سرینگر//انسپکٹر جنرل پولیس کشمیر وجے کمار نے پیر کی شام حیدر پورہ جھڑپ میں ہلاکتوں کے بارے میں کہا کہ مالک مکان’’کراس فائرنگ ‘‘ میں مارا گیا جب کہ چوتھا شخص بالائے زمین کارکن تھا جس نے حیدر نامی پاکستانی جنگجو کو بطور ’کمین گاہ ‘ استعمال کرنے کیلئے کرایہ پر لی گئی جگہ فراہم کی تھی۔پولیس کنٹرول روم میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی پی نے کہا کہ پیر کی شام پولیس کو حیدر پورہ میں شاہراہ کے قریب جنگجوئوں کی موجودگی کی اطلاع ملی،’جب مشتبہ جگہ کو گھیرے میں لیا گیا تو جنگجووں نے فورسز پر اندھا دھند فائرنگ کی‘‘۔انہوں نے کہا کہ اس کے بعد ہونے والی فائرنگ کے تبادلے میں2 جنگجو مارے گئے جن میں ایک غیر ملکی جنگجو بھی شامل ہے جس کی شناخت حیدر اور اس کا مقامی ساتھی ممکنہ طور پر جموں کے بانہال علاقہ سے تعلق رکھتا ہے۔ آئی جی پی نے کہا، مہلوک کی شناخت کیلئے بانہال سے ایک کنبے کو بلایا ہے۔انہوں نے کہا کہ عمارت کا مالک الطاف احمد کراس فائرنگ میں مارا گیا۔ آئی جی پی نے کہا کہ ڈی آئی جی کی سربراہی میں ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے جو اس بات کا بھی پتہ لگائے گی کہ کن حالات میں مکان مالک کی موت ہوئی ہے ۔ جھڑپ کے بعد جنگجوئوں کی کمین گاہ کے بارے میں مکمل تحقیقات کیلئے پولیس کی خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی ہے جس کی سربراہی ڈی آئی جی کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی خصوصی ٹیم اس بات کا پتہ لگائے گی کہ کمین گاہ کس کیلئے استعمال ہو رہی تھی اور جو وہاں سے موبائیل فون اور کمپوٹر بر آمد کئے جا چکے ہیں ان کا بیرون ممالک سے کیا رابطہ ہے ۔ آئی جی پی نے مزید کہا کہ ساتھ ہی ٹیم اس بارے میں بھی پتہ لگائیں گی کہ کن حالات میں مکان مالک کی موت ہوئی ہے ۔ یہ پوچھے جانے پر کہ کیا یہ سچ ہے کہ جھڑپ کے مقام سے بر آمد شدہ موبائیل اور کمپوٹر بیرون ممالک خاص طور پر امریکہ سے جوڑے ہیں، تو انہوں نے بتایا کہ معاملہ ابھی زیر تحقیقات ہے۔انہوں نے کہا کہ چوتھا مہلوک شخص مدثر احمد، جو عمارت میں کرایہ پر رہا ئش پذیر تھا، نے حیدر اور اس کے ساتھی کو پناہ دی تھی۔ آئی جی پی کا کہنا تھا’’ وہ جنگجوئوں کو پناہ دے رہا تھا، مدثر، حیدر کو جمالٹہ سرینگر کے حالیہ حملے کی جگہ سے لے جانے میں بھی ملوث تھا، جہاں ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا تھا‘‘۔ آئی جی پی نے کہا، وہ جنوبی اور شمالی کشمیر کے علاقوں سے جنگجوئوں کو ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں منتقل کرانے میں ملوث بھی تھا۔انہوں نے کہا کہ تصادم آرائی کے مقام سے دو پستول، دو میگزین، نصف درجن موبائل فون اور چند کمپیوٹر برآمد ہوئے ہیں ۔وجے کمار نے کہا’’چوتھا مہلوک مدثر ایک کال سینٹر چلاتا تھا، وہ ایک بالائے زمین کارکن تھا اور جنگجوئوں کو پناہ دینے میں براہ راست ملوث تھا۔‘‘کمار نے کہا کہ چونکہ امن و امان کا خدشہ تھا اس لئے الطاف کی لاش کو آخری رسومات کے لیے اہل خانہ کے حوالے نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ کرایہ پر کمرے یا عمارت دینے سے پہلے مالکان کو پولیس سے رابطہ کرنا چاہیے اور تفصیلات بتانی چاہیے۔ یہ پوچھے جانے پر کہ کیا پولیسکے پاس مدثر کے’’ جنگجوئوں کو پناہ دینے‘‘میں ملوث ہونے کے واضح ثبوت ہیں۔آئی جی پی نے کہا کہ ان کے پاس ڈیجیٹل ثبوت موجود ہیں اور انہیں مزید ثبوت مل جائیں گے تو میڈیا کے ساتھ اشتراک کیا جائے گا۔
ہمارے بیٹے ملی ٹینٹ نہیں تھے
لاشیں واپس کی جائیں، والدین کا احتجاج
بلال فرقانی
