نئی دہلی // مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ اگر علیحدگی پسند لیڈران بات چیت کے لئے میز پر آنے کے لئے تیار ہیں تو مرکزی سرکارکو بھی سامنے آنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر اور کشمیری دونوں ہمارے ہیں۔راجناتھ سنگھ نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر بدلتی رائے عامہ کو مدنظر رکھتے ہوئے پڑوسی ملک پاکستان کو سبق حاصل کرنا چاہیے کیوں کہ موجودہ حالات میں متفقہ طور پر یہ رائے اُبھر رہی ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کا پشت پناہ ہے۔ ایک انٹرویو میں راج ناتھ سنگھ نے کہا ’’اگرعلیحدگی پسند بات چیت کے لیے ٹیبل پر آنے کو تیار ہیں تو ہم بھی سامنے آنے کے لیے تیار ہیں تاہم اُن کا اپروچ اس حوالے سے ابھی تک منفی ہی رہا ہے‘‘۔راجناتھ سنگھ نے کہا کہ اگر پڑوسی ملک پاکستان باتچیت کے لئے سامنے آتا ہے تو نئی دہلی کو بھی مذاکرات کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔موصوف نے کہا کہ جو شخص بات چیت کرنے کے لئے رضامند ہو اُس کو اگر نظر انداز کردیا جائے تو یہ صحیح طریقہ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ نریندر مودی کی قیادت والی حکومت وادی کے اُن تمام نوجوانوں کے کیسوں کو واپس لینے پر سوچ بچار کررہی ہے جو پہلی دفعہ سنگ باری میں ملوث پائے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ نوجوانوں کے ساتھ نرمی کا سلوک اختیار کرنے کے پیچھے ریاستی عوام کے ساتھ گل مل جانا ہے تاکہ اُن کو لگے زخموں کا مداوا کیا جائے۔ وزیر داخلہ نے بتایا کہ کشمیر اور کشمیری عوام دونوں ہمارے اپنے ہیں کیوں کہ کچھ شر پسند عناصر کی جانب سے وادی کے نوجوانوں کو ورغلایا جارہا ہے ۔ ہم پہلی دفعہ سنگ باری میں ملوث نوجوانوں کو دہشت گردی کی نظر سے نہیں دیکھتے ہیں کیوں کہ انہیں ایک یا دوسرے بہانے سے ورغلایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شرپسند عناصر وادی کے نوجوانوں کو تشدد کی راہ پر دھکیل کر اپنا سیاسی فائدہ سمیٹنا چاہتے ہیں۔ پڑوسی ملک پاکستان کی سرزنش کرتے ہوئے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے بتایا کہ پاکستان کو موجودہ حالات کے تناظر میں سبق حاصل کرنا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر ہورہی تبدیلیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے وطیرے میں تبدیلی لانی چاہیے اور موجودہ حالات کودیکھ کر سبق حاصل کرنا چاہے۔ ریاست میں ماہ صیام کے پیش نظر یک طرفہ جنگ بندی پر بولتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مرکزی سرکار نے کافی غور وخوض کے بعد ریاست میں ماہ صیام کے پیش نظر یک طرفہ جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے تمام جنگجو مخالف آپریشنوں کو معطل کردیا۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ اس کا ہرگز یہ مطلب نہ نکالا جائے کہ اگر سیکورٹی فورسز پر جنگجو حملہ آور ہوں گے تو سیکورٹی فورسز کیا خاموش بیٹھیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اگر یک طرفہ جنگ بندی کے بیچ جنگجوئوں کی طرف سے سیکورٹی فورسز یا عام شہریوں پر حملے ہوں گے تو سیکورٹی فورسز کو پورا اختیار ہے کہ وہ جنگجوئوں کے حملوں کا بھر پور جواب دیں۔ انہوں نے این ڈی اے حکومت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یک طرفہ جنگ بندی کا فیصلہ کوئی معمولی فیصلہ نہیں ہے بلکہ اس کے لیے اگر دیگر تمام جماعتیں بھی سرجوڑ کر بیٹھ جاتی پھر بھی ایسا ممکن نہیں ہوپاتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر چہ بہت سارے لوگ یک طرفہ جنگ بندی پر ہم سے سوالات کررہے ہیں کہ ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا مگر کوئی بھی شخص ہماری نیت پر انگلی نہیں اُٹھا سکتا؟ انٹرویو کے دوران وزیر داخلہ نے سرحد پر پاکستان کی جانب سے لگاتار سیز فائر کی خلاف ورزیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ ہمیں سرحد پر قیام پذیر لوگوں کی مال و جان کی بڑی فکر لاحق ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرحدوں پر رہ رہے لوگوں کی سلامتی کے حوالے سے مرکزی سرکار کے پاس وسیع منصوبہ موجود ہے۔ سرحدی علاقوں میں رہ رہے عوام ہمارے لیے انتہائی اہم ہیں اور ہم ان کی سلامتی اور حفاظت کے لیے مؤثر اقدامات اُٹھارہے ہیں۔