خلاف ورزی پرگاڑیوں کو ضبط بھی کیا جائے گا
سرینگر// جموں و کشمیر حکومت نے ریاست بھر میں پارکنگ نظام کو منظم، شفاف اور جدید بنانے کیلئے جموں و کشمیر پارکنگ رولز 2026 نافذ کر دیے ہیں۔ نئے قواعد کے تحت پارکنگ فیس کی ادائیگی مکمل طور پر بغیر نقد ہوگی جبکہ فیس ادا نہ کرنے والے یا قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے گاڑی مالکان کی گاڑیوں کو ’’وہیل کلمپ‘‘ کیا جا سکے گا۔ ٹریفک میں رکاوٹ بننے والی گاڑیوں کو فوری طور پر ضبط بھی کیا جائے گا۔ہاؤسنگ اینڈ اربن ڈیولپمنٹ محکمہ نے ایس او 194 کے تحت یہ قواعد جاری کیے ہیں، جو جموں و کشمیر کی تمام میونسپل کارپوریشنوں، میونسپل کونسلوں اور میونسپل کمیٹیوں پر نافذ ہوں گے۔حکومت نے پارکنگ کے انتظام کے لیے سنٹرل پارکنگ مینجمنٹ سسٹم (CPMS) قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے ذریعے شہری موبائل ایپ، ایس ایم ایس، ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈ، انٹرنیٹ بینکنگ، نیشنل کامن موبیلیٹی کارڈ (NCMC) اور دیگر ڈیجیٹل ذرائع سے پارکنگ فیس ادا کر سکیں گے۔نئے نظام کے تحت باقاعدہ صارفین کو اپنی گاڑی کے رجسٹریشن نمبر اور موبائل نمبر کے ساتھ رجسٹریشن کرانا ہوگا۔
پارکنگ کا دورانیہ موبائل ایپ یا ایس ایم ایس کے ذریعے شروع اور ختم کیا جائے گا اور اسی بنیاد پر فیس وصول کی جائے گی۔قواعد کے مطابق تمام پارکنگ فیس اور جرمانوں کی رقم براہ راست میونسپل ادارے کے ایسکرو اکاؤنٹ میں جمع ہوگی تاکہ آمدنی میں شفافیت برقرار رہے۔ سی پی ایم ایس سے منسلک مجاز پوائنٹ آف سیل (POS) مشین کے بغیر وصول کی گئی رقم کو خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔حکومت نے قواعد کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کا بھی انتظام کیا ہے۔ اگر کوئی گاڑی مالک پارکنگ فیس ادا نہیں کرتا تو متعلقہ انفورسمنٹ افسر گاڑی کی تصویر لے کر اسے سی پی ایم ایس میں درج کرے گا اور گاڑی کو وہیل کلمپ کر دیا جائے گا۔ گاڑی کی رہائی صرف آن لائن جرمانہ ادا کرنے کے بعد ممکن ہوگی۔اسی طرح اگر کوئی گاڑی ٹریفک کی روانی میں رکاوٹ بنے، ایمرجنسی گاڑیوں کا راستہ روکے یا عوامی تحفظ کے لیے خطرہ بنے تو اسے فوری طور پر ٹو کر لیا جائے گا، جس کے تمام اخراجات گاڑی مالک کو برداشت کرنے ہوں گے۔فٹ پاتھ، سائیکل ٹریک، ایک سے زیادہ پارکنگ جگہ پر قبضہ، ٹریفک کی مخالف سمت میں پارکنگ اور مقررہ وقت سے زیادہ پارکنگ کو بھی قابلِ جرمانہ خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔حکومت نے واضح کیا ہے کہ سڑکوں پر صرف متوازی (Parallel) پارکنگ کی اجازت ہوگی۔پارکنگ کے پورے نظام کی نگرانی انٹیگریٹڈ کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر (ICCC) کے ذریعے کی جائے گی، جہاں پارکنگ کی گنجائش، ادائیگیوں، جرمانوں اور انفورسمنٹ عملے کی سرگرمیوں پر حقیقی وقت (ریئل ٹائم) میں نظر رکھی جائے گی۔برقی گاڑیوں کے فروغ کے لیے نئے قواعد میں یہ بھی لازمی قرار دیا گیا ہے کہ ہر پارکنگ مقام پر کم از کم 10 فیصد پارکنگ اسپیس میں الیکٹرک گاڑیوں کی چارجنگ کی سہولت فراہم کی جائے۔قواعد کے تحت نجی زمین یا احاطوں کے مالکان بھی متعلقہ شہری بلدیاتی ادارے سے لائسنس حاصل کرنے کے بعد عوامی تجارتی پارکنگ چلا سکیں گے، تاہم انہیں پینے کے پانی، عوامی بیت الخلا اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کرنا لازمی ہوگا۔