چلو آئو دکھائیں ہم جوبچاہے مقتل شہرمیں
یہ مزار اہلِ صفاء کے ہیں،یہ اہل صدق کی تربتیں
فیضؔ
ہندوستان کی جدوجہد آزادی کے دوران فرنگی راج کے وحشیانہ مظالم اور عوام کی شہادت و قربانی کی خونی داستان میںسانحۂ جلیانوالہ باغ ایک ناقابل فرامو ش باب ہے۔آج سے ایک سوسال پہلے کازمانہ جب سلطنت انگلسیہ میں سورج غروب نہیں ہوا کرتا تھااور ہندوستان تاج برطانیہ کاسب سے چمک دار ہیرا تھا، مگر ہمارے ملک میںسامراجی حکمرانوں کی بربریت اوردرندگی کاسیاہ ترین دور چل رہاتھا۔ دنیا کی ’’مہذب ترین‘‘ قوم ہونے کی دعوے دار انگریزشاہی نے ہمارے ملک میں اپنے براہ ِراست تسلط وغلبہ کے دوران جن گھنائو نے جرائم کاارتکاب کیا، اس کی گواہی ہزاروں گمنام ہندوستانیوں کالہو آج بھی دے رہاہے۔ گوروں نے اُنہیںگولیوں کانشانہ بنایا، تختہ دار پر لٹکایا، سالہا سال تک تنگ وتار کو ٹھریوںمیں اذیتیں پہنچا کر لقمۂ اجل بنا دیا۔ جلیانوالہ باغ کاواقعہ اسی سامراجی بربریت کی خونی یادگار ہے جس نے انگریز سامراج کے چہرے کو داغ دار کیا، بیساکھی کادن:۔ 13اپریل 1919کے روز امرتسر کے جلیانوالہ باغ کی چاردیوار کے اندر ہزاروںکی تعداد میںلوگ جمع تھے۔ ڈاکٹر سیف الدین کچلو، ڈاکٹر ستیہ پال اور بعض دوسری شخصیتوں کاانتظار ہورہاتھا جوبرطانوی حکومت کے خلا ف بطور احتجاج اس جلسۂ عام سے خطاب کرنے والے تھے۔ اجتماع بالکل پُرامن تھا اورکسی قسم کاگڑبڑ کاکوئی شک و شبہ نہیںتھا لیکن باغ کی چہار دیواری میںگھرے ہوئے نہتے اورسادہ لوح حاضرین ِجلسہ کو کیاخبر تھی کہ برطانوی افسرشاہی اس جگہ خاک وخون کھیل کھیلنے کی قبل ا زوقت سازش تیارکر چکی تھی اور جولیڈر جلسے سے خطاب کرنے والے تھے، اُن کی گرفتاریاں شروع ہوچکی تھیں۔یہ تھا وہ منظر جب برطانوی فوجی افسر جنرل ڈائر کے حکم سے مسلح گوری فوج باغ کے اندر جانے والے واحد تنگ سے راستہ میںاچانک داخل ہو ئی اور بغیرکسی قسم کی پیشگی وارننگ اور اجتماع کو منتشر ہونے کاموقع دئے بغیر چاروںطرف سے یکایک مجمع پر بے تحاشہ فائرنگ شروع کردی ۔ باغ کے اردگرد اونچی دیوار کے باعث نہتے لوگوں کے لئے موقعٔ واردات سے فرار لینے کاکوئی راستہ نہ تھا اور داخلے کے راستے پر موجود گورے فوجیوں کے دستے اندھا دُھند گولیاں برسا رہے تھے۔ انہوں نے بھاگم دوڑ کر تے لوگوں کامسلسل پیچھا کیا اور نشستیں باندھ کر ان کونشانۂ ہلاکت بنایا۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ صحن ِچمن معصوم وبے قصورانسانوں کے پاک خون سے سیراب ہوگیا، لاشوں کے ڈھیر لگ گئے اور سسکتے کراہتے زخمیوں کی قطاروں کو طبی امداد سے محروم رکھ کر تڑپتا چھوڑدیاگیا۔
