حال و احوال
سہیل غزنوی
شادی صدیوں سے کشمیری معاشرے کے اہم ترین سماجی اداروں میں شمار ہوتی رہی ہے، مگر گزشتہ چند برسوں کے دوران ایک نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ آج نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد پہلے کی نسبت کہیں زیادہ تاخیر سے شادی کر رہی ہے۔ اب ایسے مردوں کو دیکھنا عام ہوتا جا رہا ہے جو تیس یا پینتیس سال سے بھی زیادہ عمر میں غیر شادی شدہ ہیں، جبکہ بہت سی خواتین بھی تیس برس یا اس سے زائد عمر میں شادی کر رہی ہیں۔ یہ رجحان محض ایک سماجی تبدیلی نہیں بلکہ ہمارے معاشرے میں رونما ہونے والی گہری معاشی اور ثقافتی تبدیلیوں کی عکاسی کرتا ہے۔
کشمیر میں شادیوں میں تاخیر کی وجوہات پیچیدہ اور ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ بے روزگاری، معاشی غیر یقینی صورتحال، طویل تعلیمی سفر، بڑھتی ہوئی مہنگائی، بدلتے ہوئے سماجی رویے اور شادی سے وابستہ اخراجات میں مسلسل اضافہ، ان تمام عوامل نے مل کر شادی کے ادارے کو متاثر کیا ہے۔ اس رجحان کو کسی ایک وجہ سے نہیں سمجھا جا سکتا بلکہ یہ بدلتے ہوئے معاشی حالات اور سماجی توقعات کا مجموعی نتیجہ ہے۔
اس کی ایک بڑی وجہ بے روزگاری اور مالی عدم استحکام ہے۔ ہزاروں تعلیم یافتہ نوجوان برسوں تک سرکاری ملازمت کے حصول کے لیے مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کرتے رہتے ہیں کیونکہ آج بھی سرکاری ملازمت کو معاشی تحفظ کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ دوسری طرف بہت سے نوجوان عارضی یا کم تنخواہ والی ملازمتوں میں مصروف ہیں جہاں مستقبل کا کوئی واضح یقین نہیں ہوتا۔ ایسے حالات میں بہت سے نوجوان مالی طور پر مستحکم ہونے تک شادی مؤخر کر دیتے ہیں۔ اسی دوران بہت سی نوجوان خواتین اعلیٰ تعلیم اور پیشہ ورانہ زندگی کو ترجیح دیتی ہیں تاکہ شادی سے پہلے اپنے مستقبل کو مضبوط بنیاد فراہم کر سکیں۔ ان بدلتی ترجیحات نے بھی شادی کی اوسط عمر میں اضافہ کیا ہے۔
شادیوں پر آنے والے بڑھتے ہوئے اخراجات نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ جو تقریبات کبھی سادگی سے انجام پاتی تھیں، وہ اب شان و شوکت اور سماجی مقابلہ بازی کی علامت بنتی جا رہی ہیں۔ مہنگے شادی ہال، پرتعیش سجاوٹ، وسیع دعوتیں اور غیر ضروری اخراجات نے شادی کو ایک بڑا مالی بوجھ بنا دیا ہے۔ بہت سے خاندان محض معاشرتی دباؤ کی وجہ سے اپنی استطاعت سے بڑھ کر خرچ کرتے ہیں، جبکہ بعض خاندان مطلوبہ وسائل جمع ہونے تک شادی کو مؤخر کر دیتے ہیں۔
برسوں تک معاشرے میں بجا طور پر جہیز جیسی سماجی برائی کے خاتمے پر توجہ دی گئی۔ علماء کرام، تعلیمی اداروں، سماجی تنظیموں اور سماجی کارکنوں نے مسلسل جہیز کی حوصلہ شکنی کی اور سادہ شادیوں کی ترغیب دی۔ ان کی یہ کوششیں قابلِ ستائش ہیں اور ان کے مثبت نتائج بھی سامنے آئے ہیں۔ آج بے شمار ایسے خاندان موجود ہیں جہاں دولہا اور اس کے اہلِ خانہ خوش دلی سے جہیز، نقد رقم، قیمتی تحائف، سونا، گھریلو سامان بلکہ پُرتکلف دعوتوں تک سے انکار کر دیتے ہیں۔ یہ مثبت تبدیلی یقیناً قابلِ تحسین ہے۔
تاہم، جہاں روایتی جہیز کے مطالبات میں کئی حلقوں میں کمی آئی ہے، وہیں ایک نئی حقیقت نے جنم لیا ہے جس پر نسبتاً کم توجہ دی گئی ہے۔
آج بہت سے والدین اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ بیٹے کی شادی ان کی زندگی کی سب سے بڑی مالی ذمہ داریوں میں سے ایک بن چکی ہے۔ اکثر رشتہ طے ہونے سے پہلے ہی نوجوان سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ اس کے پاس مستقل ملازمت، معقول آمدنی، جدید طرز کا گھر یا گھر بنانے کی مالی استطاعت، الگ رہائش اور شادی کے آغاز ہی سے آرام دہ طرزِ زندگی فراہم کرنے کی صلاحیت موجود ہو۔
