ادبی مؤرخین کاعام طور پرخیال ہے کہ ریاست جموں و کشمیر میں اُردوزبان کی آمد کے بارے میں کسی خاص تاریخ اور وقت کا تعین کرنابوجوہ ناممکن ہے۔بایں ہمہ یہ بات تاریخی شواہد کی بناء پر کہی جاسکتی ہے کہ 1846ء میں جب مہاراجہ گلاب سنگھ (1856-1846ء) نے ارض ِکشمیر کوبدنام زمانہ ’بیع نامۂ امرتسر‘کی رو سےبشمول ’جانداروبے جان‘ ’خرید‘ کر جموں و کشمیر پر مشتمل ’متحدہ ریاست ‘کی بنیاد ڈالی تو اُردو زبان یہاں کے عوام کی بول چال اور تعلیمی اداروں میں راہ پانے لگی تھی، حالانکہ فارسی کو اُس وقت بھی درباری زبان کی حیثیت حاصل تھی۔ اس سے قبل ہمیں ریاست میں اُردو زبان سے متعلق مفصل حوالے تو نہیں ملتے، لیکن بہت سے ایسے شواہد ضرور موجود ہیں، جن کی بناء پر یہ کہنا حقیقت کے منافی نہیں ہوگا کہ اُردو کسی نہ کسی طرح ریاست میں پہنچ چکی تھی۔ اگر یہ کہا جائے کہ ہندوستان میں عربی، فارسی اور مقامی زبانوں کے باہمی اختلاط سے اردو زبان کا خمیر تیار ہوا، تویہ کہنا بھی بجا ہے کہ جموں و کشمیر میں بھی عربی، فارسی اورعلاقائی زبانوں بشمول کشمیری و ڈوگری کے ملاپ سے ایک نئی زبان (اردو)وجود میں آئی، جو بعد ازاں پنجاب سے تجارتی و دیگرتعلقات کی وجہ سےوہاں کی اردو سے قریب ترہوتی چلی گئی یاپنجاب میں بولی جانے والی اُردو کی بیشتر خصوصیات کو اپنے ہاں کھینچ لائی۔
ایک قدیم ترین واقعہ کے سلسلے میں محققین نے ’’ہندی‘‘ جاننے والے ایک شخص کا ذکر کیا ہے، جس کا نام تِلک تھا۔ کہا جاتا ہے کہ محمود غزنوی کشمیر پر اپنے حملے کے بعد 1015ء میں تِلک کو اپنے ساتھ غزنین لے گئے تھے، جہاں اُسے ’’فارسی اور ہندی‘‘ کا ترجمان مقرر کیا گیا۔ تاہم یہ بات وثوق سے نہیں کہی جاسکتی کہ یہاں پر ’’ہندی‘‘ سے لازماً اردو ہی مراد ہے۔ مصنف اور مورخ محمد امین پنڈت نے لکھا ہے :
’’راجہ سنگرام دیو کے عہدِ حکومت میں398 ھ میں سلطان محمود غزنوی، جو نوشیرواں کی اولاد میں سے تھا، واردِ کشمیر ہوا۔ ….کوہ سلیمان پر، جہاں ایک مندر واقع تھا، نمازِ ظہر ادا کی اور بڑی تعداد میں لوگوں کو مسلمان بنایا۔ ایک مہینے نو دن تک کشمیر میں قیام کیا‘‘۔ (محمدامین پنڈت:مختصر تاریخ کشمیر، ص: 100)
مشہور مورخ ڈاکٹر غلام محی الدین صوفی نے اپنی مشہور (انگریزی) کتاب ’’کشیر‘‘ میں لکھا ہے کہ سلطان محمود غزنوی نے 1015ء میں کشمیر پر فوج کشی کی۔ راجہ سنگرام کی فوجوں کو شکست ہوئی، مگر ناسازگار موسم اور ناقابل عبور پہاڑی راستوں کےباعث سلطان کی فوجیں کشمیر میں داخل نہ ہوسکیں۔ (بحوالۂ ایضاً، ص:106)
راجہ سنگرام دیو کی مدتِ حکومت تین سال، نو ماہ رہی۔ اس نے 1007ء میں اپنی پھوپھی دیدہ رانی سے اقتدار حاصل کیا، جو بوڑھی ہوچکی تھی۔ محمد الدین فوقؔ نے اپنی ’مکمل تاریخ کشمیر‘ میں ایک الگ ہی کہانی رقم کی ہے۔ وہ محمود کے دوسرے حملۂ کشمیر کا سال 1023ء بتاتے ہیں۔دیگر کئی کتابوں میں مختلف روایات کا بیان ہے۔ مثلاً ایک اور روایت یہ ہے کہ راجانندؔ نے 1015ء میں محمود غزنوی کی فوج کشی پر مقابلے میں پسپا ہونے کے بعد محمود سے صلح کی درخواست کی اور تحفے تحائف کے ساتھ محمود کی خدمت میں ایک شعر بھی لکھ کر بھیجا، جو ہندی میں لکھا تھا۔ اس پر محمود اتنے خوش ہوئے کہ راجا کو بقول حسن کھویہامی پندرہ قلعوں کی جاگیر عطا کی۔
