غوطہ // شام کے صدر بشار الاسد نے کہا ہے کہ ان کی فوج دارالحکومت دمشق کے نواحی علاقے مشرقی غوطہ میں موجود باغیوں کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھے گی۔ اتوار کو دمشق میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر اسد نے کہا کہ شامی فوج کی کارروائی دہشت گردی کے خلاف ہے جو اس کے خاتمے تک جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ کارروائی کے دوران علاقے میں پھنسے عام شہریوں کو وہاں سے انخلا کے مواقع بھی دستیاب ہوں گے۔ شامی صدر کا کہنا تھا کہ مشرقی غوطہ میں جاری فوجی کارروائیوں اور عبوری جنگ بندی کے درمیان کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ہفتے غوطہ میں سیرین عرب آرمی کے جنگجووں نے جو کامیابی حاصل کی وہ جنگ بندی کے وقفے کے دوران ہی انہیں ملی۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے شام میں ایک ماہ کے لیے جنگ بندی کی قرارداد منظور کر رکھی ہے تاکہ جنگ زدہ علاقوں میں پھنسے شہریوں کا انخلا اور انہیں ضروری امداد کی فراہمی ممکن بنائی جاسکے۔ لیکن شامی حکومت اور اس کے اتحادی روس نے اعلان کیا ہے کہ وہ مشرقی غوطہ میں جاری فوجی کارروائی روزانہ صرف پانچ گھنٹے کے لیے روکیں گے اور اس وقفے کے دوران امدادی ادارے مشرقی غوطہ میں پھنسے عام شہریوں تک امداد پہنچا سکتے ہیں۔ امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ مشرقی غوطہ کے علاقے میں اب بھی چار لاکھ سے زائد افراد پھنسے ہوئے ہیں جنہیں گزشتہ دو ہفتوں سے شامی حکومت کی شدید بمباری اور فضائی حملوں کا سامنا ہے۔