سرینگر// جھڑپ کے دوران جاں بحق دو شہریوں کو بے گناہ قرار دیتے ہوئے انکے رشتہ داروں نے کہا کہ انکا جنگجوئیت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا ۔ الطاف احمد ڈار اور مدثر گل کے اہل خانہ نے پریس کالونی میں احتجاجی مظاہرہ کیا اور مطالبہ کیا کہ ان کے رشتہ داروں کی لاشوں کو مناسب تدفین کے لیے واپس کیا جائے، جنہیں پولیس کے مطابق امن و امان کی صورتحال مدنظر رکھتے ہوئے ہندواڑہ میں دفن کیا گیا۔ مدثر گل کی والدہ نے کہا کہ ان کا بیٹا بالائے زمین کارکن نہیں تھا بلکہ ایک ڈاکٹر تھا اور اس کا جنگجوئوںسے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے سوالیہ انداز میں کہا’’میرا بیٹا بے قصور تھا، اسے کیوں مارا گیا؟ اس کا جرم کیا تھا؟"۔ انہوں نے کہا’’ہم حکام سے اپیل کرتے ہیں کہ ہمیں اس کی لاش دی جائے، ہمیں اب اس کی لاش کے علاوہ کچھ نہیں چاہیے‘‘۔الطاف کے بھائی عبدالمجید نے کہاکہ ہم انصاف چاہتے ہیں،بھائی کی لاش ہمارے حوالے کی جائے ۔انہوںنے کہاکہ انکابھائی الطاف احمد حیدر پورہ میں کام کرتا تھا، اس کی وہاں6 دکانیں تھیں جبکہ عمارت کی پہلی منزل کواُس نے ایک پراپرٹی ڈیلرز کو کرایہ پر دی ہے۔انہوںنے کہاکہ سوموار کی شام 5بجے پولیس اور فوج آئی، مکان کا گھیراؤ کیا اور دکانوں کو بند کرنے کو کہا ۔عبدالمجیدنے کہاکہ پھر تقریباً 30سے40افراد کو ہونڈا کی دکان میں قید کر دیا گیا۔ اورپھر (فائرنگ) شروع ہوئی۔انہوںنے دعویٰ کیاکہ الطاف احمد کو باہر نکالا گیا اور بتایا گیا کہ تلاشی لینی ہے۔ عبدالمجیدکے بقول بعد میں وہ ڈرون وغیرہ لے آئے اور پھر انکے بھائی کو یہ کہہ کر لے گئے کہ تازہ تلاشی لینی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تیسری بار، انہوں نے اسے دوبارہ تلاشی کیلئے باہر آنے کو کہا،اور اس بار وہ مارا گیا۔
’ڈاکٹرپراپرٹی اور کنسٹریکشن ڈیلر تھا‘
’الطاف بلڈنگ میٹریل کا کاروبار کرتا تھا‘
پر ویز احمد +محمد تسکین
سرینگر+بانہال //حیدر پورہ میں جاں بحق دو شہریوں میں سے ایک ڈینٹل سرجن تھا جو اب پراپرٹی اور کنسٹرکشن کیساتھ وابستہ تھا۔ ڈاکٹر مدثر گل کے بہنوئی عرفان احمد نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ڈاکٹرمدثر گل ساکن راولپورہ نے بنگلورو میں بی ڈی ایس کی ڈگری حاصل کی تھی اور اسکے بعد مختصر وقت تک اس نے جموں کشمیر سے باہر پریکٹس کی ۔لیکن واپسی پر وہ پرے پورہ سے راولپورہ منتقل ہوگئے اور پرے پورہ ائر پورٹ روڑ پر اس نے کڈس وئر کی دکان کھولی تھی اور بعد میں اسے مذکورہ مکان میں ہی منتقل کردیا جہاں اس نے پراپرٹی اور کنسٹریکشن کے کاروبار سے منسلک ہونے کی وجہ سے ایک آفس کھولا تھا۔ عرفان احمد نے کہا ’’ اس وقت وہ ڈینٹل سرجن شعبہ سے وابستہ نہیں تھا، بلکہ پراپرٹی اور کنسٹرکشن کا کاروبار کرتا تھا اور مذکورہ مکان میں اسکا باضابطہ آفس بھی تھا‘‘۔23سالہ عامر لطیف ماگرے ولد محمد لطیف ماگرے ساکن فہمروٹ سیری پورہ سنگدان گول رام بن کے والد لطیف ماگرے نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ الطاف ڈار بہت بڑا کاروباری شخص تھا اور جس کمپلیکس میں جھڑپ ہوئی وہ اسی کا تھا جس میں اسکے نصف درجن دکانیں بھی تھیں۔انہوں نے کہا کہ الطاف احمد ڈار سمینٹ و بلڈنگ میٹریل کی دکانیں چلا رہا تھا اور عامر اس کے پاس 6مہینے سے کام کررہا تھا۔ لطیف نے کہا کہ 2005میں اس نے ایک مقامی ملی ٹینٹ یاسر بٹ کو مارا تھا۔جس نے اسکے چیچیرے بھائی عبدالقیوم اور بہن رفیقہ اختر کو ہلاک کیا تھا، جبکہ لطیف پیٹ میں گولی لگنے سے زخمی ہوا تھا، البتہ بچ گیا۔۔اس واقعہ کے بعد لطیف نے اپنے آبائی علاقے سے ادہمپور میں ہجرت کی اور 2011میں واپس آیا۔ابھی بھی آئی آر پی ایف کے اہلکار اسکے مکان کی حفاظت پر معمور ہیں۔ملی ٹینٹ کو پتھر سے مارنے کے واقعہ پر اُس وقت کی حکومت نے محمد لطہف کو سونے کا تمغہ دیا تھا۔