عظمیٰ نیوز سروس
جموں //جموں سے ایودھیان کیلئے پہلی ’استھا ٹرین ‘کو بھاجپا سنیئر لیڈر اشوک کول جنرل سکریٹری (تنظیم)،کے ساتھ پارٹی کے نائب صدر یودھویر سیٹھی ودیگر لیڈران کی موجودگی میں ہری جھنڈی دکھا کرروانہ کیا گیا اس پہلی ٹرین میں 1300 سے زیادہ رام بھگتوں نے روحانی سفر کا آغاز کیا۔جموں ریلوے اسٹیشن سے آستھا ٹرین کی روانگی نہ صرف یاتریوں کی عقیدت کا اظہار کرتی ہے بلکہ اس گہرے ثقافتی رشتوں کی بھی عکاسی کرتی ہے جو متنوع قوم کو ایک دوسرے کے ساتھ باندھتے ہیں۔فلیگ آف تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اشوک کول نے رام مندر کی تقدیس کو 500 سال سے زیادہ عقیدت اور عزم کے سفر کے طور پر بیان کیا۔ رام مندر کی تعمیر مریدا پروشوتم کے لئے پائیدار عقیدے اور تعظیم کا ثبوت ہے اور اس نسل کو لاکھوں سناتنیوں کی تپسیا کا مشاہدہ کرنے کا شرف حاصل ہے، جنہوں نے بے عزتی کا سامنا کیا لیکن وہ رام للا کے گھر کے لئے اپنے عزم پر ثابت قدم رہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ بھارت کے ثقافتی اور روحانی ورثے کے ابھرتے ہوئے بھرپور ٹیپسٹری میں ایک تاریخی لمحہ کی نشاندہی کرتا ہے، جو دنیا کو روشن کرے گا اور قوم کو وشوا گرو بننے کیلئے آگے بڑھنے کا راستہ بنائے گا۔کول نے اس یاترا کی تاریخی نوعیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے تمام یاتریوں کے محفوظ اورسفر کے لئے اپنی دلی خواہشات کا اظہار کیا اور ہندوستان کے لوگوں کے درمیان اتحاد اور روحانی ہم آہنگی کو فروغ دینے میں یاترا کی اہمیت کو اجاگر کیا۔یودھویر سیٹھی نے سفر کی علامتی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ نہ صرف مذہبی عقیدے کی علامت ہے بلکہ پوری قوم کے لئے امید اور اتحاد کی کرن بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رام مندر شری رام کے تئیں قوم کی عقیدت کی عکاسی کرتا ہے، جو انصاف، ہمدردی اور سچائی کے لئے اٹل وابستگی کی مثال ہے۔