سرینگر// حیدر پورہ انکاؤنٹر میں ہلاک ہونے والے ڈاکٹر مدثرگل اور کاروباری شخص محمد الطاف بٹ کے اہلخانہ نے بدھ کے روز پریس کالونی میں دھرنا دیا اور شام کے وقت کینڈل لائٹ احتجاج کیا۔مہلوک ڈاکٹرمدثر گل کی اہلیہ نے میڈیا کو بتایا’’میرا شوہر جنگجو ئوں کااعانت کار نہیں تھا، ہمیں ثبوت دو کہ وہ اعانت کار تھا اگر تھا تو مجھے یہیں گولی مار دو، میں اپنے خون سے لکھ کے دوں گی کہ وہ کوئی جنگجو اعانت کار نہیں تھا‘‘۔ان کا کہنا تھا’’میری بیٹی بابا بابا پکارتی ہے میرے پاس اس کا جواب نہیں ہے مجھے اس کی لاش دے دو‘‘۔موصوفہ نے کہا کہ وہ ایک ڈاکٹر تھا اور اس نے ڈینٹل ہسپتال سرینگر میں بھی کام کیا ہے ۔انہوں نے کہا’’اُس (ڈاکٹر مدثر گل) نے ایک ماہ قبل ہی سرینگر میونسپل کارپوریشن کے میئر جنید متو، ایس ایس پی، اور دیگر بیوروکریٹس کے ساتھ ایک دعوت پر اکٹھے کھانا کھایا، اگر وہ جنگجو اعانت کار تھا تو انہوںنے اس کے ساتھ کیوں کھانا کھایا‘‘۔ان کا کہنا تھا’’وہ غلط کام کر ہی نہیں سکتا ہے اور غلط پیسے اپنے عیال پر خرچ نہیں کر سکتا ہے، اگر غلط تھا تو اس کو گرفتار کیوں نہیں کیا گیا‘‘۔مہلوک مدثر گل کے دیگر اہلخانہ نے لیفٹیننٹ گورنر سے اپیل کی کہ وہ انہیں لاش واپس دلانے میں مداخلت کریں۔پولیس دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے مہلوک تاجرلطاف کے بھائی عبدالمجید نے کہا کہ وہ انصاف چاہتے ہیں، جیسے سیکورٹی فورسز کی طرف سے کوئی فلم شوٹ کی جا رہی ہو جس میں انہوں نے اس کے معصوم بھائی کو قتل کر دیا ،یہ انتہائی شرمناک ہے کہ انکاؤنٹر میں بے گناہ مارے گئے ہیں، میرے بھائی کو سیکورٹی فورسز نے تین بار بلایا اور تلاشی کے لیے عمارت میں لے جایا گیا، جب انہیں کچھ نہیں ملا تو انہوں نے خوف کا ماحول پیدا کیا ، جس میں بے گناہ مارے گئے‘‘۔ مجید نے کہا، "میں ایل جی منوج سنہا سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس انکاؤنٹر کے بارے میں تمام حقائق کی تصدیق کریں، اور اگر میرے بھائی کے خلاف کوئی الزام درست ثابت ہوتا ہے، تو مجھے لال چوک کے گھنٹہ گھرپر پھانسی پر لٹکا دیں۔"مجید نے کہا کہ بدقسمتی سے وہ ایک سرکاری ملازم ہے اور وہ جموں و کشمیر پولیس کے ساتھ 24 گھنٹے رابطے میں رہتا ہے کیونکہ وہ نمبردار کے طور پر کام کر رہا ہے۔"اگر میرا بھائی عسکریت پسندی میں ملوث ہوتا تو مجھے پولیس پہلے اطلاع دے دیتی لیکن پولیس کے تمام الزامات جھوٹے ہیں۔ میرا بھائی 30 سال سے حیدر پورہ بائی پاس پر کام کر رہا ہے۔ اس کا اپنا کمپلیکس تھا جس میں چھ دکانیں تھیں۔ عمارت کی اوپری منزل کے تین کمرے پراپرٹی ڈیلرز کو کرائے پر دیے گئے تھے جن کی پولیس تصدیق متعلقہ تھانے نے مکمل کر لی تھی۔مجید نے کہا کہ اگر پولیس کے پاس عسکریت پسندی میں ان کے ملوث ہونے کے بارے میں معلومات تھیں تو انہیں پہلے علاقے کے متعلقہ پولیس افسر سے رابطہ کرنا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا، "میرا بھائی ایک بلڈر تھا۔ وہ بے قصور تھا اور اس کا عسکریت پسندی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ حیدر پورہ کا پورا علاقہ اسے اچھی طرح جانتا تھا، جاکر ان سے پوچھو کہ الطاف بٹ کیسا آدمی تھا۔"مجید نے بتایا کہ حیدر پورہ میں روزانہ پولیس کی چیکنگ ہوتی تھی اور پولیس بھی اسے اچھی طرح جانتی تھی کیونکہ وہ اس کے ساتھ چائے پینے بیٹھا کرتے تھے۔
سنگدان کے نوجوان کی ہلاکت
سیر پور سب ڈویژن میں دفعہ144نافذ
یو این آئی
جموں// حیدر پورہ انکاونٹر میں سنگدان کے نوجوان کی ہلاکت کے پیش نظرضلع رام بن گول سب ڈویژن میں امن و قانون کی صورتحال برقرار رکھنے کی خاطر امتناعی احکامات نافذ کئے گئے ہیں۔ایڈیشنل ضلع مجسٹریٹ رام بن ہربنس لال شرما نے اس حوالے سے باضابط طور پر ایک حکم نامہ زیر نمبرDMR/1984-92 کے تحت جاری کیا، جس میں ضلع کے ایس پی کو تحریری طورپر آگاہی فراہم کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ وہ حکم نامہ پر من وعن عملدرآمد کی خاطر زمینی سطح پر اقدامات اُٹھائیں۔حکم نامہ کے مطابق ‘ضلع رام بن کے فام روٹ سنگلدان ، سیر پورہ سب ڈویژن گول کے تحت آنے والے علاقوں میں بدھ سے ہی تا حکم ثانی امتناعی احکامات تا حکم ثانی نافذ رہیں گے ’۔واضح رہے کہ حیدر پورہ انکاونٹر میں مارا گیا تیسرا نوجوان رام بن سے تعلق رکھتا ہے ۔
