یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جو صاحب اختیار ہے وہی ہر مسئلے کو حل کرنے کا ذمہ دار ہے ۔ عوام کی دُکھوں کا مداوا کرنا ، ان کی جان و مال کی حفاظت کرنا ،علاقائی وسائل کو استعمال کرکے عوام کے فلاح و بہبود کے لئے تمام اختیارات کو استعمال کرنا، عوام کے لئے روٹی کپڑا مکان اور جائز روزگار کے مواقع فراہم کرنا ، عدل وانصاف سب کے لئے برابر اور ممکن بنانا اور سرکاری انتظامیہ میں موجود خرابیوں کو دور کرنا ،یہ سب کچھ موجودہ حکمرانوں کا فرض ہے اور یہی ان کی ذمہ داری بھی ہے ۔ کیوں کہ ہر آنے والا نیا حکمران عوام سے یہ وعدہ کر کے آتا ہے کہ جو مصائب اور مسائل سابق حکمرانوں کے دور میںدور نہیں ہوسکے ہیں، انہیں ہم دور کریں گے، اور عوام اُن کی باتوں اور وعدوں پر بھروسہ کرکے اُن کا انتخاب کرتی ہے ۔ اگر ہم جموں و کشمیر کی موجودہ حکمرانوں کی حکمرانی کا جائزہ لیں تو ہر حکمران سابق دور کے حاکموں کو ہی ہر بگاڑ کا ذمہ دار قرار دےکریہاںکے بگڑتے ہوئے حالات کو سدھارنے سے بری الذمہ ہو جاتا ہے ، حالانکہ وہ سابق مسائل کو ختم کرنے کے وعدے پر عوام کا اعتماد حاصل کرکے منتخب ہوا ہے۔
اکثر ہوتا یہی ہےکہ ہرحکمران،حکمرانی سے فارغ ہوکر اپنی رہائش اور سکونتیں پاش کالونیوں ،بیرون ریاستوں یا بیرون ممالک میں اختیار کر لیتا ہےاور عیش کوشی کرتا ہے ۔ چونکہ انصاف طبقاتی بن چکا ہے،جس کے نتیجے میں حکمراں اور با اثر افراد قانون سے بالاتر ہیں اور کمزور طبقات کے لئے قانون کی ہتھ کڑیاں موجود ہیں۔آج بھی اس خطے کے بہت سے علاقےآسیب زدہ دکھائی دیتے ہیں،جہاں کے باشندے پانی ، بجلی، گیس ،امن و امان سے محروم ہیں، جہاں کی شاہراہیں کھنڈرات بن چکی ہیں ،جہاں گزشتہ دس سال شدید بارشوں،ژالہ باریوں،سیلابی ریلوں،زمین کھسکنے ،سڑکیں ڈھہ جانے،آتش زدگیوں اور سڑک حادثوںمیں بڑے پیمانے پر مالی اور جانی نقصانات ہوچکے ہیں،اُن علاقوں میں ابھی تک لوگوں کی صورت حال بہتر نہیں ہوپائی ہےاور نہ ہی لوگوں کی آہ بکا کوئی سن رہا ہے ۔
اسی طرح اپنے ملک کی بات کریں توآزادی کے بعدپنتالیس برسوں تک ملک میں کانگریس کی حکومت رہی، آئینی اعتبار سے ہمارا ملک سیکولر ہے مگر یہ آج تک نہ کانگریس کے زمانے میں اور نہ اب موجودہ دور حکومت میں سیکولر ملک کی خصوصیت باقی رہی ہے۔ آزادی سے لے آج تک کی حکومتوں کے دوران ہزاروں فسادات ہوتے رہےہیں، اور ان فسادات میں ہزاروں کی تعداد میں مسلمان ہلاک کئے گئے ،جو ملک کی سب سے بڑی اقلیت ہے۔ جسٹس سچر کمیشن کی رپورٹ کے مطابق ملک میں مسلمانوںکی حالت اچھوتوں سے بھی بُری ہے، نہ اُن کے لئے سرکاری ملازمتیں ہیں اور نہ تعلیم حاصل کرنے کے بہتر مواقع۔ اگر کسی علاقے میں مسلمان اپنی کوششوں سے خوشحال ہوتے ہیں تو وہاں فسادات کے ذریعے سب کچھ تباہ کر دیا جاتا ہے ۔ ملک کی ستر فیصد آبادی آج بھی غربت کی سطح سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے، انسانی حقوق ناپید ہو چکے ہیں۔ بعض اوقات مسلمان کو گھروں میں بھی نماز پڑھنے پر گرفتار کئے جا رہے ہیں
۔بہر حال ہماراملک اندرونی اور بیرونی خطرات سے دو چار ہیں اور عوام کی اکثریت بے بسی کی تصویر بنی ہوئی ہے ۔ غربت وافلاس بڑھتی جا رہی ہے،بُرائیاں اور خرابیاں پھیل رہی ہیں، کرپشن و اقربا پروری عروج پر ہے،ہر سطح پر اورہرمعاملے میںقواعد و ضوابط کی دھجیاں اُڑائی جارہی ہیں اور حکمران بیان بازیاں کرنے میں مصروف ہیں اور نام نہاد ترقی اور خوشحالی کے ڈھنڈورے پیٹتےجا رہے ہیں۔ حکمرانوں کے اس روّیے سے جہاںعوام الناس خصوصاً نوجوان نسل میں حکومتوں کے خلاف بدظنی بڑھ رہی ہےجس کا وہ مظاہرہ بھی کررہے ہیں،وہیں معاشرتی بگاڑمیں بھی اضافہ ہونے کے ساتھ ساتھ انتظامی بد نظمی بھی فروغ پارہی ہے۔گویا کسی بھی طرف سے کوئی اچھی خبر سُنائی ہی نہیں دے رہی ہےجس کا عرصۂ دراز سےلوگ انتظار کررہے ہیں ۔اگرچہ اس بگڑی ہوئی ساری صورت حال کے خلاف خلق ِخدا آواز بلند کر کر کے تھک گئی ہے،لیکن بدلائو کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی ہے۔حالات سے واقف باہوش لوگ برسوں سے شور مچا رہے تھے کہ یہ صورت حال ملک اور معاشروں کی خوشحالی اور ترقی کے لئےکسی صورت میں سودمند اور کار آمد ثابت نہیں ہوسکتی ہے۔ لیکن ہوتا تو وہی سب کچھ ہےجو ملک و قوم کے لئے مزید پستی اور زوال پذیری کا سبب بن سکتا ہے۔