یواین آئی
ٹوکیو// ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ ترکیہ اور جاپان کے درمیان دیرینہ دوستی ’دلوں کا پل‘ ہے۔ یہ دوستی سرکاری دستاویزات سے زیادہ مضبوط ہے اوراسے تاریخ اور انسانیت کے ضمیر سے پروان چڑھایا ہے۔جمعہ کے روز جاپان کے مقبول اخبار ‘نکئی شمبن دونوں ملکوں کی باہمی دوستی سے متعلق صدر اردوان کے مقالے کو جاپانی اور انگریزی زبان میں شائع کیا ہے۔ مقالے میں انہوں نے 1890 میں کشیموتو کے کھْلے سمندر میں پیش آنے والے ارطغرل فریگیٹ سانحے کو یاد کیا اور دو طرفہ محبت اور اہمی تعاون کی علامت قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ اْس المناک دن نے ہماری یادوں میں ایک گہرا نقش چھوڑا ہے اور ہمارے ممالک کے باہمی تعلقات کو انسانی بنیادوں پر استوار کیا ہے۔ انہوں نے اس سانحے کے بعد جاپان کی طرف سے کی گئی مدد کی یاد بھی تازہ کی ہے۔صدر اردوان نے کہا ہے کہ کئی سالہ عرصے میں یہ دوستی بنیادی ڈھانچے، ٹیکنالوجی، تعلیم اور ثقافت سمیت کئی شعبوں میں پھیل چکی ہے۔ مارمرائے، عثمان غازی پل، فاتح سلطان محمد پل، اور گولڈن ہارن پل جیسے منصوبے ترکوں کے عزم اور جاپانی انجینئروں کے تعاون کی مثالیں ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ یہ منصوبے محض اسٹیل اور کنکریٹ سے ہی مکمل نہیں ہوئے بلکہ ان میں سے ہر منصوبہ دونوں ممالک کے درمیان بصیرت، اتحاد اور قلبی تعلق کی علامت ہے۔غزّہ کے موضوع پر بات کرتے ہوئے اردوعان نے جنگ بندی اور بلا روک ٹوک انسانی امداد کی ترسیل کے ساتھ ترکیہ کی حمایت پر زور دیا اور کہا ہے کہ “ہماری آواز بلند اور ہمارا اثر وسیع ہونا چاہیے۔انہوں نے امن کے لیے جاپان کے عزم، بین الاقوامی قانون کی پاسداری، اور انسانی حساسیت کی تعریف کی اور کہا ہے کہ جاپان کے نقطہ نظر کو ترکیہ کے علاقائی اثر و رسوخ اور امدادی صلاحیت کے ساتھ ملا کر ایک “باعزت اور طاقتور شراکت داری” بنائی جا سکتی ہے۔اردوان نے جنگ بندی کو یقینی بنانے، انسانی امداد کو منظم کرنے، بچوں کی تعلیم اور صحت کی حمایت کرنے، اور ایک منصفانہ دو ریاستی حل کے حصول کے لیے کوششوں کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ “ترکیہ اور جاپان کے درمیان دوستی ماضی کی ایک خوبصورت یاد سے زیادہ ہے؛ یہ دورِ حاضر کے بحرانوں پر قابو پانے کا ایک اہم وسیلہ بھی ہے۔”