محبت، بھائی چارہ اوردلوں کے رشتے جغرافیائی دوریاں بڑھنے سے کمزور نہیں ہوتے
کشمیریت
خالد بشیر تلگامی
انسانی زندگی بھی عجب تماشہ گاہ ہے۔ ہم روزمرہ کی مصروفیات، کاروباری الجھنوں اور دنیاوی ذمہ داریوں کے ایسے حصار میں جکڑے رہتے ہیں کہ بعض اوقات اپنے ہی وجود اور روح کی خوشی کے لیے وقت نکالنا محال ہو جاتا ہے۔ دن گزرتے جاتے ہیں اور دل کے کسی کونے میں دبی خواہشات وقت کی گرد تلے چھپ جاتی ہیں۔ میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی چل رہا تھا۔ کئی برسوں سے میرے دل میں ایک شدید تڑپ تھی کہ میں گاندربل میں واقع مشہورِ زمانہ ماتا کھیر بھوانی کے سالانہ میلے میں شرکت کروں۔ ہر سال اس میلے کی خبریں سنتا، اخبارات میں تصویریں دیکھتا اور میرا کلیجہ منھ کو آتا کہ کاش! میں بھی اس کا حصہ بن پاتا۔ لیکن اس بار میں نے طے کر لیا تھا کہ چاہے مصروفیات کا ہجوم کتنا ہی کیوں نہ ہو، میں اس بار دل کی آواز پر لبیک کہوں گا۔ چنانچہ، تمام تر مصروفیات کو بالائے طاق رکھ کر میں نے اس یادگار سفر پر نکلنے کا فیصلہ کیا۔
ماتا کھیر بھوانی کا یہ مقدس آستانہ، جو تُل مُل (گاندربل) کے نام سے معروف ہے، میرے گھر سے تقریباً 40 کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے۔ طویل سفر کے لیے گاڑیوں کے کئی متبادل موجود تھے، لیکن میں نے اپنے سفر کے ساتھی کے طور پر اپنی موٹر سائیکل کا انتخاب کیا۔ موٹر سائیکل کے سفر کا اپنا ہی ایک الگ مزہ ہوتا ہے؛ یہ آپ کو راستے کے مناظر، ہوا کے جھونکوں اور ماحول کی خوشبو کو براہِ راست محسوس کرنے کا موقع دیتا ہے۔ جب میں نے موٹر سائیکل اسٹارٹ کی اور سڑک پر گامزن ہوا، تو دل میں ایک عجیب سا سحر اور انوکھی خوشی تھی۔ صبح کی تازہ اور خنک ہوا میرے چہرے کو چھو رہی تھی اور سڑک کے دونوں اطراف پھیلے ہوئے کشمیر کے خوبصورت درخت اور سر سبز ہریالی میرے سفر کا استقبال کر رہے تھے۔ 40کلو میٹر کا یہ فاصلہ جغرافیائی طور پر تو مختصر ہو سکتا ہے، لیکن میرے لیے یہ سالوں پرانے خواب کا تعاقب تھا۔
ابھی میں اپنی منزل کی طرف بڑھ ہی رہا تھا کہ راستے میں کشمیر کی نگینہ صفت جھیل ’’مانسبل ‘‘کا علاقہ آیا۔ مانسبل اپنی گہرائی اور پرسکون پانی کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ میں نے سوچا کہ کیوں نہ کچھ دیر کے لیے یہاں رک کر اس قدرتی حسن سے فیض یاب ہوا جائے۔ میں نے اپنی موٹر سائیکل ایک طرف کھڑی کی اور جھیل کے کنارے بنے ایک روایتی اور سادہ سے ڈھابے کا رخ کیا۔ سفر کی وجہ سے ہلکی بھوک چمک اٹھی تھی، چنانچہ میں نے اسی ڈھابے پر کھانا آرڈر کیا۔ وہاں کا سادہ مگر لذیذ کھانا کھاتے ہوئے جب میں نے سامنے پھیلی مانسبل جھیل کو دیکھا، تو یوں لگا جیسے وقت تھم گیا ہو۔ جھیل کے شفاف پانی پر تیرتے ہوئے کمل کے پتے اور وہاں کی پاکیزہ و معطر آب و ہوا نے میرے ذہن کی تمام تر الجھنیں اور سفر کی تھکن پل بھر میں دور کر دی۔ وہ چند لمحے میری روح کو ایک انوکھا سکون دے گئے، جو کسی بھی مسافر کے لیے ایک انمول تحفہ ہوتا ہے۔
