سرینگر// حیدر پورہ تصادم میںجاں بحق دو شہریوں کی قبر کشائی کر کے قانونی لوازمات پورے کرنے کے بعد لاشیں وارثین کے سپرد کی گئیں۔انکوانٹر میں مبینہ طور پر تین شہریوں کی ہلاکت کا دعویٰ انکے لواحقین کی جانب سے کیاگیا ہے۔تاہم صرف شہریوں کی قبر کشائی کی گئی۔قبر کشائی کا عمل شام ساڑھے 6بجے شروع کیا گیا جو2 گھنٹے تک جاری رہا۔ ہندوارہ سے 18کلو میٹر دور وڈر پائین راجواڑ کا قبرستان وادی بنگس کے دامن میں واقع ہے۔ ڈاکٹر مدثر گل اور محمد الطاف بٹ کی قبر کشائی تحصیلدار ہندواڑہ اور ڈاکٹروں کی موجودگی میں کی گئی اور اس سلسلے میں قانونی لوازمات پورے کئے گئے ۔اس ضمن میں سرکار نے جمعرات کو ہی مہلوکین کے لواحقین کو مطلع کیا تھا کہ قبر کشائی کر کے لاشیں سرینگر لا کرانکے سپرد کی جائیںگی۔ مہلوکین کے لواحقین سے یہ یقین دہانی لی گئی تھی کہ تدفین کے دوران امن و قانون کی کوئی صورتحال پیدا نہیں کی جائیگی اور تجہیز و تکفین کے دوران صرف چند افراد ہی شرکت کر سکتے ہیں ۔امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے کی خاطر حیدر پورہ میں امتناعی احکامات نافذ کئے گئے ہیں۔معلوم ہوا ہے کہ رات دیرگئے تک لاشیں لواحقین کے حوالے نہیں کی گئی تھیں۔ڈاکٹر مدثر گل کے بہنوئی عرفان احمد نے کشمیر عظمیٰ کوبتایاکہ جمعرات کی صبح پولیس نے انہیں مطلع کیا کہ قبر کشائی کے لئے درکارقانونی تقاضے پورا کرنے کیلئے لواحقین کی جانب سے ضلع مجسٹریٹ کوتحریری درخواست دینی ہوگی جس کے بعد انہوں نے ضلع مجسٹریٹ سرینگر کودرخواست دی ۔انہوںنے کہا کہ قبر کشائی کے عمل میں شریک رہنے کیلئے کسی بھی اہل خانہ کو ساتھ رہنے کی اجازت نہیں دی گئی اور پولیس نے انہیں بتایا کہ لاشیں پولیس کنٹرولرومپہنچانے کے بعد انہیں مطلع کردیا جائیگا جس کے بعد راتکے دوران ہی انکی تدفین کی جائیگی۔ادھرمعلوم ہوا ہے کہ لواحقین کی درخواست کو ضلع مجسٹریٹ کپوارہ کو ریفر کیا گیاجنہوںنے مجسٹریٹ کو اس کام کیلئے معمور کیا اور میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ہندوارہ کو ڈاکٹروںکی ایک ٹیم بنانے کی ہدایات دیں۔یاد رہے کہ 15نومبر کوحیدر پورہ بائی پاس پر شام کے وقت پولیس نے دعویٰ کیا کہ ایک شاپنگ کمپلیکس میں مسلح تصادم ہوئی جس میں حیدر نامی پاکستانی جنگجو اور اسکا عرفان احمد نامی ساتھی کے علاوہ اپر گراونڈ ورکر ڈاکٹرمدثرگل جاںبحق ہوئے جبکہ انہیں پناہ دینے والا شاپنگ کمپلیکس کامالک بھی مارا گیا۔ تاہم بعد میں پولیس نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ مالک مکان الطاف احمد بٹ اور ڈاکٹر مدثر گل کو پولیس نے تلاشی کارروائی کے دوران اپنے ساتھ لیا جوکرا س فائرنگ میں مارے گئے۔اسکے بعد لواحقین اور مین سٹریم جماعتوں کے لیڈران نے شہری ہلاکتوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا اور واقعہ کی تحقیقات کرانے کی مانگ کی۔