یہ 13؍اپریل 1919ء ۔۔۔بیساکھی۔۔۔۔بکری سمت کے نئے سال کاتحفہ جوبرطانوی سامراجی حکمرانوں نے ہندوستانی عوام کو بڑی بے دردی سے پیش کیا۔ یہ دن ہمیں سامراجی خون خواری اور درندگی سے خبردار کرتاہے اورآج بھی جب ہمار املک سامراجی سازشوں کی آما ج گا ہ بناہواہے، جلیانوالہ باغ کا قتل عام ہمیں اپنے ملک کو سامراجی ریشہ دوانیوں سے مکمل طورپر آزاد کروانے کا پیغام گوش گزار کرتاہے۔
عوامی جوالامکھی:۔جیسا کہ قدرتی ردعمل تھا کہ جلیانوالہ باغ کے قتل و خون نے ملک بھر کے عوام کوجھنجوڑ کر رکھ دیا اور برطانوی سامراج کے خلاف غم و غصے اور نفرت کاجوالامکھی پھوٹ پڑا۔ جگہ جگہ عوام نے زبردست انگریز مخالف احتجاجی مظاہرے کئے ۔پنجاب میں بغاوت کی لہر کو کچلنے کے لئے انگریزوں نے مارشل لاء نافذ کردیا۔ بڑے پیمانہ پر گرفتاریاں عمل میںلائی گئیں۔ ڈاکٹر سیف الدین کچلو جوکہ کشمیر النسل تھے، کے سمیت اٹھارہ سرکردہ ہندوستانی لیڈروں پر’’امرتسر لیڈر س کیس ‘‘نام سے سنگین الزامات پر مقدمہ چلایاگیا،جوشروع سے آخرتک جھوٹ اور کذب بیانی پرمبنی تھا لیکن سامراجی مظالم کانتیجہ اُلٹا نکلا۔ تحریک دبی نہیں بلکہ اور بھی شدت سے اُبھرآئی۔بہت سے نوجوان جوعام حالات میں انگریزی راج کی پروروہ تعلیم یافتہ افسر شاہی کا حصہ بنتے، وہ جذبۂ حریت سے لبریز ہوکر مادر وطن کوآزاد کروانے اور ذلت آمیز غلامی سے نجات دلوانے کے لئے سروں پرکفن باندھ کرمیدان میں نکل آئے۔ بھگت سنگھ اور ان کی طرح کے مادر ہند کے بے شمار شیر دل سپوت جنہوں نے بہ مشکل جوانی کی دہلیز پرقدم رکھا تھا، سانحہ جلیانوالہ باغ سے بے حد متاثر ہوئے اور ان لوگوں کی سوچ اور عمل کو غیرت وحمیت کے سانچوں ڈھالنے میں اس خون کھول دینے والے واقعہ کابھی بڑا حصہ تھا۔بعدازاں گاندھی جی کے سیاسی منظرنامے پر نمودار ہونے پر ’’سودیشی‘‘ سرمایہ داروں نے برطانوی سامراج کے خلاف ملک گیر نفرت کی آگ کو ’’اَہنسا‘‘ کے پانی سے بجھانے کی کوششیں شرو ع کردیں مگر ظالم سامراج کے ساتھ سودا بازی اور مفاہمت کی گاندھیائی حکمت عملی سر فروش انقلابی محبانِ وطن کے جذبہ ٔ حریت کا شعلہ مدہم نہ کر سکی اورانہوں نے سامراجی طاقت کے خلاف عوام کی ایک طاقت ور آواز کواُبھارنے کی خاطرانگریزی راج سے ٹکرلی اور اپنی زندگیاں خطرے میںڈال دیں۔
