٹ کسی اور پارٹی کو کرے گا اُس کی خیر نہیں۔خوف و دہشت کا ایسا ماحول پیدا کیا گیا کہ مسلمانوں کی اکثریت یہ کہنے پر مجبور ہوگئی کہ اگر اُنہیں صرف چین سے زندہ رہنے دیا جائے تو اُن کے لئے وہ ’اچھے دن‘ ہوں گے۔ اس خوف و دہشت کو دوبالا کرنے کے لئے بھوپال سے دہشت گرد سادھوی کو میدان میں اُتارا گیا۔ گو کہ اپوزیشن کے پاس جادوگر کے نسخوں کا علاج ہے لیکن شومئی قسمت اُن کے پاس اس کی ٹکر کا کوئی جادو گر نہیں۔ اپوزیشن والے صحیح مسائل کی نشاندہی کر رہے ہیں، صحیح الفاظ استعمال کر رہے ہیں، صحیح سوال اُٹھا رہے ہیں لیکن یہ سب بکھرے ہوئے ہیں جب کہ جادوگر کے حمایتی یک جُٹ ہیں۔ اُن کے منہ کو اقتدار کا خون لگ گیا ہے۔ اُن کی آنکھوں میں اس طرح سے ہندوتوا کا خواب چسپان کیا گیا ہے کہ اُنہیں اب اور کوئی رنگ دکھائی ہی نہیں دیتا ہے۔ایسے میں اگر کوئی امید کی کرن ہے تو وہ ہے ہندوستان کا عام انسان۔ وہ عام انسان جو دن بھر محنت کرکے اپنے بال بچوں کا پیٹ پالنے میں لگا ہے۔ اُسے پاکستان کے جہاد اور ہندوستان کے دھرم یدھ سے کچھ لینا دینا نہیں۔ وہ تو ہر روز جہاد کرتا ہے، دھرم یدھ لڑتا ہے، غربت کے خلاف، بھکمری کے خلاف۔اگر کوئی امید کی کرن ہے تو وہ ہے ہندوستان کا کسان جو مذہب کے نام پر سیاست کرنے والوں کی سیاست کا شکار ہو کر ہر روز زندگی کی جنگ ہارتا جاتا ہے۔ اگر کوئی امید کی کرن ہے تو وہ ہے وہ پڑھا لکھا نوجوان جو روزگار کی خاطر در در کی ٹھوکریں کھاتا ہے۔ اُسے اس سے غرض نہیں کہ بھارتی فضائیہ نے بالاکوٹ میں کوے مارے یا دہشت گرد، اُسے روزگار چاہئے۔ دو وقت کی عزت کے ساتھ روٹی چاہئے۔
اور سب سے بڑی امید کی کرن یہ ہے کہ 2014 میں گو کہ جادوگر نے اقتدار پر قبضہ جمالیا تھا لیکن ملک بھر کے لگ بھگ ستر فی صد کے قریب ووٹروں نے انہیں ووٹ نہیں دیا تھا۔یہ اعداد و شمار حوصلہ دیتے ہیں یہ سوچنے کا کہ نفرت کی سیاست کرنے والے بھلے ہی نئی نئی ترکیبیں ایجاد کریں، ملک کے عام شہری کو یہ نفرت ابھی اس حد تک متاثر نہیں کرپائی ہے کہ وہ دہشت گرد سادھوی کو ووٹ دے۔ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب نے نفرت کو کبھی مرکزی دھارے میں بدلنے نہیں دیاہے۔ کوششیں بہت ہوئی ہیں، کو ششیں ہوتی رہیں گی لیکن جب تک ستر فی صد کے قریب لوگ نفرت کی سیا ست کو دھتکارتے رہیں گے، ہندوستان کا بحیثیت ایک ملک کے، مستقبل محفوظ ہے۔
ہفت روزہ ’’نوائے جہلم‘‘ سری نگر