سرینگر// کانگریس کے جنرل سیکریٹری راہل گاندھی نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر نئی دہلی سے براہ راست حملے کی زد میں ہے جبکہ دیگر حصوں کو بالواسطہ حملے کا سامنا ہے۔ انہوں نے پیر شام سرینگر پہنچنے کے بعد منگل کو گاندربل میں کھیر بھوانی مندر اور درگاہ حضرت بل میں حاضری دی۔ راہل گاندھی نے بعد میں مولانا آزاد روڑ پر کانگریس کے صدر دفتر کا افتتاح کیا۔ پارٹی ہیڈ کوارٹر میںکارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ وزیر اعظم ہند نریندر مودی اور ان کی ’’ تقسیم ہندوستان‘‘ کی پالیسیوں کے خلاف لڑ رہے ہیں اور جب تک وہ جیت نہیں جاتے وہ اپنی لڑائی جاری رکھیں گے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ آج صرف جموں و کشمیر پر حملہ نہیں ہوا ہے بلکہ ہندوستان کے دیگر حصوں جیسے تامل ناڈو ، بنگال اور دیگر ریاستوں پر بھی حملہ ہوا ہے ’’لیکن ایک بات واضح ہے کہ جموں و کشمیر نئی دہلی سے براہ راست حملے کی زد میں ہے جبکہ دیگر حصوں کو بالواسطہ حملے کا سامنا ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی کا جموں و کشمیر کیلئے واضح موقف ہے۔ راہل نے کہا کہ ریاستی حیثیت مکمل طور پر بحال ہونی چاہیے اور آزادانہ ، منصفانہ اور شفاف طریقے سے اسمبلی انتخابات ہونے چاہئیں۔کانگریس کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد کی جموں و کشمیر کے لیے ریاست کا درجہ بحال کرنے کے لیے پارلیمنٹ میں بل مانگنے کے حوالے سے تجویز کا جواب دیتے ہوئے راہل نے کہا’’مجھے پارلیمنٹ میں بولنے کی اجازت نہیں ہے، میں رافیل ، بے روزگاری اور کورپشن کے بارے میں بات نہیں کر سکتا۔ انہوں نے (بی جے پی) نے عدلیہ اورلوک سبھا پر حملہ کیا اور یہاں تک کہ میڈیا کی آواز بھی دب گئی، صحافی وہ نہیں لکھ سکتے جو وہ چاہتے ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ جب جموں و کشمیر میں کانگریس کی حکومت تھی ، اڑان جیسی بڑی اسکیمیں شروع کی گئیں اور پنچایتی انتخابات ہوئے، ہم کشمیر یونیورسٹی میں ماہرین لائے اور کشمیری نوجوانوں کو ہندوستان کی دوسری ریاستوں میں بھیجا لیکن انہوں نے (بی جے پی) اس عمل پر بھی حملہ کیا۔‘‘ راہل گاندھی نے کہا کہ وہ جموں و کشمیر کے لوگوں کا درد محسوس کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا’’آپ کو میرا پیغام یہ ہے کہ میں محبت اور عزت پر مبنی رشتہ استوار کرنے کے لیے آپ کے ساتھ ہوں، میں وزیر اعظم مودی کے خلاف لڑ رہا ہوں، میری لڑائی مودی کے نظریے اور تشدد کے خلاف ہے جس کی وہ تشہیرکر رہے ہیں اس کے علاو انکے بھارت کو توڑنے کے اپنے مشن کے خلاف ہیں، میں کامیابی تک لڑتا رہوں گا ۔‘‘ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے لوگوں میں محبت ، عزت کی ایک قدیم ثقافت ہے اور جو کچھ بھی آپ لوگوں کے لیے کرنا چاہتے ہیں وہ جموں و کشمیر کے محبت اور عزت پر مبنی ہونا چاہیے۔ راہول نے بی جے پی سے مخاطب ہوکر کہا’’اگر آپ جموں و کشمیر کے لوگوں سے اپنی نفرت شروع کرتے ہیں تو کچھ حاصل نہیں کیا جا سکتا‘‘ ۔انہوں نے کہا کہ پہلے ، کوویڈ کے دوران اور دفعہ 370 کے خاتمے کے بعد ، انہوںنے جموں و کشمیر جانے کی کوشش کی ، لیکن اجازت نہیں دی گئی۔راہل گاندھی نے کہا کہ ان کا کشمیر سے تعلق ہے کیونکہ ان کے آباؤ اجداد وادی میں رہ رہے تھے۔ان کا کہنا تھا’’ آج میرا خاندان دہلی میں رہتا ہے ، اس سے پہلے وہ الہ آباد آباد میں رہتے تھے اور اس سے پہلے وہ کشمیر میں رہتے تھے، اس لیے مجھے کشمیریت کا ایک ورثہ ملا ہے جو میرے اندر موجود ہے۔‘‘ راہول نے کہا کہ وہ بہت جلد جموں اور لداخ کا دورہ کریں گے ۔
پڈوچری یادہلی کی طرح حکومتیں نہیں چاہتے
راہل ریاستی درجہ بحالی کا بل منظور کرائیں: آزاد
بلال فرقانی
سرینگر // کانگریس پارٹی کے سینئر لیڈر اور جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد نے کہا ہے کہ وہ جموں و کشمیر میں پانڈیچری اور دہلی کی طرح حکومتیںنہیں چاہتے پارٹی ہیڈکوارٹر پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’’میںراہل گاندھی سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ جموں و کشمیر کے ریاستی درجہ کی بحالی کا بل پارلیمنٹ میں اگلے 3دنوں میں منظور کرائیں‘‘۔ آزاد نے کہا کہ وہ جموں و کشمیر میں پڈڈچری اور دہلی کی طرح حکومتیںنہیں چاہتے۔ آزاد کا کہنا تھا’’ہم نہیں چاہتے کہ لیفٹیننٹ گورنر معاملات چلائیں، یہ ایک سرحدی ریاست ہے اور لیفٹیننٹ گورنریہاں امن و امان کی صورت حال نہیں دیکھ سکتے‘‘۔آزاد نے مزید کہا کہ صرف مقامی وزیر اعلیٰ ہی ایسا کر سکتے ہیں۔سابق وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ انہوں نے نئی دہلی میں وزیر اعظم کے ساتھ حال ہی میں ہونے والی کل جماعتی میٹنگ کے دوران 5مطالبات پیش کیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے انتخابات سے قبل ریاست کا درجہ مانگا ہے۔