سرینگر//پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی، پیپلز کانفرنس ،پیپلز ڈیموکریٹک فرنٹ ،حریت کانفرنس،جموں کشمیر سیول سوسائٹی فورم اور انجمن شرعی شیعیان نے میرواعظ مولوی محمد فاروق اور خواجہ عبدالغنی لون کی برسیوں پر انہیں خراج عقیدت ادا کیا۔پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) نے صدر محبوبہ مفتی نے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے دونوں رہنمائوں کو سیاسی اور سماجی انصاف کے لئے ریاست کی جدوجہد کی مشعل قرار دے دیا۔ ایک بیان میں پی ڈی پی صدر نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے پرامن جدوجہد میں میر واعظ اور خواجہ عبدالغنی لون کے کردار کی تعریف کی۔انہوں نے کہا’’ان دونوں رہنماؤں نے جموں وکشمیر کے عوام کی سیاسی ، معاشی اور معاشرتی پریشانیوں کے خاتمے کی جدوجہد میں اہم کردار ادا کیا ہے‘‘۔محبوبہ نے کہا’’ریاست میں سیاسی ہنگامہ آرائی نے ہمیں ہزاروں زخموں سے دوچار کیا ہے جس کو ٹھیک ہونے میں سالوں لگیں گے‘‘۔انہوں نے کہا ’’ان رہنماؤں کو بہترین خراج تحسین پیش کرنا مسئلہ کشمیر کا پرامن حل ہے‘‘۔پارٹی کے نائب صدر اے آر ویری ، جنرل سکریٹری غلام نبی لون ہانجورا ، ڈاکٹر محبوب بیگ ، نظام الدین بٹ اور سینئر رہنما نعیم اختر نے بھی انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔پی ڈی پی کے یوتھ سکریٹری عارف لائیگرو نے خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیریوں کے تئیں دونوں رہنما ئوںکی خدمات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔انہوںنے کہا کہ میر واعظ ایک مذہبی رہنما ہونے کے علاوہ کشمیری عوام کی سیاسی خواہشات کی نمائندگی کرتے تھے جبکہ خواجہ عبدالغنی لون ایک دوراندیش سیاستدان تھے۔ پیپلز کانفرنس کے سینئر رہنما مظفر حسین بیگ نے مرحوم عبد الغنی لون کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ایک بیان میں بیگ نے مرحوم لون کو ان چند عالمی رہنماؤں میں سے ایک قرار دیا جو کام کے لئے الفاظ کو کبھی متبادل نہیں بناتے تھے اور نہ ہی اپنے لئے راحت کا راستہ تلاش کرتے تھے۔انہوں نے کہا کہ مرحوم خواجہ عبدالغنی لون آنے والی نسلوں کو تحریک دیتے رہیں گے اور ان کی تعلیمات ہمیں حوصلہ افزائی ، تخیل کا معیار ، جذبات کا جوش اور زندگی کے گہرے چشموں کو تازگی عطا کرے گی۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ مرحوم لون کے لئے کشمیری عوام کی طرف سے اتنے گہرے احترام کی وجہ یہ ہے کہ تجربہ کار رہنما کی حیثیت سے ان کی کلیدی ترجیحات تنازعات کو روکتی رہیں اور جمہوریت کو فروغ دیتی رہیں۔انہوں نے کہا ’’ لون صاحب کا خواب جموں و کشمیر کو ایک ایسی جگہ بنانا تھا جہاں فرد کے حقوق کا احترام کیا جائے ، اختلافات کو سیاسی طور پر تبدیل کیا گیا اور پرامن طور پر حل کیا گیا‘‘۔بیگ نے میر واعظ مولوی محمد فاروق کو بھی خراج عقیدت پیش کیا اور جموں و کشمیر میں ہمیشہ کے امن و سکون کے لئے معاشرے کی ترقی اور ان کی جدوجہد میں ان کے کردار کو اجاگر کیا۔ پیپلز کانفرنس کے جنرل سکریٹری عمران رضا انصاری نے خواجہ عبدالغنی لون کوایک دوراندیش سیاسی رہنما اور ایک ممتاز قانون سازقرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی بے مثال قائدانہ خصوصیات کے ساتھ جموں وکشمیر کے عوام کے وقار کو برقرار رکھنے کے لئے جدوجہد کی۔انہوں نے میر واعظ مولوی محمد فاروق کوخراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ میر واعظ نے اسلامی تعلیم اور عصری تعلیم کے میدان میں اپنی گہرے نقش چھوڑ دئے۔