ڈاکٹر فاروق کا لیفٹیننٹ گورنرکو ٹیلی فون
تحقیقات اور لاشیں سپرد کرنے پر زور
جنگجو جتلانا انسانیت کیخلاف جرم:عمر
نیوز ڈیسک
سرینگر// نیشنل کانفرنس صدرڈاکٹر فاروق عبداللہ نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کیساتھ ٹیلی فون پر رابطہ کرکے انہیں حیدر پورہ انکائونٹر میں شہری ہلاکتوں کی وجوہات منظر عام پر لانے کیلئے غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کرنے کے علاوہ مارے گئے شہریوں کی میتیں لواحقین کے سپرد کرنے پر زور دیا ۔ انہوں نے ایل جی سے کہا کہ مارے گئے شہریوں کی لاشیں اُن کے لواحقین کے سپرد کی جائیں تاکہ وہ اپنے لخت جگروں کی آخری رسومات مذہبی قواعد و ضوابط کیساتھ انجام دیں سکیں اور انہیں اپنے آبائی قبرستانوں میں سپردک خاک کرسکیں۔ ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ ان بے گناہ شہریوں کی لاشیں اُن کے لواحقین کے سپرد کرنا ایک انسانی معاملہ ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی دیر نہیں کی جانی چاہئے۔ لیفٹیننٹ گورنر نے ڈاکٹر عبداللہ کو یقین دہانی کرائی کہ اس معاملے پر ترجیحی بنیادوں پر ہمدارانہ غور کیا جائیگا۔ پارٹی نائب صدر عمر عبداللہ نے مہلوک شہریوں کی جسد خاکیوں کو لواحقین کے سپرد کرنے پر زور دیتے ہوئے تحریر کیا کہ ’’پولیس نے اعتراف کیا کہ وہ مکان مالک اور کرایہ دار کو عمارت میں لے گئے اور انہیں دروازے پر دستک دینے کے لئے استعمال کیا گیا۔ پھر ان لوگوں کو جنگجوکیسے ٹھہرایا جاسکتا ہے؟ وہ عام شہری ہیں جو اس لئے مارے گئے کیونکہ انہیں نقصان پہنچانے والے راستے میں ڈال دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مارے گئے شہریوں کو جنگجو یا معاونت کار جتلانا بہت زیادہ غلط ہے اور پھر ان کی لاشوں کو زبردستی چھین کر دور شمالی کشمیر میں دفن کرنا انسانیت کیخلاف جرم ہے۔ انہوں نے کہاکہ لاشوں کو لواحقین کے سپرد کیا جانا چاہئے تاکہ ان کی تدفین کی جاسکے۔ یہی ایک منصفانہ راستہ ہے اور یہی ایک واحد انسانی کام ہے جو اب کیا جاسکتا ہے۔
حیدرپورہ ہلاکتوں کیخلاف
محبوبہ مفتی کا جموں میں احتجاج
نیوز ڈیسک
سرینگر //جموںمیں پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے پارٹی لیڈران کے ہمراہ حیدر پورہ جھڑپ میں عام شہریوں کی مبینہ ہلاکت کے خلاف احتجاج کیا۔بدھ کو پی ڈی پی دفتر کے باہر محبوبہ مفتی نے پارٹی لیڈروںکے ساتھ احتجاج کیا اور کہاکہ سوموار کو حیدرپورہ جھڑپ میں3شہری مارے گئے ۔ انہوںنے کہا کہ ’حکومت عسکریت پسندی کے نام پر شہریوں کو ہلاک کررہی ہے ‘‘۔ محبوبہ مفتی نے کہاکہ ’یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ حیدر پورہ جھڑپ میں3 شہری مارے گئے، معرکہ آرائیوں میں مارے جانے والے شہریوں کو بالائے زمین ورکرجتلانا اب ایک فیشن بن گیا ہے، ان کے پاس یہ ظاہر کرنے کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ وہ بالائی زمین ورکر تھے۔سابق وزیرا علیٰ نے کہاکہ ایسے واقعات سے ہمارے خلاف لوگوںکا غصہ مزید پایاجاتا ہے ، ہم ان ہلاکتوں کی عدالتی تحقیقات کرنے کی مانگ کرتے ہیںاور قصورواروں کو سخت سزا دی جائے۔ محبوبہ مفتی نے بھاجپا کوہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ’’جموں و کشمیر کے مسئلہ کو فوجی طاقت کے بل بوتے پرحل کرنا کی بی جے پی کی حکمت عملی غلط ہے،اگر جموں و کشمیر کے لوگ جھک جاتے تو 1947 میں پاکستانی حملے کے سامنے سینہ سپر ہوکر کھڑے نہ ہوتے‘‘۔دریں اثنا محبوبہ مفتی کو واپسی پر خانہ نظر بند کیا گیا۔ پارٹی ترجمان کے مطابق انہیں پولیس نے گھر سے باہر نکلنے سے گریز کرنے کی تلقین کی ہے۔