لندن// برطانوی وزیراعظم تھریسامے کے خلاف ان کی اپنی ہی جماعت کنزرویٹو پارٹی کی جانب سے پیش کی گئی عدم اعتماد کی تحریک ناکام ہوگئی۔ تھریسامے کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کے تحت کی گئی رائے شماری میں ان کے حق میں200 جبکہ ان کی مخالفت میں 117 ووٹ دیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق 63 ووٹ حاصل کرنے کے بعد آئندہ ایک سال تک تھریسامے کی قیادت کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ کنزرویٹو پارٹی کے 48 ارکین نے تھریسامے کی بریگزٹ پالیسی کو 2016 کے ریفرنڈم نتائج کے خلاف قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف عدم اعتماد تحریک کی درخواست دی تھی۔ وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک 83 ووٹوں سے ناکام ہوئی، کنزرویٹو پارٹی کے 63 فیصد اراکین نے تھریسامے کی حمایت میں اور 37 فیصد نے ان کی مخالفت میں ووٹ دیے۔ عدم اعتماد کی تحریک پر رائے شماری کے نتائج کے بعد تھریسامے کا کہنا تھا کہ وہ یورپی یونین کے اجلاس میں بریگزٹ معاہدے میں تبدیلی کی کوشش کریں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ آج ہونے والی رائے شماری میں اپنے ساتھیوں کی حمایت پر خوش ہوں ‘۔ تھریسا مے کا کہنا تھا کہ ’میں اس حمایت کے لیے شکر گزار ہوں، جن اراکین نے میرے خلاف ووٹنگ کی ان کے تحفظات کو سننا ہے‘، دوسری جانب تھریسا مے کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا مطالبہ کرنے والے پارٹی رکن جیکب ریز کا کہنا تھا کہ پارٹی وزرا کے تیسرے حصے کی حمایت سے محروم ہونا ’وزیراعظم کے لیے ہولناک ہے‘۔ جیکب ریز نے تھریسا مے کے استعفیٰ کا مطالبہ ایک مرتبہ پھر دہرایا۔ بریگزٹ کے حمایتی کنزرویٹو رہنما مارک فرانکوس نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ خطرناک بات ہے کہ حکومت میں شمولیت نہ رکھنے والے نصف سے زائد اراکین نے وزیراعظم کا ساتھ چھوڑ دیا‘۔ انہوں نے کہا کہ 117 اراکین کی مخالفت اہم ہے جو کسی پیش گوئی سے کہیں زیادہ ہے، اب وزیراعظم کو آئندہ لائحہ عمل کے مطابق دھیان سے سوچنے کی ضرورت ہے‘۔ دوسری جانب لیبر پارٹی کے رہنما جیرمی کوربین نے کہا کہ ’اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے سے کچھ نہیں بدلا‘۔ انہوں نے کہا کہ ’ تھریسا مے پارلیمنٹ میں اکثریت کھوچکی ہیں، ان کی حکومت افرا تفری کا شکا ر ہے اور وہ ملک کے لیے بریگزٹ معاہدہ پیش کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ گزشتہ روز برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے نے اپنی جماعت کنزرویٹو پارٹی میں بریگزٹ کے حامیوں کی جانب سے عدم اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ آئندہ انتخابات سے قبل استعفیٰ دے دیں گی۔