بلال فرقانی
سرینگر//جموں و کشمیر کے چیف پرنسپل مردم شماری افسر امیت شرما نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر اور لداخ میں مردم شماری کے پہلے مرحلے یعنی مکانات کی شماری کو سو فیصد کامیابی کے ساتھ مکمل کر لیا گیا ہے۔سرینگر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امیت شرما نے کہا کہ یہ مرحلہ یکم جون سے 30 جون تک جاری رہا اور 2011 کے بعد تقریباً15 برس کے وقفے کے بعد پہلی مرتبہ مردم شماری کا عمل انجام دیا گیا۔امیت شرما نے بتایا کہ ملک کی تاریخ میں پہلی بار مردم شماری کے اس مرحلے کو مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام کے تحت انجام دیا گیا، جس میں کاغذ کے بجائے ڈیجیٹل آلات کے ذریعے معلومات جمع کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ اس جدید طریقہ کار سے نہ صرف وقت کی بچت ہوئی بلکہ معلومات کی درستگی اور شفافیت میں بھی اضافہ ہوا۔انہوں نے کہا کہ مردم شماری کے اس مرحلے کے دوران 24 ہزار 71 بلاک لسٹنگ یونٹ، 295 سینسس چارجز اور 567 ہاؤس لسٹنگ بلاکوں کا احاطہ کیا گیا، جبکہ لداخ میں 17 بلاک میں یہ کام مکمل کیا گیا۔چیف پرنسپل مردم شماری افسر کے مطابق اس مہم میں دیہی، شہری، پہاڑی، سرحدی، دور افتادہ اور دشوار گزار علاقوں کے علاوہ گجر، بکروال، خانہ بدوش اور قبائلی برادریوں سمیت نقل مکانی کرنے والے افراد کو بھی مکمل طور پر شامل کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ کئی علاقوں تک رسائی انتہائی مشکل تھی، جہاں مردم شماری کے عملے نے پیدل سفر کیا، گھوڑوں اور خچروں کا سہارا لیا، جبکہ لداخ کے بعض علاقوں میں’ یاک‘ بھی استعمال کیے گئے۔شرما کے مطابق جموں و کشمیر کے 6.67 لاکھ سے زائد اور لداخ کے 7,009 گھرانوں نے فیلڈ آپریشن شروع ہونے سے پہلے ہی خود اندراج پورٹل کے ذریعے رضاکارانہ طور پر مردم شماری کیلئے اپنا اندراج مکمل کیا۔امیت شرما نے بتایا کہ ایک ماہ پر محیط مردم شماری مہم سے قبل وسیع پیمانے پر تربیتی پروگرام منعقد کیے گئے، جن میں 30 ماسٹر ٹرینروں، 614 فیلڈ ٹرینروں اور 29 ہزار 269 سپروائزروںو مردم شمار کو تربیت فراہم کی گئی۔ اس کے علاوہ تقریباً 27 ہزار مردم شماری کٹس بھی تقسیم کی گئیں، جبکہ مہم کے دوران مسلسل جائزہ اجلاس، معائنے اور نگرانی کا عمل جاری رکھا گیا۔انہوں نے مردم شماری کے عمل سے وابستہ تمام افسران، سپروائزروں، مردم شماروں اور معاون عملے کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی شبانہ روز محنت اور لگن کی بدولت یہ مرحلہ کامیابی سے مکمل ہوا۔انہوں نے مزید بتایا کہ مردم شماری کا اگلا مرحلہ آبادی کی مردم شماری ہوگا، جس کا آغاز پہاڑی علاقوں میں رواں سال ستمبر میں کیا جائے گا، جبکہ میدانی علاقوں میں یہ مرحلہ فروری 2027 میں مکمل کیا جائے گا۔ لداخ میں بھی آبادی کی مردم شماری ستمبر ہی میں انجام دی جائے گی۔امیت شرما نے کہا کہ یکم اگست سے ڈسٹرکٹ سینسس ہینڈ بک کی تیاری کا کام شروع ہوگا، جس میں ہر ضلع سے متعلق انتظامی ڈھانچے، بجلی، پانی، سڑک، ٹرانسپورٹ، صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات سے متعلق جامع اعداد و شمار جمع کیے جائیں گے، تاکہ مستقبل کی ترقیاتی منصوبہ بندی اور پالیسی سازی میں ان سے مؤثر استفادہ کیا جا سکے۔ چیف پرنسپل مردم شماری افسر امیت شرما نے کہا کہ مردم شماری سے حاصل ہونے والے درست اور جامع اعداد و شمار وزیر اعظم نریندر مودی کے’وکست بھارت 2047‘ کے ویژن کو عملی جامہ پہنانے میں بنیادی کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبہ بندی، وسائل کی منصفانہ تقسیم، بنیادی ڈھانچے کی توسیع اور عوامی فلاحی اسکیموں کی مؤثر عمل آوری کے لیے مردم شماری کے اعداد و شمار ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ لداخ میں پہلی مرتبہ ایک علیحدہ مردم شماری کرائی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق لداخ ملک کا پہلا خطہ ہوگا جہاں مردم شماری کا پورا عمل رواں سال ستمبر میں مکمل کر لیا جائے گا، جبکہ جموں و کشمیر کے دیگر علاقوں میں آبادی کی مردم شماری مرحلہ وار شیڈول کے مطابق انجام دی جائے گی۔