عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//سابق وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر اور پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ جنتر منتر پر جاری پرامن نوجوانوں کے احتجاج کا براہِ راست نتیجہ ہے۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ مظاہرین نے مہاتما گاندھی کے ہندوستان کے تصور کو اجاگر کیا اور فرقہ وارانہ سیاست کو مسترد کیا۔ انہوں نے نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان ایک ماہ سے جنتر منتر پر بھوک ہڑتال اور احتجاج کر رہے تھے، تاہم انہوں نے تشدد کا راستہ اختیار کرنے کے بجائے گاندھیائی طریقہ اپنایا۔انہوں نے کہا’’ دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ نوجوانوں کی جدوجہد کی کامیابی ہے۔ اس تحریک نے ان لوگوں کو امید دی ہے جو ملک کی سمت سے مایوس ہو چکے تھے‘‘۔
پی ڈی پی صدر نے کہا کہ نوجوانوں نے ہندو مسلم تقسیم کی سیاست کو رد کر دیا ہے اور ملک کے مستقبل کے حوالے سے امید پیدا کی ہے۔محبوبہ مفتی نے احتجاج میں کشمیری نوجوانوں کی شرکت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں کو مختلف الزامات سے پکارا جاتا ہے، انہوں نے بھی مظاہرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور اپنی تشویشات سامنے رکھیں۔انہوں نے مظاہرین کے دیگر مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ دینے، پرامن احتجاج کرنے والوں کے خلاف درج ایف آئی آر واپس لینے اور پولیس کی مبینہ زیادتیوں پر حکومت سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔محبوبہ مفتی نے امید ظاہر کی کہ احتجاج کے دوران کشمیری طلبہ کے ساتھ ظاہر کی گئی یکجہتی ملک کی دیگر ریاستوں کے تعلیمی اداروں میں ان کے مسائل کے حل میں مددگار ثابت ہوگی۔