لندن//ہندوستان کی اسٹار ٹینس کھلاڑی ثانیہ مرزا نے اپنے کیریئر کے آخری ومبلڈن کے مکسڈ ڈبلز سیمی فائنل میں ہارکرباہر ہونے کے بعد جمعرات کو دنیا کے سب سے قدیم گرینڈ سلیم ایونٹ کو الوداع کہا۔ ثانیہ نے انسٹاگرام کارخ کرتے ہوئے کہا، ‘‘کھیل آپ سے بہت کچھ چھین لیتا ہے … ذہنی طورپر، جسمانی، جذباتی طور پر… جیتنا اور ہارنا… گھنٹوں کی محنت اورمشکل شکست کے بعد رات بھر جاگنا، لیکن وہ بدلے میں آپ کو اتنا کچھ دیتا ہے جو کافی دیگرنوکریاں نہیں دے سکتیں۔ میں ہمیشہ اس کے لئے شکر گزار رہوں گی… خوشی کے آنسوؤں کے لئے ، لڑائی کے لئے ، جدوجہد کے لئے . ہم جوبھی محنت کرتے ہیں وہ آخرکار رنگ لاتی ہے ۔
انہوں نے کہا،‘‘ومبلڈن، اس بار جیت نہیں ہونی تھی لیکن تم شاندار رہے ہو۔ گزشتہ 20 برسوں میں یہاں کھیلنا اور جیتنا میرے لیے اعزاز کی بات رہی ہے ۔ اگلی بارملنے تک شائقین کی کمی محسوس ہوگی۔ مرزا اور ان کے کروشین پارٹنر میٹ پاوک کو اسکوپسکی اور کراوسکی نے 6-4، 5-7، 4-6 سے شکست دی۔ ومبلڈن میں مکسڈ ڈبلز میں ثانیہ کی یہ بہترین کارکردگی تھی جبکہ ڈبلز مقابلے میں ثانیہ 2015 میں سوئس لیجنڈ مارٹینا ہنگس کے ساتھ خطاب جیت چکی ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ ثانیہ نے اس سال کے آغاز میں اعلان کیا تھا کہ وہ اپنا آخری سیزن کھیل رہی ہیں۔ ہنگس اور ثانیہ کی جوڑی نے یو ایس اوپن 2015 اور آسٹریلین اوپن 2016 کا خطاب جیت کرگرینڈ سلیم کی ہیٹ ٹرک لگائی تھی۔
تین مکسڈ ڈبلز ٹرافی سمیت چھ گرینڈ سلیم ٹائٹلز کے ساتھ، ثانیہ ہندوستان کی سب سے کامیاب خاتون ٹینس کھلاڑی ہیں۔ اس سے قبل انہوں نے مہیش بھوپتی کے ساتھ شراکت کرتے ہوئے 2009 آسٹریلین اوپن اور 2012 فرنچ اوپن جیتا تھا۔ ثانیہ نے برازیلیائی برونو سوریز کے ساتھ 2014 یو ایس اوپن ٹائٹل بھی جیتا تھا۔