بلال فرقانی
سرینگر// لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے پیر کو کہا کہ مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں 40 فیصد شہری مکانوں کو کوئی پراپرٹی ٹیکس ادا نہیں کرنا پڑے گا۔واضح رہے کہ یکم اپریل سے پراپرٹی ٹیکس نافذ کرنے کے حکومت کے اقدام کو سیاسی جماعتوں بشمول شہری اداروں کے منتخب اراکین کی طرف سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ایل جی سنہا نے اس اقدام کا دفاع کیا اور انہوں نے ملک کی دیگر ریاستوں کے مقابلے پراپرٹی ٹیکس کی سب سے کم شرح کاموازانہ بھی کیا ۔اعداد و شمار دیتے ہوئے، سنہا نے کہا کہ سرینگر، جموں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی دیگر میونسپلٹیوں میں 5.20 لاکھ مکانات ہیں۔سنہا نیایس کے آئی سی سی میں میڈیا کو بتایا کہ ان میں سے 2.06 لاکھ گھر 1000 مربع فٹ سے کم پر موجود ہیں جس کا مطلب ہے کہ 40 فیصد آبادی پر کوئی ٹیکس نہیں ہوگا۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ 2,03,600 ایسے مکانات ہیں جو 1500 مربع فٹ سے نیچے پر ہیں جس کا مطلب ہے کہ انہیں ہر سال 1000 روپے ٹیکس ادا کرنا پڑے گا اور 2.06 لاکھ مکان رکھنے والوں میں سے 80 فیصد کو صرف 600 روپے سالانہ ادا کرنا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ اگر اعداد و شمار کا شملہ، امبالہ اور دہرادون شہروں سے موازنہ کیا جائے تو یہ ان مقامات کا صرف/10 1 واں حصہ ہے جس کی قیمت جموں و کشمیر کے لوگوں کو ادا کرنی پڑے گی۔
تجارتی اداروں کے بارے میں لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ سرینگر، جموں اور دیگر میونسپلٹیوں میں 1.01 لاکھ تجارتی یونٹ ہیں۔جن میں سے تقریباً 46 فیصد دکانیں صرف 100 مربع فٹ سے کم پر موجود ہیں جس کا مطلب ہے کہ انہیں سالانہ 700 روپے ٹیکس ادا کرنا پڑیگا، 80 فیصد دکانیں-550 500 روپے سالانہ کی حد میں آئیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ صرف 50 روپے ماہانہ ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ایسی 30,000 دکانیں ہیں جنہیں سالانہ 2000 روپے سے کم ٹیکس ادا کرنا پڑیگا جو کہ ملک کے دیگر حصوں کے تین شہروں کا/10 1 حصہ بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ 1.01 لاکھ دکانداروں میں سے 76 فیصد کو کم از کم ٹیکس ادا کرنا پڑیگا۔ لیفٹیننٹ گورنر نے مزید کہا کہ میرے خیال میں اس سے بہتر ٹیکس پالیسی کبھی نہیں آئے گی۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے اس سلسلے میں کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے عام آدمی کو مدنظر رکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ پھر بھی میں لوگوں سے کہتا ہوں کہ اگر انہیں کوئی مسئلہ ہے تو وہ حکام بالا کو اس سلسلے میں لکھیں۔ سنہا نے زور دے کر کہا کہ انہوں نے بار بار کہا ہے کہ ٹیکسوں سے جو رقم اکٹھی کی جائے گی اسے کارپوریشنوں اور میونسپلٹیوں کے کھاتوں میں جمع کرایا جائے گا اور اسے بہتر سڑکوں اور عام آدمی کے لیے اچھی زندگی گزارنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔انہوں نے عام لوگوں پر زور دیا کہ وہ آئیں اور جموں و کشمیر کو بہتر بنانے میں حکام کی مدد کا ہاتھ بڑھائیں۔