سرینگر// نیشنل کانفرنس نے بڈگام سے مجوزہ کووڈ ہسپتال کی منتقلی کے اقدام کو عوام کے جذبات کے ساتھ کھلواڑ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ضلع میں ایک بڑے ہسپتال کا قیام انتہائی ضروری ہے۔ پارٹی کے سینئر لیڈر آغا سید روح اللہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ریشی پورہ بڈگام میں عوام نے کئی دہائیوں سے تقریباً100کنال سرکاری اراضی کو اسی مقصد کیلئے محفوظ رکھا ہے کہ یہاں ایک بڑا ہسپتال قائم ہو گااور ضلع کے عوام کو علاج و معالجہ کی سہولیات میسر ہوسکیں۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ جگہ پر ایک 300بستروں والے ٹراما ہسپتال کی تعمیر کیلئے ڈی پی آر بھی بھیجا گیا ہے لیکن ابھی تک اس کو منظوری نہیں ملی ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ ضلع کے عوام اگرچہ کافی مدت سے ٹراما ہسپتال کی منظوری کے انتظار میں تھے تاہم گذشتہ ایام کے دوران ڈی آر ڈی او نے ضلع بڈگام میں 100بستروں والے کووڈ سپیشلٹی ہسپتال کے تعمیر کا اعلان کیا۔اگرچہ یہ ایک عارضی انتظام تھا تاہم مقامی آبادی میں اس بات کی اُمید جاگ گئی تھی کہ یہی ہسپتال مستقبل میں بڑے ہسپتال کی بنیاد بن سکتا ہے اور لوگوں نے رضاکارانہ طور پریہاں سینکڑوں کی تعداد میں درخت کاٹے تاکہ ہسپتال کی تعمیر جلد سے جلد ممکن ہوسکے۔ہسپتال کی تعمیر کیلئے مذکورہ اراضی کی بھرائی بھی کی کی گئی تاہم اچانک ہسپتال کو کھریو منتقل کیا گیا ۔روح اللہ نے کہا کہ ہسپتال کی اچانک منتقلی کے فیصلے سے لوگوں میں زبردست غم و غصہ پایا جارہا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر کووڈ ہسپتال کو جنگی بنیادوں پر تعمیر کرنے کے مقصد سے بڈگام سے منتقل کیا گیا تاہم یہ بات ضروری بن گئی ہے کہ بڈگام کے عوام کے احساسات اور جذبات کو ملحوظ نظر رکھ کر مذکورہ جگہ پر مجوزہ 300بستروں والے ٹراما ہسپتال کی تعمیر شروع کی جائے۔