تھائی لینڈ//تھائی لینڈ کے حکام کا کہنا ہے کہ غار میں پھنسے 12 بچوں اور ان کے کو کوچ کو نکالنے کی کوششوں میں کامیابی حاصل ہوئی ہے اور دو بچوں کو غار سے نکال لیا گیا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ دو بچوں کو غار سے نکال لیا گیا ہے اور ان کو غار کے قریب ہی فیلڈ ہسپتال منقتل کر دیا گیا ہے۔’ان بچوں کا ابتدائی طبی معائنہ کیا جا رہا ہے جس کے بعد ان کو چیانگ رائی ہسپتال منتقل کیا جائے گا۔‘غار میں پھنسے بچوں اور ان کے کوچ کو نکالنے کے ریسکیو آپریشن میں حکام کا کہنا ہے کہ دیگر چار بچوں کو جلد ہی غار سے نکال لیا جائے گا۔حکام نے مزید کہا کہ یہ چار بچے غار کے اندر ہی قائم کیے گئے بیس کیمپ میں غوطہ خوروں کے ساتھ ہیں۔’یہ چاروں بچے جلد ہی غار سے نکال لیے جائیں گے۔‘حکام کا کہنا ہے کہ کمزور بچوں کو پہلے غار سے نکالا جا رہا ہے۔اس سے قبل حکام نے کہا تھا جہاں بچے پھنسے ہوئے ہیں وہاں پانی میں اضافے کا خدشہ ہے اس لیے اتوار کے دن کو 'ڈی ڈے' یعنی یوم العمل قرار دیا گ?ا تھا۔بچوں کو نکالنے کے لیے 18 غوطہ خور غار ریسکیو آپریشن میں شامل ہیں۔پھنسے ہوئے بچوں اور ان کے والدین نے اس بات پر رضا مندی ظاہر کی ہے کہ انھیں جتنا جلدی ممکن ہو وہاں سے نکالا جائے۔تھائی لینڈ کی ایک غار میں دو ہفتوں سے پھنسے 12 بچوں اور ان کے فٹبال کوچ کو بچانے کے لیے کوشاں ٹیم کے سربراہ نے آپریشن شروع ہونے سے قبل کہا تھا کہ بچوں کو بچانے کے لیے تین سے چار دن کا موقع ہے۔خیال رہے کہ مون سون کی آمد سے غار میں پانی میں اضافہ ہی ہوگا اور پہلے یہ خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ بچوں کو وہاں مہینوں رکنا پڑ سکتا ہے۔بی بی سی کے جوناتھن ہیڈ نے بتایا ہے کہ ان کے باہر آنے کے سفر کا ابتداء مرحلہ مشکل ہے کیونکہ وہ تنگ ہے اور پانی میں ڈوبا ہوا ہے۔اس مرحلے پر ان بچوں کو زیادہ دیر تک پانی میں رہنا ہوگا جنھوں نے پہلے کبھی غوطہ خوری کے آلات کا استعمال نہیں کیا ہے۔ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ بچوں کو اس مرحلے کے بعد غار میں دوسری جگہ تھوڑی دیر آرام کرنے کے لیے رکھا جائے گا۔بچے 23 جون کو غار کی سیر کو گئے تھے جب بارش اور سیلاب کی وجہ سے وہ وہاں پھنس گئے اور نو دنوں بعد ان کے غار میں زندہ ہونے کا پتہ چلا۔ اس وقت سے ان کو کھانا، آکسیجن اور طبی امداد فراہم کرائی جا رہی ہے۔تھائی لینڈ کے شمالی صوبے چیانگ رائی کے معروف غار تھیم لوانگ میں یہ بچے پھنسے ہوئے ہیں۔انتہائی خطرے کے درمیان ایک بڑی فوجی اور عام شہریوں کی ٹیم دن رات بچوں کو باہر نکالنے کے لیے کام کر رہی ہے۔حالات کی سنگینی کا اندازہ اس وقت واضح ہو گا جب تھائی بحریہ کے ایک سابق غوطہ خور کی جمعے کو بچوں کو سلینڈر پہنچانے کے بعد واپسی میں موت ہو گئی۔نرونگسک نے کہا ہے کہ بچے غار میں ایک اونچی جگہ پر ہیں لیکن مزید بارش سے ان کی پناہ کی جگہ مزید کم ہو کر دس مربع میٹر سے بھی کم رہ جائے گی۔حکام کا کہنا تھا کہ بچوں تک ایک آکسیجن کی نلی پہنچائی گئی تاکہ وہاں زیادہ مقدار میں کاربن ڈائی آکسائڈ کا مقابلہ کیا جا سکے۔غار میں باہر سے سوراخ کرکے پانی نکالنے کی کوشش کی جا رہی تھیں تاکہ بچوں کو مزید وقت مل سکے۔پہلے یہ کہا گیا تھا کہ بچوں کو وہاں سے نکلنے میں مہینوں لگ سکتے ہیں یا پھر انھیں جلدی نکالنے کے لیے غوطہ خوری سکھانی ہوگی۔سنیچر کو مسٹر نرونگسک نے کہا تھا کہ بچوں کو ابھی بحفاظت وہاں سے نکلنے کے لیے غوطہ خوری نہیں سکھائی جا سکی ہے۔بہتر تو یہ ہوگا کہ غار سے پانی کو باہر نکال کر پھر انھیں نکالا جائے۔