شہمیری دور ( 1554-1393ء)کے اٹھارہ سلاطین کے عہدِ حکمرانی میںکشمیر ایرانی تہذیب سے آراستہ ہوا۔نہ صرف فارسی زبان و ادب کو فروغ حاصل ہوا،بلکہ بہت سارے علماء،فضلاء،صلحاء اور اولیاء نے اپنی دینی،تبلیغی اور اصلاحی کوششوں سے کشمیر کی تہذیبی وروحانی دنیا کی کایا پلٹ دی۔اِسی دور میں سیّد السادات میر سیّد علی ہمدانی ؒ جیسے روحانی و علمی پیشوا اور مقتدرومستند مصنف کا کشمیر میں ورود ہوا۔چنانچہ سیّد الساداتؒ کی معیت میں سات سو سادات مع اُن کے فرزند میر محمد ہمدانی ؒ کی مساعی جمیلہ سامنے آئیں،جن سے ایک نیا انقلاب آگیا۔یہی وہ دور ہے ،جس میں کشمیری زبان کے عالمی شہرت یافتہ شاعر و صوفی شیخ العالم شیخ نورالدین ولیؒ اور للا عارفہ نے اپنے علم و عرفان کے چراغوں سے ہر سو روشنی پھیلائی۔شہمیری سلاطین کے کاروان میں سلطان زین العابدین بڈشاہ وہ بادشاہ ہیں،جنہوں نے نے اکیاون سال (1423ء تا1474ء) تک حکمرانی کی۔اُن کواپنے انقلابی کارناموں کی بدولت عوام میںسب سے زیادہ مقبولیت و محبوبیت حاصل ہوئی۔اُن کے عہد میں کشمیرعلم ودانش کا مرکز اور علماء و فضلاء اور ہنرمندوں کا مسکن بن گیا تھا۔اِس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ خود بادشاہ کو علم و ادب سے بے حد لگائو تھا اور طبعی میلان موسیقی کی طرف تھا۔ عنصر صابری کے الفاظ میں:
’’جس طرح دربار میں علماء، فقہاء، طبیب، پنڈت، شاعر ور اہل فن تھے، اسی طرح موسیقی کے بھی اہل کمال تھے‘‘۔ (تاریخ کشمیر [زمانہ قبل از تاریخ تاقراردادِ اقوام متحدہ] از: عنصر صابری، ص:82)
سلطان نے دارالعلوم نوشہرہ کے متصل ایک دارالترجمہ بھی قائم کرایا اور پوری دنیا سے سینکڑوں مخطوطات منگواکر ان کا ترجمہ کرایا۔بقول پروفیسر سروری:
’’سلطان کی علوم و فنون کے درمیان سے زبانوں کی دیواروں کو ڈھانے کی مساعی قابل قدر تھیں۔اس مقصد کے لیے اس نے ایک ’’دارالترجمہ ‘‘قائم کیا تھا(جس سے رہنمائی پاکر)….ڈوگرہ عہد میں مہاراجہ رنبیر سنگھ نے جب ’’دارالترجمہ ‘‘قائم کیا،تو اس کا کام بھی انہی خطوط پر انجام پایا تھا‘‘۔(کشمیر میں اردو،ج:1،ص:64)
بڈشاہ کے قائم کردہ ’’دارالترجمہ‘‘ کے بارے میں لکھا ہے کہ:
’’سلطان کے حکم سے دارالترجمہ میں موجودہ متعدد عربی و فارسی کتاب کا ہندی (اردو؟) میں ترجمہ ہوا‘‘۔ (مآثر رحیمی، جلد1، ص:211،بحوالہ:عنصر صابری،ص:83)
عنصر صابری نے مزید لکھا ہے کہ ’’سلطان خود فارسی، تبتی، سنسکرت (ہندی) اور کشمیری زبانوں پر دسترس رکھتا تھا۔ اس نےعربی سیکھنے کی بھی سعی کی‘‘۔ (تاریخ کشمیر، عنصر صابری، ص: ۲۷۲)جب کہ تاریخ حسن کے حوالے سے اُن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ فارسی اور عربی کے علاوہ ہندی (یا اُردو) زبان بھی جانتے تھے۔ چنانچہ حسن کھویہامی نے لکھا ہے ’’سلطان بزبان فارسی و ہندی و تبتی خوب تکلم می کردہ‘‘۔
شاہِ ہمدانؒ، شیخ العالمؒ اور للَہ عارفہ کے علاوہ اس (شہمیری)دور کے دیگر مشہور و مقبول مشائخین میں ملّا بہائو الدین گنج بخش، سیّد ناصر الدین بیہقی، سیّد حسین منطقی اور ملّا کبیر وغیرہ شامل ہیں۔ فارسی اور کشمیری زبان کو اس دور میں جو فروغ و اشاعت اور ترویج و ترقی نصیب ہوئی، وہ آگے چل کر اُردو زبان کے لیے مفید اور معاون ثابت ہوئی۔
چک دور (۱۵۵۴ء- ۱۵۸۶ء) کی ۳۲ سالہ حکمرانی میں آٹھ بادشاہوں نے کشمیر پر راج کیا۔ 1554ء میں غازی خان چک (۱۵۵۴ء-۱۵۶۳ء) نے کشمیر میں عنان حکومت سنبھالی۔ اسی خاندان کے مشہور فرمانروا یوسف شاہ چک، جو فارسی کے خوش گو شاعر اور موسیقی کے دلدادہ تھے، کے بارے میں مورخ حسن کھویہامی کا کہنا ہے ’’طبع موزوں داشت، اشعار فارسی و ہندی و کشمیری بدیہہ می گفت‘‘۔ یوسف شاہ کا ہندی کلام تو نہیں ملتا، البتہ اُن کے ایک مصاحب خواجہ ابوالقاسم کے فرزند خواجہ محمد مومن جبل کا ریختہ کلام مل جاتا ہے۔ ممکن ہے کہ محمد مومن کے علاوہ کچھ اور لوگوں نے بھی ریختہ میں لکھا ہو، لیکن امتدادِ زمانہ سے ہم تک نہ پہنچا ہو۔
رابطہ ۔9906662404