پیپلز کانفرنس کے سینئر نائب صدر عبدالغنی وکیل نے ایک بیان میں مرحوم عبدالغنی لون اور مرحوم مولوی محمد فاروق کی برسیوں پرانہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں لیڈروں نے جموں وکشمیر میں امن کی بحالی اور خون وخرابہ بند کرنے کی خاطر اپنی قیمتی زندگیاں قربان کردیں اور دونوں لیڈروں کا موقف کشمیر مسئلے کے حوالے سے صاف تھا کہ مسئلہ کشمیر صرف بات چیت کے ذریعے ہی حل ہو سکتا ہے ،تشدد سے نہیں ۔انہوں نے کہا کہ قوم ان دونوں لیڈروں کی قربانیوں کو کسی بھی صورت میں فراموش نہیں کرے گی۔پارٹی کے سینئر رہنما محمد خورشید عالم نے دونوں رہنمائوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کے سیاسی منظر نامے نے عظیم قائدین کو کھو دیا ہے ۔ ایک بیان میں خورشید عالم نے کہا کہ مرحوم لون نے تاریخی اقدامات کئے اور کشمیر کے پائیدار امن کے لئے نتیجہ پر مبنی بات چیت کی بنیاد رکھی۔ پیپلز ڈیموکریٹک فرنٹ (پی ڈی ایف)چیئرمین حکیم یٰسین نے خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ میر واعظ محمد فاروق ایک بہت بڑے مذہبی مبلغ تھے جس کی جموں اور کشمیر کے سماجی و سیاسی اور مذہبی آزادی میں شراکت بے مثال تھی۔انہوں نے کہا’’کشمیر میں اسلامی تعلیم عام کرنے میں ان کی شراکت کو طویل عرصے تک یاد رکھا جائے گا۔پی ڈی ایف چیئرمین نے پیپلز کانفرنس کے بانی خواجہ عبد الغنی لون کوبھی خراج تحسین پیش کیا۔ جموں و کشمیر سول سوسائٹی فورم چیئرمین عبد القیوم وانی نے دو نوںرہنماؤں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری کسی بھی ایسے فرد کو فراموش نہیں کرسکتے جس نے اس سرزمین میں کسی مثبت پہلو میں اپنا حصہ ڈالا ہو اور اس کے مذہبی ، سماجی اور سیاسی رہنما اپنے کام اور شراکت میں اپنے زمانے کے ہیرو رہے ہیں۔ ان کے متعلقہ شعبے کا تعلق مذہبی فریضہ ہو یا کشمیر میں پرامن سیاسی جدوجہد۔"ان دونوں رہنماؤں نے جموں و کشمیر کے عوام کے مذہبی ، معاشی اور معاشرتی مسائل کو برقرار رکھنے اور جمہوریہ کے لوگوں کی امنگوں کی نمائندگی کرنے کی جدوجہد میں اہم کردار ادا کیا ہے۔"حریت کانفرنس نے میرواعظ مولوی محمد فاروق کو ان کے 31ویں اورخواجہ عبدالغنی لون کو19ویں برسی پر خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا گیا کہ دونوںرہنما نہ صرف مقبول عام سیاسی قائد تھے بلکہ بلند پایہ مصلح تھے ۔بیان میں کہا گیا کہ میرواعظ ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے جنہوں نے ا پنی مختصر زندگی میں تعلیم، سماج ، روحانیت اور اصلاح معاشرہ کے میدان میں جو گرانقدر خدمات انجام دی ہیں وہ ہمیشہ قدر و منزلت کی نگاہوں سے دیکھی جائیں گی ۔بیان میں کہا گیا کہ میر واعظ امن و سلامتی کے داعی تھے اور انہوں نے ہمیشہ ہمسایہ ممالک خاص طور پرہندوستان اور پاکستان کے مابین امن و سلامتی کے قیام کیلئے پر امن مذاکرات کے ذریعے تنازعات کے حل کے لئے بات چیت کے حامی تھے۔حریت کانفرنس نے خواجہ عبدالغنی لون کو ایک نڈر اور جراتمند سیاسی رہنما قرار دیتے ہوئے کہا کہ خواجہ عبدالغنی لون نے جہاں کل جماعتی حریت کانفرنس کے قیام میںایک بنیادی اور کلیدی کردار ادا کیا وہاں مسئلہ کشمیر کے پْر امن تصفیہ اور اسے جموںوکشمیر کے عوام کی مرضی کے مطابق حل کرنے کی کوششوں میں اپنی جان بھی نچھاور کردی۔بیان میں کہا گیا کہ خواجہ عبدالغنی لون ایک زیرک سیاستداں اور دانشور تھے جنہوں نے اپنے عوام کے حقوق کی بازیابی کیلئے حریت کے پلیٹ فارم سے ہر جگہ موثر آواز بلند کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ انجمن شرعی شیعیان کے صدر آغا سید حسن نے کہا کہ کشمیری قوم کے سیاسی حقوق کیلئے دونوں رہنمائوں کی خدمات اور قربانیاں مزاحمتی تحریک کا ایک روشن باب ہے۔انہوں نے کہا کہ میر واعظ خانوادہ نے دین و سیاست دونوں محاذوں پر کشمیری قوم کی رہنمائی کی اور ہر قسم کے حالات میں بھی اپنے اس مشن پر گامزن رہے۔ خواجہ عبدالغنی لون کوخراج عقیدت پیش کرتے ہوئے آغا حسن نے کہا کہ موصوف ایک دور اندیش اور معاملہ فہم سیاستدان تھے ۔