یو این آئی
سرینگر// جموں وکشمیر کی سبھی سیاسی پارٹیوں نے پلوامہ میں ملی ٹینٹوں کے ہاتھوں کشمیری پنڈت کی ہلاکت پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ سنجے کمار کی ہلاکت کی خبر سن کر بہت دکھ ہوا۔ عمر نے کہا کہ میں اس حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا :’ واد ی کشمیر میں قتل و غارت گری کا سلسلہ جاری ہے۔ ‘‘انہوں نے کہاکہ مرکزی حکومت جموں وکشمیر میں اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔انہوں نے کشمیری پنڈت کے کنبے کے ساتھ اپنی گہری ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ کنبے کے ساتھ اظہار ہمدردی کرنے کے لئے الفاظ کم پڑ رہے ہیں کیونکہ ان پر مصیبت کا جو پہاڑ ٹوٹ پڑا، اس کا مداوار کرنے کے لئے کوئی بھی الفاظ ناکافی ہیں۔ ایم وائی تاریگامی نے کشمیری پنڈت کے قتل کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاکہ اس بدقسمت واقعے نے ایک بار پھر وادی میں گزشتہ سال کی نفرت انگیز ٹارگیٹ کلنگ کے واقعات کو جنم دیا ہے۔انہوں نے کہاکہ سوگوار خاندان کے دکھ درد میں برابر کا شریک ہوں۔ سید الطاف بخاری نے کشمیری پنڈت کی ہلاکت پر اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا، ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم اس خونین سلسلے کے خلاف اپنی آواز بلند کریں۔ انہوں نے کہا کہ معصوم انسانوں کا لہو بہانا ایک بہیمانہ اور غیر انسانی فعل ہے۔ یہ قابل ناقابلِ فہم ہے کہ اس طرح سے عام اور معصوم انسانوں کا لہو بہا نے والے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ غلام نبی آزاد نے کہاکہ کشمیری پنڈت کی ہلاکت افسوسناک ہے۔انہوں نے کہاکہ پچھلے ایک سال سے مسلسل ٹارگیٹ کلنگ کے واقعات رونما ہو رہے ہیں، نو مہینوں سے اقلیتی فرقے سے وابستہ افرادکو نشانہ بنایا گیا ہے ،مجھے اس بات پر تشویش ہے کہ ٹارگیٹ کلنگ کے کئی واقعات رونما ہوئے لیکن آج تک کسی کو نہیں پکڑا گیا۔