ایجنسیز
سیٹل/بلجیم نے فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ میں سب سے شاندار واپسی کا ایک نیا باب رقم کرتے ہوئے 86 ویں منٹ کے بعد تین گول داغے ، جس میں 125 ویں منٹ میں کیا گیا ایک ریکارڈ ساز پنالٹی گول بھی شامل ہے ۔ اس غیر معمولی کارکردگی کی بدولت انہوں نے لومین فیلڈ پر جمعرات کی صبح کھیلے گئے فیفا ورلڈ کپ کے راؤنڈ آف 32 کے ایک انتہائی سنسنی خیز مقابلے میں سینیگال کو اضافی وقت کے بعد 2-3 سے شکست دے کر راؤنڈ آف 16 میں جگہ بنا لی ہے ۔ مقابلے کے بیشتر حصے میں 2-0 سے پچھڑنے کے بعد بلجیم کی ٹیم پر ٹورنامنٹ سے باہر ہونے کا شدید خطرہ منڈلا رہا تھا، لیکن بلجیم نے حیرت انگیز طور پر کھیل کا رخ موڑ دیا اور ایک ہارے ہوئے میچ کو ناک آؤٹ مرحلے کی یادگار ترین جیت میں تبدیل کر دیا۔ متبادل کھلاڑی کے طور پر آنے والے رومیللو لوکاکو نے 86 ویں منٹ میں گول کر کے بلجیم کی امیدیں جگائیں اور اس کے ٹھیک تین منٹ بعد کپتان یوری ٹیلیمنز نے شاندار ہیڈر کے ذریعے برابری کا گول کر کے میچ کو اضافی وقت میں پہنچا دیا۔ اس سے قبل سینیگال کی ٹیم میچ کے بیشتر حصے پر حاوی رہنے کے بعد ایک تاریخی فتح کی طرف بڑھتی ہوئی دکھائی دے رہی تھی۔
حبیب ڈیارا نے 25 ویں منٹ میں گول کر کے اپنی ٹیم کا کھاتا کھولا اور بلجیم کی دفاعی لائن پر مسلسل دباؤ کا فائدہ اٹھایا۔ افریقی ٹیم نے 51 ویں منٹ میں اس وقت میچ پر اپنی گرفت مزید مضبوط کر لی جب اسماعیلہ سار نے بہترین فنشنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے برتری کو دگنا کر دیا، جس سے بلجیم پر قبل از وقت باہر ہونے کا خوف چھانے لگا۔ بلجیم کو سینیگال کے منظم دفاع کو توڑنے میں سخت دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا لیکن لوکاکو کے میدان میں آنے سے پورے کھیل کا نقشہ ہی بدل گیا۔ 86 ویں منٹ میں اسٹرائیکر لوکاکو نے قریبی فاصلے سے گول کر کے بلجیم کا حوصلہ بلند کیا اور اس کے چند لمحوں بعد ہی ٹیلیمنز نے لیانڈرو ٹروسارڈ کے کراس پر ایک بہترین ہیڈر لگا کر اسکور 2-2 سے برابر کر دیا جس نے سینیگال کے حامیوں کو حیرت زدہ کر دیا۔ اضافی وقت میں مزید ڈرامائی صورتحال دیکھنے کو ملی کیونکہ دونوں ٹیمیں فیصلہ کن گول کی تلاش میں تھیں۔ بلجیم کی ٹیم اس وقت جیت کے بالکل قریب پہنچ گئی جب اضافی وقت کے دوسرے ہاف کے آخری لمحات میں ڈوڈی لوکیباکیو کی ہٹ گول پوسٹ کے اوپری حصے سے ٹکرا گئی، جبکہ دوسری طرف سینیگال نے بھی جوابی حملوں میں چند مواقع بنائے لیکن وہ دوبارہ برتری حاصل کرنے میں ناکام رہے ۔ میچ کا فیصلہ کن لمحہ آخری سیکنڈوں میں آیا۔ وی اے آر کے طویل جائزے کے بعد ریفری ہیکٹر مارٹنیز نے بلجیم کے حق میں پنالٹی کا فیصلہ سنایا۔ انہوں نے قرار دیا کہ شیخ کامارا نے پنالٹی ایریا کے اندر ایک لو کراس کو کلیئر کرنے کی کوشش کے دوران ٹیلیمنز کو گرایا تھا۔ اس فیصلے پر سینیگال کے کھلاڑیوں نے شدید احتجاج کیا جس کی وجہ سے پنالٹی کک لینے میں کافی تاخیر ہوئی۔ پورے میچ کا دباؤ اپنے کندھوں پر لیے ٹیلیمنز نے انتہائی تحمل کا مظاہرہ کیا اور گول کیپر موری ڈیاؤ کو چکمہ دیتے ہوئے 125 ویں منٹ میں گیند کو دائیں جانب اوپری کونے میں پہنچا کر اس ناقابل یقین جیت کو مکمل کیا۔ یہ گول باقاعدہ طور پر 124 منٹ اور 44 سیکنڈ پر ریکارڈ کیا گیا جو فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ میں میچ کا فیصلہ کرنے والا اب تک کا سب سے دیر سے کیا گیا گول بن گیا ہے ۔ بلجیم کی اس ڈرامائی فتح نے انہیں راؤنڈ آف 16 میں پہنچا دیا ہے جہاں وہ ایک بار پھر سیٹل ہی میں امریکہ یا بوسنیا اینڈ ہرزیگووینا کے خلاف میدان میں اتریں گے ۔ سینیگال کے لیے یہ ایک شاندار کارکردگی کا انتہائی افسوسناک انجام تھا۔ 80 منٹ سے زیادہ وقت تک میچ پر قابو رکھنے اور دو گول کی مضبوط برتری حاصل کرنے کے باوجود ان کے ہاتھ مایوسی آئی کیونکہ بلجیم نے آخری لمحات میں فٹ بال کے سب سے بڑے اسٹیج پر تاریخ کا ایک یادگار ترین کم بیک کر دکھایا تھا۔