مانسبل کے پرسکون ماحول سے رخصت ہو کر میں دوبارہ اپنی منزل تُل مُل کی طرف چل پڑا۔ جیسے جیسے میں گاندربل کے قریب پہنچ رہا تھا، سڑکوں پر گہما گہمی اور عقیدت مندوں کی گاڑیاں بڑھتی جا رہی تھیں۔ آخر کار وہ گھڑی آ ہی گئی جب میں تُل مُل کے اس تاریخی مقام پر پہنچا۔ وہاں پہنچتے ہی جو سب سے پہلا احساس مجھے ہوا، وہ انتہائی مسرت اور شادمانی کا تھا۔برسوں کی کوشش اور انتظار کے بعد آج میں اس میلے کا حصہ تھا جس کا خواب میں نے طویل عرصے سے دیکھ رکھا تھا۔ وہاں کا پورا ماحول ایک عجیب سے تقدس، خوشبو اور عقیدت کے رنگ میں رنگا ہوا تھا، جسے لفظوں میں قید کرنا نامکن ہے۔
وہاں پہنچ کر مجھے معلوم ہوا کہ میرے کچھ انتہائی قریبی اور مخلص دوست بھی اس میلے میں بطور رضاکار (والینٹیر) لوگوں کی خدمت کے لیے آئے ہوئے تھے۔ یہ دوست کوئی عام رضاکار نہیں تھے، بلکہ وہ جموں و کشمیر کے معروف اور باوقار ادارے ٹیچرس فورم کے اہم ذمہ داران میں سے تھے، جن میں گلزار احمد صاحب، پیر ارشاد صاحب، فاروق رعنا صاحب اور فاروق صاحب شامل تھے۔ مجھے قوی امید تھی کہ اس ہجوم میں ان مخلص دوستوں سے ملاقات ہو جائے گی اور ہم مل کر اس تاریخی دن کو یادگار بنائیں گے۔ میں نے انہیں وہاں کافی تلاش کرنے کی کوشش کی، مگر بدقسمتی سے جب تک میں وہاں پہنچا، وہ اپنی رضاکارانہ خدمات کا وقت پورا کر کے گھر کے لیے روانہ ہو چکے تھے۔ اپنے ان پیارے دوستوں اور اساتذہ برادری کے معزز رہنماؤں سے ملاقات نہ ہو پانے کا ایک ہلکا سا ملال دل میں ضرور ابھرا، لیکن یہ دیکھ کر دلی خوشی اور فخر ہوا کہ ٹیچرس فورم کے یہ ارکان سماجی ہم آہنگی اور بھائی چارے کو فروغ دینے میں اتنا بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے تھے۔ وہاں کی مجموعی فضا اور رونق اتنی سحر انگیز تھی کہ اس چھوٹے سے افسوس کو زیادہ دیر تک ٹھہرنے کا موقع نہ ملا۔
اس میلے کی سب سے خوبصورت اور دل کو چھو لینے والی بات جو میں نے دیکھی، وہ وادیِ کشمیر کی صدیوں پرانی ثقافت، یعنی کشمیریت اور باہمی بھائی چارے کا بے مثال مظاہرہ تھا۔ وہاں پر کشمیر کی بیشتر مقامی مسلم رضاکار تنظیمیں اپنے کشمیری پنڈت بھائیوں کے استقبال اور اعزاز کے لیے پوری تندہی سے موجود تھیں۔ ان نوجوانوں اور تنظیموں نے دور دراز سے آنے والے پنڈت بھائیوں کی مدد، سہولت اور ان کی رہنمائی کے لیے جگہ جگہ خوبصورت ٹینٹ (خیمے) لگائے ہوئے تھے۔ کوئی مسافروں کو ٹھنڈا پانی پلا رہا تھا، کوئی بزرگوں کو راستہ دکھا رہا تھا، تو کوئی ان کا سامان اٹھانے میں مدد کر رہا تھا۔ اس دور میں، جہاں دنیا بھر سے نفرتوں، دوریاں اور تلخیاں سننے کو ملتی ہیں، وہاں تُل مُل کا یہ میدان محبت، خلوص اور رواداری کی ایک ایسی شمع روشن کیے ہوئے تھا جس نے میرا دل جیت لیا۔ اس منظر کو دیکھ کر مجھے اپنے کشمیری ہونے پر بے پناہ فخر محسوس ہوا اور یقین ہو گیا کہ انسانیت آج بھی زندہ ہے۔
