سرینگر// جموں وکشمیر پیپلزموؤمنٹ کے صدر جاوید مصطفی میر نے پیر کے روز اپنی پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی ۔ میر چاڈورہ سے تین مرتبہ ایم ایل اے منتخب ہوئے ہیں۔ صدر سید محمد الطاف بخاری سمیت دیگر لیڈرشپ نے استقبال کرتے ہوئے اُن کی شمولیت کو پارٹی کے لئے ایک اہم حصولی قرار دیا۔ بخاری نے کہاکہ اپنی پارٹی جموں وکشمیر کے لوگوں کی عزت ووقار کو بحال کرنے کی وعدہ بند ہے، ہمارے ناقدین جوکہنا چاہتے ہیں کہیں لیکن ہم کبھی بھی اپنی ذمہ داری سے منہ نہیں موڑیں گے اور جموں وکشمیر کے لوگوں کے مفادات کے لئے آوازبلند کرتے رہیں گے۔انہوں نے کہاکہ اپنی پارٹی کا قیام جموں وکشمیر کو غیر یقینی بحران سے نکالنے کے لئے عمل میں لایاگیا ہے اور ہم اِس سمت لگاتار اپنا کام کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا’’یہ اپنی پارٹی ہے جس نے جموں وکشمیر کے شہریوں کے اراضی اور نوکریں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا، ہم ہمیشہ ہر اُس فیصلے اور قدم کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے جو عوام کے مفادات وحقوق کے منافی ہوگا۔ اپنی پارٹی اِس سمت میں لگاتار کام کرنے کے لئے پر عزم ہے۔ آل انڈیا کوٹہ نشستوں میں شرکت کے جموں وکشمیر حکومتی فیصلے کو ملتوی کر کے NEETپی جی خواہشمندوں کے مطالبہ کو پورا کرنے پر لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بخاری نے ایل جی موصوف سے اپیل کی کہ وہ جموں وکشمیر میں سبکدوش انجینئروں کو دوبارہ ملازمت دینے کے فیصلے پر نظرثانی کرے۔ انہوں نے کہاکہ ’’پہلے ہی جموں وکشمیر میں بے روزگاری کی شرح تشویش کن سطح تک پہنچ چکی ہے، ہمارے ذہین ترین انجینئرز بغیر نوکریوں کے ہیں، لہٰذا لیفٹیننٹ گورنر سے گذارش ہے کہ فیصلے پر نظرثانی کریں اور پہلے بے روزگار انجینئروں کو کام پر رکھیں‘‘۔ جاوید مصطفی میر نے کہاکہ جموں وکشمیرباشندگان کے حقوق کا تحفظ اور بہبودی کے لئے اپنی پارٹی سرفہرست رہی ہے۔2002میں اسمبلی انتخابات جیتنے کے بعد میر کو وزارتی کونسل میں بطور وزیر مملکت برائے توانائی بنایاگیاتھا اور وہ2005تک فرائض انجام دیتے رہے ۔ سال2007میں وہ وزیر مملکت برائے دیہی ترقی ، پنچایتی راج ، سائنس وٹیکنالوجی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی رہے۔ 2008میں وہ چاڈورہ سے دوسری مرتبہ ایم ایل اے منتخب ہوئے، اس مدت کے دوران وہ اسمبلی میں حزب اختلاف کا حصہ تھے۔ سال 2014کے اسمبلی انتخابات میں بھی وہ تیسری مرتبہ چاڈورہ حلقہ سے فاتح قرار پائے۔ الیکشن جیتنے کے بعد انہیں وزیر مال بنایاگیااور جنوری2016تک اِس عہدے پر رہے۔ سال 2017کو دوبارہ اُنہیں وزیر برائے ڈزاسٹرمینجمنٹ ، راحت وبازآبادکاری اور فلوریکلچر بنایاگیا اور سال 2018تک اِس وزارت کی ذمہ داری انہوں نے سنبھالی۔