ڈائر کا بُرا انجام:۔ ایسے ہی کم سن نوجوانوں میںپنجاب کاایک غیور اوردلیر بیٹا ادھم سنگھ بھی تھا۔ وہ جلیانوالہ باغ کاالمیہ ایک پل بھی فراموش نہ کرسکا۔ یہ واقعہ اس کے سینے میںکانٹے کی طرح پیوست ہو کر رہ گیا تھا۔ اس نے عزم بالجز م کرلیاکہ وہ جلیانوالہ باغ کے قاتل جنرل ڈائر سے بدلہ لے کر ہی دم لے گا اور اس نے جلیانوالہ باغ کے نہتے وبے قصور ہلاک شدہ گان کے بلیدان کی قیمت اس وقت وصولی جب کہ سرمایہ دار قومی نیتا آزادی کے نام پر برطانوی سامراج سے سودابازی اور دوستیاں بڑھانے میںمصروف تھے۔ اودھم سنگھ کواپنا عزم پوراکرنے کاموقع جلیانوالہ باغ واردات کے بیس سال بعدملا جب لندن میں ایک شام کیگسٹن ہال میںمنعقدہ کسی تقریب میں سانحہ ٔامرتسرکا ذمہ دارجلاد اور پرانا پاپی جنرل ڈائر (جسے بیس سال پہلے برطانوی سرکار نے ہندوستانی عوام کے غضب نا ک احتجاج کے پیش نظر محض دکھاوے کے لئے لندن کی عدالت میںمقدمہ چلاکر بری کردیاتھا) اگلی صف میں بڑے اطمینان اور سکون سے براجمان تھا۔ اس کو معلوم نہیںتھا کہ اودھم سنگھ کے روپ میں اس ہال میںکچھ ہی فاصلے پر اس کی موت کا فرشتہ انتظار کررہا ہے۔ کہتے ہیں کہ عوام کا حافظ کمزو ر ہوتاہے لیکن اتنا نہیں جتنا عوام پر ظلم ڈھانے والوںکا!جونہی تقریب میںتقاریر کا سلسلہ شروع ہوا اور کچھ وقفہ کے بعد ڈائر کانام نشر ہونے پر وہ اسٹیج پر تقریر کرنے کے لئے کھڑاہوا، دفعتاً ہال پستول کی گولیوں سے گونج اُٹھا اور جلیانوالہ باغ کاچنگیز خان تاریخ کے منچ پر بر سر موقع مشت خاک بن کر ڈھیر ہوگیا۔ حاضرین کی صفوں میں اودھم سنگھ پستول ہاتھ میںلئے کھڑاتھا، اس کے چہرے پر اطمینان کی ہوائیاں جھلک رہی تھیں اور بغیر کسی مزاحمت کے اسے پولیس نے گرفتار کرلیا۔ اس نے اقبال جرم کرتے ہوئے کہاکہ وہ جلیانوالہ باغ کے مہلوکین کاانتقام لینے کے لئے ہندوستان سے لندن آیاتھا ا ورا س نے جوکچھ کیا ہے، اس پر اُسے فخر ہے۔ انگریزوں نے اودھم سنگھ کولندن کی ایک جیل میںپھانسی پر لٹکادیا ،اس طرح سرفروشان ِ ہند کی لمبی فہرست میں ایک سرفروش کااضافہ ہوگیا اور شمع ِ آزادی پرایک اورپروانہ نچھاور ہو کر اس کی روشنی کو تیز تر کر گیا۔
سامراج کے خلاف جدوجہد:اب توادوھم سنگھ کومصلوب ہوئے سات دہائیوں سے بھی زیادہ عرصہ گزرگیاہے اور کہنے کوہمار املک آزادبھی ہوچکاہے ،لیکن اسے باشعورکرنے کی ضرورت باقی نہیںرہی۔ اودھم سنگھ نے ہندوستانی عوام کے جذبات کی عکاسی ضرور کی لیکن لندن میںڈائر کاقتل ایک علامتی کاروائی تھی مگر بنیادی سوال اب بھی باقی ہے۔کیا ہماراملک سامراج اور اس کے ایجنٹوں سے مکمل طورپر آزاد ہوچکا ہے؟ کیا قاتل ڈائر کادوسرے کئی بھیسوںمیں اب بھی ہمارے ملک میںوجود نہیںہے؟ کیاآج بھی ہندوستان کے اصل سپوتوں، مزدوروں کسانوں اور دوسرے محنت کشوں کو حقیقی آزادی مانگنے پر اسی طرح گولیوں کانشانہ نہیں بنایاجاتا جس طرح انگریزوں کے راج میں ہوتاتھا ؟ کیاسچے محب وطن ، جمہوریت پسندوں اور انقلابیوں کوفرنگی راج کی طرح ہی بغاوت ،قتل ، سازش وغیرہ کے جھوٹے الزامات میںمقدمہ چلا کر سالہاسال تک جیلوں میںبند نہیںرکھا جاتا ؟کیا ہمارے ملک پر سے سامراج کا اندھیاری سایہ اٹھ گیاہے؟ حقیقت یہ ہے کہ آج بھی ہماراملک نیم نو آبادیاتی ہے، جس کے معاشرہ میں مختلف سامراجی طاقتوں کاعمل دخل متعدد پیرائیوں میں جاری و ساری ہے۔ ایسے حالات میںسامراجی طاقتوں کے اثر سے ملک کوآزاد کرنے کے لئے اسی جذبۂ ایثار اورقربانی کی اشدضرورت ہے جس کاثبو ت آزادی کے دوران اودھم سنگھ ،بھگت سنگھ، اشفاق اللہ، راج گورو، چندر شیکھر آزاد اوربے شمار دوسرے مجاہدین ِآزادی نے بھر پور انداز میں دیاتھا۔ سامراجی طاقتوں کی سازشوں کوناکام بنانے کے لئے آج زبرست ایک نتیجہ خیز عوامی تحریک درکارہے۔ ا س حوالے سے جلیانوالہ باغ آج بھی سامراج کے خلاف جدوجہد میںہمارے جذبۂ حریت کوبیدا رکرتی اور سنگ ِمیل دکھاتی ہے ۔
جاں نثار اخترؔنے کیاخوب کہاہے ؎
میں ان کے گیت گاتاہوں
میں ان کے گیت گاتاہوں
جو شانوں پر بغاوت کا علم لے کرنکلتے ہیں
کسی ظالم حکومت کے دھڑکتے دل پر چلتے ہیں
میں ان کے گیت گاتاہوں، میں ان کے گیت ۔۔۔
جو رکھ دیتے ہیں سینہ گرم توپوں کے دہانوںپر
نظر سے جن کی بجلی کوندتی ہے آسمانوں پر
میں ان کے گیت گاتاہوں، میں ان کے گیت ۔۔۔
جو آزادی کی دیوی کولہو کی بھینٹ دیتے ہیں
صداقت کے لئے جو ہاتھ میںتلوار لیتے ہیں
میں ان کے گیت گاتاہوں، میں ان کے گیت ۔۔۔۔۔۔
جو پردے چاک کرتے ہیںحکومت کی سیاست کے
جودُشمن ہیں کدورت کے، جو حامی ہیں رفاقت کے
میں ان کے گیت گاتاہوں، میں ان کے گیت ۔۔۔
بھرے مجمع میںجو کرتے ہیں شورش خیز تقریریں
وہ جن کا ہاتھ اُٹھ جائے تو اُٹھ جاتی ہیں شمشیریں
میں ان کے گیت گاتاہوں، میں ان کے گیت ۔۔۔
وہ مفلسی جن کی آنکھوں میں پرتو قہریزداں کا
نظر سے جن کی چہرہ زرد پڑ جاتاہے سلطاں کا
میں ان کے گیت گاتاہوں، میں ان کے گیت ۔۔۔
وہ دہقان جن کے خرمن میں پنہاں بجلیاں رہتیں
میں ان کے گیت گاتاہوں، میں ان کے گیت ۔۔۔
کچل سکتے ہیں جو مزدوروں کے آملستانوں کو
جو آگ دے دیتے ہیں جنگی کارخانوں کو
میں ان کے گیت گاتاہوں، میں ان کے گیت ۔۔۔
جھلس سکتے ہیںجوشعلوں سے کفرودین کی بستی کو
جو لعنت جانتے ہیں ملک میںفرقہ پرستی کو
میں ان کے گیت گاتاہوں، میں ان کے گیت ۔۔۔
میںوطن کے نوجوانوں میںنئے جذبے جگائوںگا
میں ان کے گیت گائوں، میں ان کے گیت گائوں گا
محنت کش جو اپنے بازوئوں پر ناز کرتے ہیں
میں ان کے گیت گاتاہوں، میں ان کے گیت گاتاہوں