اس عظیم الشان میلے کو پرامن اور خوشگوار بنانے میں انتظامیہ اور جموں و کشمیر پولیس کا کردار بھی انتہائی قابلِ ستائش تھا۔ حکومت کی جانب سے زائرین کے لیے پینے کے پانی، طبی سہولیات، صفائی ستھرائی اور رہائش کے بہترین انتظامات کیے گئے تھے۔ خاص طور پر جموں و کشمیر پولیس کے جوانوں کا رویہ اور ان کی خدمات دل کو چھو گئیں۔ وہ جس خلوص اور مستعدی کے ساتھ پنڈت بھائیوں کی حفاظت اور ان کی آسانی کے لیے ڈیوٹی انجام دے رہے تھے، اس نے ہر دیکھنے والے کو متاثر کیا۔ سیکیورٹی کے سخت انتظامات کے باوجود ان کے چہروں پر مسکراہٹ اور دلوں میں خدمت کا جذبہ صاف جھلک رہا تھا، جس کی وجہ سے پورا میلہ ایک منظم اور پرامن جشن کا روپ دھار چکا تھا۔
اس سفر کا سب سے جذباتی اور یادگار لمحہ وہ تھا جب میری وہاں آئے ہوئے کچھ پنڈت بھائیوں اور بزرگوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ برسوں بعد اپنے ہی وطن کی مٹی پر، اپنے ہی لوگوں سے اس طرح ملنا ایک ایسا تجربہ تھا جس نے روح تک کو جھنجھوڑ دیا۔ جب میں نے ان سے بات چیت کی، تو ان کی آنکھوں میں اپنے وطن کے لیے تڑپ اور ہمارے لیے بے پناہ خلوص و پیار صاف نظر آ رہا تھا۔ ہم نے پرانی یادیں تازہ کیں، ایک دوسرے کی خیریت دریافت کی اور وادی کے امن و امان کے لیے دعائیں کیں۔ ان کی گفتگو اتنی شیریں اور محبت سے بھرپور تھی کہ میرا دل خوشبو سے معطر ہو گیا۔ ان ملاقاتوں نے مجھے یہ سکھایا کہ دلوں کے رشتے جغرافیائی دوریاں بڑھنے سے کبھی کمزور نہیں ہوتے۔
جب سورج ڈھلنے لگا اور میرے گھر واپسی کا وقت ہوا، تو میں نے ایک آخری بار اس پورے منظر پر نگاہ ڈالی۔ یہ سفر صرف 40 کلو میٹر کا ایک عام سفر نہیں تھا، بلکہ یہ میری زندگی کا ایک ایسا یادگار ترین سفر بن چکا تھا جو ہمیشہ میرے حافظے کا حصہ رہے گا۔ میں نے اس سفر میں نہ صرف ماتا کھیر بھوانی کے میلے کی رونقیں دیکھیں، بلکہ مانسبل کا سکون پایا، دوستوں کی یاد کو محسوس کیا، اور سب سے بڑھ کر انسانیت، محبت اور بھائی چارے کے اس لازوال جذبے کا مشاہدہ کیا جو کشمیر کی اصل پہچان ہے۔ میں وہاں سے اکیلا واپس نہیں آ رہا تھا، بلکہ میرے ساتھ یادوں کا ایک ایسا خزانہ تھا جو مجھے زندگی بھر رواداری، محبت اور انسان دوستی کا درس دیتا رہے گا۔ سچ تو یہ ہے کہ انسانیت ابھی مری نہیں، یہ تُل مُل کے ماتا کھیر بھوانی کے میلے میں آج بھی پوری آب و تاب کے ساتھ زندہ و جاوید ہے۔