سید امجد شاہ
جموں//جموں یونیورسٹی ٹیچرس ایسوسی ایشن اور جموں یونیورسٹی کے طلباء نے کیمپس میں پرامن احتجاجی مظاہرے کئے جس میں ایسوسی ایٹ پروفیسر سائیکالوجی ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر چندر شیکھر کی پراسرارخودکشی واقعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیاگیا۔یہ احتجاج ایسوسی ایٹ پروفیسر کی خودکشی پر منتج ہونے والے مبینہ ہراسانی کے خلاف غم و غصے کے اظہار کے لیے منعقد کیا گیا تھا۔ اس احتجاج میں جموں یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات کے ٹیچنگ فیکلٹی ممبران کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور مقتول ایسوسی ایٹ پروفیسر کے کردار کو جس طرح سے مارا گیا اس پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا۔جموں یونیورسٹی ٹیچرس ایسو سی ایشن کے صدر پنکج شری واستو نے میڈیا کے ساتھ بات چیت کے دوران کہا کہ ہم نے وائس چانسلر کے سامنے تین اہم مدعے اْٹھائے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ متوفی پروفیسر پر لگائے گئے الزامات کی تحقیقات ایس آئی کے ذریعے کرانے کے پیچھے کون سے محرکات کار فرما تھے اس کی وضاحت ہونی چاہئے۔انہوں نے پروفیسر پر لگائے گئے الزامات کی ڈی ایس پی لیول کے آفیسر کے ذریعے تحقیقات ہونی چاہئے تھی لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔اْن کے مطابق جس کمرے میں ایسو سی ایٹ پروفیسر کی لاش پائی گئی وہاں سی سی ٹی وی کیمرا کام ہی نہیں کررہا ہے جو مزید خدشات کو جنم لے رہا ہے۔موصوف صدر نے کہاکہ معاملے کی سی بی آئی کے ذریعے ہی انکوائری ہونی چاہئے تب جا کے سب کچھ سامنے آسکتا ہے۔جے یو ٹی اے کے ایک احتجاجی ممبر نے کہا کہ “ہمیں نہیں معلوم کہ یونیورسٹی کی طرف سے اب تک پولیس سے کوئی باضابطہ شکایت کیوں نہیں کی گئی ہے”۔انہوں نے شک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جس نے بھی متوفی ایسوسی ایٹ پروفیسر کی لاش دیکھی اس نے دیکھا کہ اس کے پاؤں میز کو چھو رہے تھے؟ ڈیپارٹمنٹ میں سی سی ٹی وی فوٹیج کہاں ہے؟ اسے آخری بار کس نے دیکھا تھا؟ سی سی ٹی وی ریکارڈنگ کہاں ہے؟”۔ احتجاج کرنے والے اساتذہ نے سائیکالوجی ڈیپارٹمنٹ پر سوالیہ نشان اٹھاتے ہوئے حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے پر واضح کریں اور غیر ذمہ دارانہ رویہ کے ذمہ دار اہلکاروں کو ہٹائیں جس کی وجہ سے خودکشی ہوئی۔انہوں نے انکوائری کمیٹی کے ریکارڈ میں ہنگامہ آرائی کے امکان پر بھی سوال اٹھایا جس کے بارے میں انہوں نے شک کیا کہ مذکورہ کمیٹی کے تمام اراکین کے دستخط نہیں تھے۔
انکاکہناتھا”کمیٹی کے ریکارڈ کے ساتھ گڑبڑ کا امکان ہے”۔ احتجاج کرنے والے جے یو ٹی اے کے اراکین نے الزام لگایا کہ کمیٹی نے انہیں جنسی زیادتی کے الزامات پر اپناموقف پیش کرنے کا موقع کیوں نہیں دیا۔انہوں نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ جے اینڈ کے پولیس کا ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر ایک ایسوسی ایٹ پروفیسر کے اتنے حساس معاملے کی تفتیش کیوں کر رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تحقیقات کسی خصوصی تحقیقاتی ایجنسی کے حوالے کی جائیں۔اسی طرح طلباء نے بھی کیمپس کے احاطے میں احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں ایسوسی ایٹ پروفیسر کی مبینہ خودکشی کے اسرار سے پردہ اٹھانے کے لیے اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ ’’تفتیش سی بی آئی کو سونپی جائے یا اس معاملے کی شفاف طریقے سے جانچ کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جائے‘‘۔انہوں نے الزام لگایا کہ “کئی جنسی ہراسانی کے کیسوں کی شکایات کیمپس حکام کے سامنے زیر التوا ہیں اور یہ ایک انوکھا کیس تھا جس میں کمیٹی نے دو کام کے دنوں میں فیصلے کیے‘‘۔ طلباء نے مطالبہ کیا کہ حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کیمپس میں اقربا پروری کا گٹھ جوڑ کام کر رہا ہے۔ایس ایس پی جموں چندن کوہلی نے ایسوسی ایٹ پروفیسر چندر شیکھر چندر کی موت کی تحقیقات کے لیے ایس پی سٹی ساؤتھ کی نگرانی میں ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی ہے۔ایس ڈی پی او سٹی ساؤتھ سچیت شرما کی سربراہی میں ایس آئی ٹی میں ایس ایچ او گاندھی نگر انسپکٹر پنکج شرما، انچارج پولیس چوکی نہرو مارکیٹ، سب انسپکٹر روہت گاندھی اور اسسٹنٹ سب انسپکٹر، پولیس چوکی، نہرو مارکیٹ، غلام عباس شاہ شامل ہوں گے۔
اے بی وی پی نے بھی منصفانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا
جموں//اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) جموں یونیورسٹی یونٹ نے جموں یونیورسٹی کے شعبہ نفسیات کے ایسوسی ایٹ پروفیسر چندر شیکھر چندر کے متوفی کے سوگوار خاندان کے ساتھ گہرے تعزیت کا اظہار کیا جنہوں نے مبینہ طور پر ڈیپارٹمنٹ کے اندر پھانسی لگا کر خودکشی کر لی تھی۔اے بی وی پی جموں یونیورسٹی یونٹ کے صدر انوپ چِب نے کہا کہ اس واقعہ نے تمام طلباء اور ماہرین تعلیم کو گہرے صدمے میں ڈال دیا ہے اور لوگ اس واقعہ سے مختلف نتائج اخذ کر رہے ہیں۔اے بی وی پی جموں یونیورسٹی انتظامیہ سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لے اور اس معاملے میں تیسرے فریق کی تحقیقات منصفانہ انکوائری کے لیے ضروری ہے، چاہے وہ ایس آئی ٹی ہو یا سی بی آئی تاکہ اس کیس کی اصل کہانی عوام کے سامنے لائی جاسکے۔انہوں نے کہا کہ یہ حساس معاملہ ہے اور انتظامیہ کو اسے سنجیدگی سے لینا چاہئے۔ اے بی وی پی وقت کی پابندی کی تحقیقات کا بھی مطالبہ کرتی ہے تاکہ معاملے کو شفافیت کے ساتھ پبلک ڈومین میں لایا جائے اور امید ہے کہ مستقبل میں اس قسم کے واقعات دوبارہ رونما نہ ہوں۔