سونے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے اس مالی دباؤ میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ قیمتی زیورات، مکمل فرنیچر، جدید طرز کی رہائش، اٹیچ باتھ روم، گھریلو سامان اور دیگر مہنگے انتظامات سے متعلق توقعات متوسط اور کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے انتہائی مشکل ثابت ہوتی ہیں۔ بے روزگار یا کم آمدنی والے نوجوانوں کے لیے ان توقعات پر پورا اترنا اکثر ممکن نہیں ہوتا۔
وقت بدل چکا ہے اور معاشرے کو ان بدلتی حقیقتوں کو تسلیم کرنا ہوگا۔ ماضی میں بحث کا محور زیادہ تر دولہے کی جانب سے کیے جانے والے جہیز کے مطالبات تھے، لیکن آج بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ شادی سے وابستہ مالی توقعات کی نوعیت بدل گئی ہے۔ متعدد مواقع پر دولہا خود جہیز، سونا، قیمتی تحائف اور شاہانہ دعوتوں سے انکار کرتا ہے، لیکن اس کے باوجود مالی استحکام، رہائش، معیارِ زندگی اور دیگر مہنگی ضروریات سے متعلق توقعات شادیوں میں تاخیر کا باعث بنتی ہیں۔ اس تاثر سے اتفاق کیا جائے یا نہ کیا جائے، لیکن اس پر سنجیدہ عوامی بحث ضرور ہونی چاہیے۔
اس بحث کا مقصد ہرگز خواتین کو موردِ الزام ٹھہرانا نہیں ہے۔ خواتین انسانیت کا نصف حصہ ہیں اور انہیں عزت، تعلیم، تحفظ اور باوقار ازدواجی زندگی کا پورا حق حاصل ہے۔ اسی طرح نوجوان مرد اور ان کے خاندان بھی حقیقی معاشی مشکلات سے دوچار ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ مسئلہ مرد اور عورت کا نہیں بلکہ غیر حقیقی سماجی توقعات کا ہے۔ شادی باہمی احترام، اعتماد اور ہم آہنگی پر قائم ایک مضبوط رشتہ ہونی چاہیے، نہ کہ مالی استطاعت کا امتحان۔
بدلتے ہوئے سماجی رویوں نے بھی اس رجحان کو متاثر کیا ہے۔ آج خاندان تعلیمی قابلیت، پیشہ ورانہ استحکام، مالی حیثیت، مزاجی ہم آہنگی اور مستقبل کے تحفظ کو پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ ازدواجی تنازعات اور طلاق کے بڑھتے ہوئے خدشات نے بھی خاندانوں کو زیادہ محتاط بنا دیا ہے۔ پیشہ، خاندانی پس منظر اور سماجی حیثیت سے متعلق ترجیحات بھی مناسب رشتے کی تلاش کو مزید طویل کر دیتی ہیں۔
اس رجحان کے اثرات صرف افراد تک محدود نہیں بلکہ پورے معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔ شادیوں میں تاخیر کے سماجی، نفسیاتی، آبادیاتی اور معاشی نتائج سامنے آتے ہیں۔ اگر ہزاروں تعلیم یافتہ نوجوان صرف مالی رکاوٹوں کی وجہ سے شادی مؤخر کرنے پر مجبور ہوں تو ہمیں سنجیدگی سے یہ سوچنا ہوگا کہ کہیں ہماری سماجی توقعات معاشی حقیقتوں سے بہت آگے تو نہیں نکل گئیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ اس گفتگو کا دائرہ وسیع کیا جائے۔ علماء کرام، سماجی رہنما، اساتذہ، سول سوسائٹی اور پالیسی ساز نہ صرف جہیز کی باقی ماندہ برائیوں پر توجہ دیں بلکہ شادیوں سے وابستہ بڑھتی ہوئی غیر ضروری مالی توقعات پر بھی سنجیدہ غور کریں۔ معاشرے میں سادگی، اعتدال اور دونوں خاندانوں کی جانب سے حقیقت پسندانہ توقعات کو فروغ دیا جانا چاہیے۔
یہ بھی مناسب ہوگا کہ قانون ساز ادارے اور متعلقہ پالیسی ساز اس بات کا جائزہ لیں کہ آیا شادی کے موقع پر کسی بھی جانب سے غیر معقول مالی توقعات کی حوصلہ شکنی کے لیے مزید سماجی یا قانونی اصلاحات کی ضرورت ہے یا نہیں۔ مقصد کسی نئے تنازع کو جنم دینا یا کسی ایک فریق کو موردِ الزام ٹھہرانا نہیں بلکہ شادی کو عام خاندانوں کے لیے باوقار، آسان اور قابلِ استطاعت بنانا ہونا چاہیے۔
شادی کبھی بھی دولت، سماجی حیثیت یا ظاہری نمود و نمائش کا امتحان نہیں ہونی چاہیے۔ اس کی اصل بنیاد باہمی احترام، محبت، اعتماد، ہمدردی اور مشترکہ اقدار ہیں، نہ کہ سونے کی مقدار، گھر کی وسعت یا شادی کی تقریب کی شان و شوکت۔
اگر کشمیر واقعی شادیوں میں بڑھتی ہوئی تاخیر کے رجحان کو روکنا چاہتا ہے تو اسے صرف ماضی کی سماجی برائیوں ہی نہیں بلکہ آج کی معاشی حقیقتوں کا بھی سامنا کرنا ہوگا۔ سادہ شادیوں، حقیقت پسندانہ توقعات اور مشترکہ ذمہ داری کے فروغ کے ذریعے ہی شادی کو دوبارہ خوشی، استحکام اور امید کا ذریعہ بنایا جا سکتا ہے، نہ کہ مالی پریشانی کا۔
( مضمون نگار، ڈسٹرکٹ کورٹ اننت ناگ کے ایڈووکیٹ ہیں)
: [email protected]